سائیڈ افیکٹ ۔۔۔ مدیحہ الیاس

ایک ادھیڑ عمر، وقتا فوقتا کھانسی سے گلے کی خراش دور کرتے ھوئے، ہاتھ میں اسٹائل سے تھامے دھواں چھوڑتی ہوئی کاغذ کی پائپ لیے باغ جناح کے پرسکون کونے میں لکڑی کے بنچ پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھے بابا جی کسی پرانی دھواں چھوڑتی ریل گاڑی سے کم نہیں لگ رہے تھے۔ بڑھاپے کے نو مولود آثار کی نمائندہ چند جھریاں بابا جی کے بے رونق چہرے کی رونق بڑھانے میں کافی معاون ثابت ہو رہی تھی۔ باغ جناح کے دل افروز مناظر بابا جی کے لبوں پہ گاہ بگاہے مسکان بکھیرنے میں سرخرو کامل تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے آج اولڈ ہاؤس سے فرار حاصل کرکے دنیا جہاں کی خوشیاں اپنے ساتھ بنچ پہ بٹھائے تنہائی کو مات دے رہے ہوں۔

میرے دل میں بابا جی کےلئے ہمدردی کے دریا امڈ آئے۔ سوچا بابا دکھنے میں تو ہنڈسم ینگ اولڈ مین لگتے ہیں، خوامخواہ زندگی سے بیزار ہو کے سوٹے بازی پہ اتر آئے ہوں گے کہ ویسے تو خودکشی حرام ہے, اس سلو پوائزن کے ذریعے ہی جان, جان آفرین کرکے زندگی سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ نہیں, میں بابا جی کو یہ گھناؤنا کام نہیں کرنے دوں گی۔ ہمت کے پل باندھتے ہوئے بابا جی کے پاس گئی۔ سلام کیا اور اکیلے بیٹھنے کی وجہ دریافت کی۔ جس پر انہوں نے بہت سٹائل سے بتایاکہ آج سنڈے آف تھا, سو ریلکس ھونے آیا ہوں۔ او-آئی-سی، میں نے دل میں سوچ۔ انگریزیاں..!

“آپ کیا کام کرتے ہیں؟” اپنا پہلا انکشاف غلط ہو جانے کی شرمندگی کو چھپاتے ہوئے میں نے دوسرا سوال داغ دیا۔

“جی میں پروفیسر ہوں!”

اس عمر میں بھی پڑھا رہے ہیں؟ میں نے خود کلامی کی۔

“سر آپ کی فیملی کہاں ہوتی ہے؟”

جواب میری توقعات سے بلکل برعکس تھا۔

“جی وہ میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔ میرا بیٹا اور بیگم۔ مگر آپ یہ سب کیوں پوچھ رہی ہیں؟”

میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ میرے سب انکشافات ایک ایک کر کے غلط ثابت ہو رہے تھے۔

“آ.. آپ.. کب سے یہ سگریٹ پی رہے ہیں؟” میں نے ڈرتے ہوئے اور جھجکتے ہوئے پوچھا۔

“آپ کون ہیں؟” بابا جی بھی میری بونگیوں پہ جھنجھلا اٹھے۔

“جی.. میں…. میں میڈیکل سٹوڈنٹ ہوں۔ سموکرز اور نان سموکرز پر ریسرچ کر رہی ہوں۔” میں نے پیچیدہ حالات پہ قابو پاتے ہوئے اپنا مصنوعی تعارف کرایا۔

“آہ اوکے.. بابا جی نے قاتلانہ سمائل دیتے ہوئے مزید بتایا کہ وہ سترہ برس سے روز کی ایک ڈبی پھونک دیتے ہیں۔

“وہاٹ؟” میری حیرت عروج پہ تھی۔

“آپ کو اس سے کبھی کوئی نقصان نہیں ہوا؟”

بابا جی کے بلند قہقہے سےدرخت پہ بیٹھے معصوم پرندے مارے خوف کے منتشر ہو چکے تھے۔

“نو میم, ناٹ ایٹ آل۔ لک، آئی ایم فٹ اینڈ ہیلدی”

بابا جی کی زندگی سے بھرپور ہنسی نے میرے ذہن سے سموکنگ کے تمام سائڈ افیکٹس کو یوں اڑا دیا جیسے خودکش حملہ کے بعد حملہ آور کے پرخچے اڑ جاتے ہیں بکواس کرتے ہیں یہ انگریز۔ کوئی نقصان نہیں ہے سگریٹ نوشی کا۔ یہ مضر صحت نہیں۔ ضروریِ صحت ہے اور بابا جی اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

دل میں ایک سوٹا لگانے کی ننھی خواہش کو دباتے ہوئے سوچا اور ماشااللہ کہتے ہوئے گفتگو آگے بڑھائی۔

“آپ کی عمر کتنی ہے.؟” میں نے ایک اور بے باک سوال کیا۔

“آئی ایم جسٹ تھرٹی ایٹ۔ لگتا نہیں ہوں ناں؟ ینگ بوائے لگتا ھوں ناں؟”

گلے میں اٹکے خوف سے ششدر الفاظ حیرت سے کھل جانے والے منہ کے ذریعے باہر آنے کی جسارت کا سوچ کر ہی کانپنا شروع ہو گئے تھے۔ تھر تھراتی آواز میں اس “اولڈ لکنگ ینگ مین” کو تھینک یو بولا اور لائبریری سے دیر ہونے کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

Avatar
ڈاکٹر مدیحہ الیاس
الفاظ کے قیمتی موتیوں سے بنے گہنوں کی نمائش میں پر ستائش جوہرشناس نگاہوں کو خوش آمدید .... 🙂

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *