سنگدل۔۔۔عنبر عابر

جب وہ چھوٹی تھی تو اکثر مجھ سے پوچھا کرتی۔۔۔۔
“عنبر! تمہیں کیا پسند ہے؟“ تب میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا،اس کی نگاہیں یوں بوجھل سی ہوتیں کہ مجھے ڈر سا محسوس ہوتا۔۔۔وہ جب بھی مجھ سے یہ سوال پوچھتی،آواز کا آہنگ ہمیشہ یکساں رہتا،لہجے کا اتار چڑھاؤ اور چہرے کے تاثرات ہمیشہ وہی ہوتے جیسے پہلے پہل اس سوال کے دوران تھے۔۔۔تب میں نہیں جانتا تھا کہ یہ پوچھنے کیلئے وہ ایک خاص کیفیت خود پر طاری کردیتی۔ایک ایسی کیفیت کہ مجھے لگتا میں جو کہوں گا وہ کر گزرے گی۔۔۔مجھے ڈر سا محسوس ہوتا۔۔۔

میں ہمیشہ کی طرح کہتا۔”کھانے میں آم اور کھیلنے میں فٹبال،اچھا تم بتاؤ تمہیں کیا پسند ہے؟“ اس کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔۔۔وہ کچھ کہنے کیلئے منہ کھولتی۔لبوں پر کچھ الفاظ آتے آتے رہ جاتے۔۔شاید لفظ ڈر جاتے۔۔آس پاس والوں سے۔۔۔گھر کی چار دیواری سے۔۔۔رشتوں سے۔۔۔

وہ مسکرادیتی۔۔۔۔اور میرے بال بکھیر کر بھاگ جاتی۔یہ اس کی دیرینہ عادت تھی۔۔۔ہمیشہ میرے بال بے ترتیب کرتی۔۔۔شام کو جب میں سبق پڑھنے کیلئے بستہ کھولتا تو وہاں ایک آم رکھا ہوتا،جس کی گٹھلی میں پائیں باغ میں دفن کردیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب وہ بڑی ہوئی تو اس نے پردے کی اوٹ سے پوچھا۔۔
“عنبر تمہیں کیا پسند ہے؟“ اب کے آواز کا آہنگ بدلا ہوا تھا۔۔۔ایک گھمبیر تا تھی اس آواز میں۔۔شاید شعور نے اس آواز کو وقت کے دبے پاؤں سرکنے سے آگاہ کردیا تھا،ایک بے چین سی آواز،مضطرب اور بے قراری سے پہلو بدلتے الفاظ۔۔۔
میں نے بے ساختہ کہہ دیا۔۔۔۔
“کھانے میں آم۔۔۔۔اور کھیلنے میں فٹبال۔۔تم بتاؤ تمہیں کیا پسند ہے؟“
پردے کے پار خاموشی چھا گئی۔۔۔ایک سنگین خاموشی۔۔۔اب تو آس پاس والوں کے ساتھ،گھر کی چار دیواری کے ساتھ،رشتوں کے ساتھ پردے کے آہنی کپڑے بھی حائل تھے۔
شام کو میرے سرہانے ایک آم رکھا تھا جس کی گٹھلی میں نے پائیں باغ میں دبا دی۔۔۔اس دن ایک کمی سی محسوس ہوئی تھی۔۔اس نے میرے بالوں کو بے ترتیب نہیں کیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس دن میری کزن کی شادی ہورہی تھی،میں اس کے پاس گیا تھا،اسے مبارکباد دی تھی۔۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ رہی تھی،میرا دل بھی مطمئن ہوگیا۔۔۔وہ خوش تھی۔۔۔
اس دن میں نے پہل کی۔۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔
“آج تو بتا دو تمہیں کیا پسند ہے؟“
اس نے پہلے میری طرف دیکھا۔۔۔۔میری نگاہوں میں جھانکا۔۔۔پھر اس کی آواز ابھری۔۔۔ایک ایسی آواز جس میں کسی قسم کا ڈر نہیں تھا۔۔یوں لگا جیسے جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔۔۔
وہ دھیرے سے لیکن مستحکم لہجے میں بولی
“تمہارے بھورے بال اور تمہاری قاتل نگاہیں۔۔اب تم بتاؤ تمہیں کیا پسند ہے؟“
اس کے ہونٹ لرز رہے تھے۔۔چھوٹی ناک سرخ ہوگئی تھی۔۔
میں زہریلے لہجے میں بولا
“کھانے میں زخم اور کھیلنے میں دل“
اس کی پُر امید نگاہیں ان بادلوں جیسی ہوگئی تھیں جن کے پاس برسنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا!!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *