واقعہ کربلا کا درست تجزیہ ،لیکن کیسے؟۔۔۔عابدہ عباس

واقعہ کربلا کی درست تفہیم کے لیے اِس کا پس منظر، سیاق و سباق جاننا ضروری ہے۔ ہمارے بہت سے علم دوست احباب اِس واقعہ کا تجزیہ محض 61 ہجری کے محرم سے کرتے ہیں، وہ پہلے یزید کو مسلمانوں کا جائز اور حق دار خلیفہ مان کر واقعہ کربلا کی توجیہ کرنے میں خطا کا شکار ہو جایا کرتے ہیں۔

میں محض چند نکات کی طرف اشارہ کروں گی:
* نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد، خلافت و جانشینی کا اختلاف ہوا۔ چند افراد نے پہلے خلیفہ کو چُنا۔ پہلے خلیفے کا چناؤ نہ تو مکمل جمہوری تھا نہ ہی مکمل آمرانہ، بلکہ پہلے سے رائج قبائلی نظام کی مدد سے پہلے خلیفہ کو اُن طاقتوں نے نامزد کیا جنھوں نے بعد میں زمامِ اقتدار ہاتھ میں لی۔ (یہی واقعیت ہے)۔
* پہلے خلیفہ کے چناؤ کے موقع پر جہاں ایک طرف یہ دعویٰ پیش کیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا کوئی جانشین نامزد نہیں کیا؛ وہیں انصار کو یہ حدیث بطور دلیل پیش کی گئی کہ “الائمۃ من قریش” کہ خلیفہ مہاجرین میں سے ہوگا۔ گویا ایک طرف یہ کہا گیا کہ خلافت کا معاملہ شورائی ہے تو دوسری طرف “حدیث” کا سہارا لیا گیا۔ شاید یہ سب “طے شدہ نتائج” حاصل کرنے کی حکمت عملی تھی۔
* ابتدائی تینوں خلیفوں کے چناؤ کا طریقہ، مختلف رہا۔ یہ چناؤ ہر بار ایسا تھا کہ طے شدہ نتیجہ حاصل ہو۔ اہلِ سنت کے مجموعہ احادیث میں “کتاب الفضائل” کو دیکھا جائے تو بخوبی سجھا جا سکتا ہے کہ خلافت کو “شورائی” کہہ کر بھی، اُسی نظریے کو عملی طور پر اپنایا گیا جو اُن کے ہاں وفاتِ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد، پروان چڑھا۔ صحیح بخاری کو ہی دیکھیں تو عبداللہ بن عمر اور دیگر بعض صحابہ سے ایسی روایات ملتی ہیں کہ ہم زمانہِ نبی میں لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر کو، پھر عمر کو اور پھر عثمان کو جانتے تھے۔
* جاحظ کی کتاب “العثمانیۃ” کے مطابق، ابتدائی اہلِ سنت، حضرت علی کو خلیفہ راشد نہ مانتے تھے۔ اہلِ سنت کا ذخیرہ احادیث دیکھنے سے یہی تاثر سامنے آتا ہے۔ اِن کتب کی “کتاب الفضائل” دیکھیے تو مشترکہ فضائل پہلے تین خلیفوں کے ہی ملتے ہیں۔ اُن میں حضرت علی کا تذکرہ نہیں ہے۔ مثلاً ایسی بہت سی روایاتِ فضائل ملیں گی جن میں پہلے تین خلفا کا نام، ترتیبِ خلافت سے مذکور ہوگا؛ تاہم امام علی کا نام نہ ہوگا۔
* اب آتے ہیں واقعہ کربلا کی طرف، اس کا عملی آغاز، شام میں اموی گورنر کی، عہدِ مرتضوی میں، بغاوت سے ہوتا ہے۔ جہاں اہلِ سنت کے ہاں، خلیفہ کو واجب الاطاعت جانا جاتا ہے، اُس رُو سے امام علی کی اطاعت لازم تھی؛ تاہم اموی گورنر کو یہاں رعایت دے دی گئی۔ شامی گورنر کو تاریخِ اسلام اور کتبِ حدیث و کلام میں باغی ہی لکھا گیا ہے؛ تاہم اُس بغاوت کو “خطا اجتہادی” کا نام دیا گیا ہے۔
* کتبِ تاریخ کا دقیق مطالعہ کرنے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ، عہدِ رسالت کے بعد کی “خلافتِ راشدہ” میں، بنی اُمیہ کو سیاسی رشوت کے طور پر شام کی گورنری دی گئی۔ شام میں پہلے ہی سے بنی امیہ کے لیے نرم گوشہ اور ایک طرح سے عصبیت موجود تھی۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے خلیفہ نے بنی اُمیہ کو مسلسل، شام کی گورنری دیئے رکھی۔ مسئلہ تب خراب ہوا جب صحیح شورائی، جمہوری خلیفہ امام علی نے اِس گورنر کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا جو ہر خلیفہ کے دور میں اقتدار کا مزا لوٹ رہا تھا، جس کا طرزِ حکمرانی ملوک سے مشابہہ تھا۔
* شام کے اِس اموی گورنر کو جب اقتدار سے ہٹائے جانے کا خوف لاحق ہوا تو اُس نے خلیفہ کے خلاف اعلانیہ بغاوت شروع کردی، یُوں جنگِ صفین ہوئی۔ احادیث میں اِس جنگ کے اشارے ملتے ہیں۔ امام بخاری کی جمع کردہ روایات کی رُو سے، شامی باغی جمعیت، داعی الیٰ النار، جہنم کی طرف بُلانے والی تھی۔ حدیثِ عمار جسے اہلِ سنت کے ہاں متواتر جانا جاتا ہے، میں ہے کہ اے عمار! تجھے ایک باغی گروہ قتل کرے گا، تُم انھیں جنت کی طرف جبکہ وہ جہنم کی طرف بلائیں گے۔ محدثینِ اہلِ سنت نے “باغی گروہ” اہلِ شام کو قرار دیا ہے جن کا سربراہ امیرِ شام معاویہ تھا۔ بخاری کی بنیادی شروح، بشمول فتح الباری میں ایسا ہی ملے گا۔
* باغی گورنر نے امام علیؑ کی شہادت کے بعد، امام حسنؑ کے ساتھ اقتدار کے معاملے میں صلح کی،یُوں مشروط طور پر باغی گورنر کو اقتدار مل گیا؛ تاہم اُس نے ایک شرط کا بھی خیال نہ رکھا۔ اِن شرائط میں درج تھا کہ معاویہ اپنے بعد کسی کو حکمران نامزد نہ کرے گا؛ تاہم “وعدے قرآن و حدیث تو نہیں ہوتے” کہہ کر اپنے ناصالح خلف، یزید کو جانشین قرار دے دیا گیا۔
* بنی امیہ کو مکمل اقتدار کی منتقلی، مشروط تھی،شرائط کا معاویہ نے پاس نہ رکھا۔ اُس پر مستزاد یہ کہ اِن شرائط کے برخلاف، مسلمانوں سے مشورے کیے بغیر، اپنے ناصالح بیٹے کو مسلط کردیا، جس کی اُمت کے بڑے بڑے افراد نے مخالفت کی۔
(اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے معاویہ اور اُس کے خاندان کو اسلامی لٹریچر میں “طلقا” کہا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ایک گروہ کے مطابق “طلقا” کا حکمران بننا جائز نہ تھا۔)
* یزید کی نامزدگی، ولی عہدی کا آغاز ہی وعدہ خلافی سے ہوا تھا۔ ایسے میں اُس نے سبھی سے اپنی بیعت بزور طاقت لینے کا فیصلہ کیا۔ اپنے مدینہ کے اُموی گورنر کو لکھا کہ جلدی سے حُسین بن علی سے بیعت لے لو، گویا وہ اپنی حکومت کی امام سے توثیق چاہتا تھا۔ امام عالی مقام نے بیعت سے انکار کیا، یوں تحریکِ کربلا کا آغاز ہوا۔۔۔
(بنی اُمیہ کی اقتدار کے لیے چالوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا ضروری ہے۔ بظاہر تیسرے خلیفہ کے قتل، چوتھے خلیفہ کے قتل اور پانچویں خلیفہ حضرت حسنؑ کو زہر دینے میں اُموی حکمرانوں کا ہی کردار تھا۔ حضرت عثمان کے متعلق لوگوں کو مشتعل کرنے میں مروان پیش پیش رہا، لیکن جیسے ہی حضرت کو قتل کیا جانے لگا، وہ موقع سے بھاگ گیا۔ اموی حکمرانوں کے آخری مظالم میں مدینہ اور مکہ کی تاراجی بھی شامل ہے۔)
* خلیفہ راشد کے خلاف بغاوت کر کے پھر مشروط طور پر اقتدار ہاتھ میں لے کر شرائط سے انحراف کرکے، یزید کو ولی عہد بنانا گیا۔ جبری بیعت لی جاتی رہی۔ یہ سب ذہن میں رکھ کر اب واقعہ کربلا کا درست تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *