گوشت۔۔۔وہارا امباکر

کوئی بھی پرائمیٹ گوشت خور نہیں۔ چمپینزی کچھ گرام دیمک یا کبھی کبھار کسی چھوٹے جانور کو ہڑپ کر جاتے ہیں لیکن زیادہ چربی یا کولیسٹرول والی خوراک انکی صحت تباہ کر دیتی ہے۔ پنجرے میں بند ایسے پرائمیٹ جن کو دودھ یا گوشت تک رسائی ہو، ان کا کولیسٹرول لیول 300 تک پہنچ جاتا ہے اور ان کی شریانیں بند کر دیتا ہے۔ کسی وقت میں انسان نما کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہو گا۔ اگر آج ہم دنیا بھر میں انسانوں کو دیکھیں تو وہ گوشت کا کوئی ذریعہ چھوڑتے ہی نہیں۔

اونٹ، بھینس، گائے، بھیڑ بکری، گھوڑے، گدھے، یاک، امپالا، الپاکا، لامہ، بائزن، کتے، ہرن، بارہ سنگے، خرگوش، مینڈک، گوہ، کینگرو، مرغابی، تیتر، کبوتر، شترمرغ، مرغی، ٹرکی، بطخ، رہو مچھلی، ٹراوٗٹ، ٹیونا، سالمن، جھینگے، کیکڑے، آئسٹر، گھونگے، جھینگر، ٹڈیاں، مکڑیاں، کچھوے، مگرمچھ۔۔۔ سمندر، دریا، میدان، جنگل، صحرا، ہر جگہ پر پائے جانے واے چھوٹے سے بڑے تک ہر جانور ہڑپ کرتے رہے ہیں۔

یہ فرق کیوں؟ اس کا جواب ڈی این اے میں ہے۔ انسان کی اپیولوپوپروٹین ای جین میں دو اہم میوٹیشنز ہوئیں۔ یہ “گوشت خور” جین کی سب سے اہم امیدوار ہے (واحد نہیں)۔ پہلی میوٹیشن نے خون میں پائے جانے والے قاتل خلیوں کی کارکردگی میں اضافہ کر دیا۔ یہ ان جراثیم کا شکار کر سکتے ہیں جو کچے گوشت میں پائے جاتے ہیں، اس کی وجہ سے ہم کرونک سوجن سے بھی محفوظ رہتے ہیں، جو اس وقت ہو سکتا ہے اگر اس گوشت سے داخل ہونے والی انفیکشن صاف نہ ہو۔ بدقسمتی سے اس نے مختصر مدت کے فائدے کے لئے طویل مدت صحت کو گروی رکھ دیا۔ یعنی گوشت تو کھایا جا سکتا تھا لیکن شریانوں پر جمنے والا کولسٹرول ۔۔۔۔۔

ایک اور دوسری بڑی اہم میوٹیشن دو لاکھ بیس ہزار سال پہلے ہوئی۔ اس کی وجہ سے فیٹ اور کولسٹرول کو توڑنا ممکن ہوا اور وقت سے پہلے کی علالت سے چھٹکارا مل گیا۔ اس کے ساتھ اس میوٹیشن کی وجہ سے غذا کے زہریلے مادوں کی جسم سے صفائی ممکن ہوئی۔ اس سے خلیے زیادہ فٹ ہوئے۔ ہڈیاں زیادہ مضبوط اور ان کا ٹوٹنا مشکل ہو گیا۔ یہ بھی قبل از موت کے خلاف ایک بچاوٗ تھا۔ اگرچہ یہ پروٹوہیومن ہر طرح کی خوراک کھاتے تھے لیکن ان کی زندگی پھل کھانے والے دوسرے پرائمیٹ کے مقابلے میں دگنی ہو گئی تھی۔

اس کے علاوہ چند ایک نکات۔ آرکیولوجیکل شواہد اور ہڈیوں پر نشانوں سے پتا لگتا ہے کہ یہ انسان نما اپنی خوراک میں گوشت کا استعمال اس میوٹیشن سے پہلے کیا کرتے تھے۔ پچیس لاکھ سال پہلے بھی اس کے شواہدات ملے ہیں۔ یعنی کئی لاکھ سال تک یا تو لاعلمی میں یہ گوشت کھاتے رہے کہ اس سے ان کو کیا نقصانات ہوں گے یا پھر گوشت کا استعمال کم رہا ہو گا یا پھر پتا ہونے کے باوجود گوشت استعمال کرتے رہے اور اس کو چھوڑ نہیں سکے۔

اس کے علاوہ آرکیولوجسٹ چار لاکھ سال قبل کے نیزے دیکھ چکے ہیں جن کی مدد سے شکار اپنے مسکن پر لایا جاتا رہا لیکن جب نیزے نہیں تھے؟ ہتھیاروں کا نہ ہونا اور اس جین سے آنے والی اینٹی مائیکروبیل خاصیت سے یہ پتا لگتا ہے کہ یہ پروٹوہیومن دوسرے جانوروں کے شکار کا انتظار کرتے ہوں اور پھر شکار کی لاش کو چھینتے ہوں گے یا پھر باقیات اڑاتے ہوں گے۔ ان کا شکاری ہونے کا تاثر درست نہیں۔

اسی طرح ہمارے ڈی این اے میں لکھی کہانیاں ہمیں اپنے ماضی کو دیکھنے کے لئے ایک نیا نکتہ نظر دے رہی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو ہاں، جب ہماری جینیات اور اس سے بنتی فزیولوجی میں گوشت کو کھانے اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت ہے (اگر اعتدال میں ہو رہے)، عید الاضحٰی کا دن ہے تو خود بھی کڑاہی، تکے، کباب، قورمہ کھائیے۔ (بس، یہ یاد رکھئے کہ معدہ اپنا ہی ہے)۔ عزیزوں کو کھلا کر دوستیاں، رشتہ داریاں اور تعلق مضبوط کریں۔ اور ساتھ میں ان کا ضرور خیال رکھیں جو پورا سال صرف اس موقع پر گوشت کھا سکتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *