امن کے فروغ میں ہمارا انفرادی کردار۔۔سحرش کنول

انسان بیک وقت دو جنگیں لڑ رہا ہوتا ہے ایک خود سے یعنی اپنے اندر کے جذبات، احساسات، خواہشات اور کمزوریوں کے ساتھ، جب کہ  دوسری معاشرے اور دنیا کے ساتھ ۔
کہنے کو تو یہ (امن )تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن  اس کے اندر ایک جہان  آباد ہے۔ گویا ایک گہرا سمندر اور اس میں موجود ہزاروں لہریں اپنا توازن ایک سمت میں لیے ہوئے، اور پھر کنارے  پر  کھڑا شخص   اس سمندر سے جتنا مرضی پانی اٹھالے تو کوئی کمی نہیں آئے گی۔ لیکن اگر وه ایک پتھر اٹھائے اور اسے سمندر میں پھینک دے تو بڑا واضح فرق نظر آئے گا۔

امن کی مثال بالکل اس سمندر جیسی ہے ،جس سےجتنا مرضی استفادہ حاصل کرو لیکن اگر اس میں کوئی بھی اونچ نیچ کی جائے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جب ہم امن کی بقا میں اپنے انفرادی کردار پر نظر ثانی کریں تو مندرجہ زیل چیزیں مثبت ثابت ہو سکتی ہے۔ زبان کا درست  استعمال، عقل سے کام لینا، سب کو برابری اور عزت کی نگاہ سے دیکھنا، انصاف قائم کرنا، دھوکا، فراڈ، جھوٹ،چوری سے پرہیز کرنا اور اگر معاشرتی حقوق پہ نظرڈالیے تو آزادی، عدل و انصاف، عزت، مساوات ، معیاری تعلیم اور تربیت ہیں ۔ امن دراصل عدل و انصاف سے ملنے والا پھل ہے

امن کا    سفر 1945 میں شروع ہوا جب اقوام متحدہ بنی اور اس میں UN سیکورٹی کونسل کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ جنرل اسمبلی اور سیکریٹری جنرل کا اس میں اہم اور نمایا کردار ہے جو عالمی سطح پہ امن کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ اس بات سے انکار نہیں کہ  دنیا امن کی بقا کے لئے مختلف اقدمات اٹھاتی رہی ہے اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں لیکن امن کی بقا میں ہمارا انفرادی کردار کیا ہے ہم اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد میں رہتے ہوئے امن کو کیسے قائم کر سکتے ہیں؟ انسانیت کی خدمت کیسے کر سکتے ہیں تمام تر اختلافات کو بھلا کر ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ محض ایک سوال ہے؟
نہیں بلکہ ایسا ہم کر سکتے ہیں ہم پھر سے ایک ہو سکتے ہیں، انسان بن سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟ ہم ایک دوسرےکے ساتھ پیار محبت سے پیش آئیں ایک دوسرے کی عزت کریں ایک دوسرے کو سمجھیں ایک دوسرے کو اہمیت دیں اور قدر کریں اور پھر یہ کہ سوسائٹی میں مل جل کر رہیں۔

حقیقت میں یہ طاقت ہے مگر افسوس ہمیں اس کی سمجھ کہاں کون کس کو سمجھے یہیں تو لوگ خود کو نہیں سمجھتے اور نکل پڑتےہیں دوسروں کو سمجھانے خود کو جانتے نہیں دوسروں کو بخوبی جانتے ہیں بقول انور مسعود ہمارے معاشرے میں لوگوں کو یہ نہیں پتا کہ ہمساے کے پاس کهانے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بھوکے سو رہے ہیں مگر یہ ضرور پتا ہوتا ہے کی ہمسایہ کی بیوی اور بیٹی کیا کررہےہیں کہاں جا رہے ہیں۔ جی ہاں یہی رویہ ہے ہمارا اور کیوں نہ ہو ہم بچپن سے اب تک یہی تو دیکھتے آئے ہیں کیا ایسا نہیں ہے ؟؟ اس کا حل کیا ہے ؟ اس کا حل صرف سوچ میں تبدیلی سے ممکن ہے۔ تعلیم ،تربیت اورمثبت سوچ ہی اس روایت کو ختم کر سکتی ہے ہم سب اس معاشرے کا حصہ ہیں بجائے ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے کے ہم خود پہ غور کریں اپنے رویہ پہ نظر ثانی کریں۔ اگر ہم خود کو ٹھیک کریں اور مثبت سوچ ترقی پسند سوچ رکھیں اور اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، اپنا کام خود ایمان داری سے کریں تو یقین جاننے معاشرے میں تبدیلی آئے گی امن قائم رہے گا، ترقی ہوگی ،خوش حالی آئے گی۔ آئیے ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم امن کی راہ میں اپنا کردار ادا کریں اور محب وطن ہونے کا ثبوت دیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *