تلخیاں:تعلیمی نظام یا ذہنی غلامی۔۔۔خلیل اللہ کَرکی/قسط2

دوسری قسم کی تعلیم کو گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں نے اپنایا۔ اس نظام میں طالب علم کو میٹرک تک انگریزی , اردو, ریاضی , سائنس اور اسلامیات بنیادی طور پر  پڑھائے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد طلبہ تین گروہ میں تقسیم ہو جاتے ہیں
١۔ جنرل , ٢۔ پری انجنیئرنگ , ٢ پری میڈیکل
اور یہ سلسلہ چلتا ہوا  پی ایچ ڈی  پر ختم ہوتا ہے۔ پہلے زمانے میں گورنمنٹ تعلیمی اداروں میں ذریعہ تعلیم “اردو” ہوا کرتی تھی اور پرائیویٹ ادارں میں “انگریزی”۔ لیکن آج تو حال یہ ہے,کہ خواہ حکومتی ادارہ ہو , پرائیویٹ ہو یا پھر نیم سرکاری ان تمام اداروں پر لازم ہے,کہ وہ اپنا ذریعہ تعلیم “انگریزی” بناۓ۔
ہم ایک آزاد قوم ہیں۔ قومی زبانوں کو ختم کر کے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانا, یہ قوم کی تمناؤں کے ساتھ ایک کھلواڑ ہے۔ یہ حقیقت ناقابل تردید ہے, کہ ایک طویل عرصے سے ہمارے پست معیار ِتعلیم کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب” انگریزی زبان میں مرتب کردہ نصاب” ہے۔ انگریزی زبان میں مسلط کردہ نظام میں دوسری خرابیوں کے ساتھ ایک بنیادی خرابی یہ بھی ہے , کہ اس میں اسلام کو زندگی کےتمام شعبوں سے کاٹ کرعبادتوں اور نجی زندگی کے چند معاملات تک محدود کر دیا گیا۔ اور اسلام کی ہمہ گیر حیثیت کو سرے سےختم کر کے “اسلامیات” کے ایک گھنٹے تک محدود کر دیا گیا۔ اسلام کی برتری کی لیے چند مجمل اور کھوکھلے الفاظ رٹنے سے اسلام کا مقصد کبھی حاصل نہیں ہوتا ہے۔ اور یہی مضمون اگر غیر تربیت یافتہ اساتذہ پڑھائیں تو بات ” کریلا نیم چڑھا” کے مصداق بن جاتی ہے۔
          ان پرائیویٹ اداروں کی آڑ میں یہاں اغیار نے  اپنے مقصد کے لیے مختلف قسم کے ادارے کھول لیے۔ اس میں ذرہ برابر شک وشبہہ اور تردید کی گنجائش نہیں , کہ پاکستان میں مشنری تعلیمی اور رفاہی ادارے درحقیقت مسیحی تبلیغی ادارے ہیں یا زیادہ بہتر الفاظ میں مسیحیت کی تبلیغ کےچور دروازے ہیں۔ عیسائی نہایت خاموش طریقے پر انتہائی سرگرمی کے ساتھ پاکستان میں عیسائیت کے بیج بو رہے ہیں۔ پورے صد سالہ برطانوی دورِاستعمار  میں برصغیر میں اتنی کامیابی کبھی ان اغیار کو نہیں حاصل نہیں ہوئی, جتنی ان چند سالوں میں مشنری اداروں کے ذریعے ہوئی۔ اپنے ان اداروں میں طلبہ کو براہ ِراست  مسیحیت کی دعوت دیتے ہیں۔ اور اپنی بات کو ایسے  خوشنما انداز میں پیش کرتے ہیں, کہ وہ طلبہ کے رگ وپے میں سرائیت کر جاتی ہے۔اور اس طرح وہ آسانی سے ان کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔
   ان اداروں سے ایسے مسلمان پیدا ہوتے ہیں , جو شمار تک محدود ہوتے ہیں۔ باقی نظریاتی طور پر وہ مرتد ہوچکے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم اپنے دین کے مسلمہ عقائد پر شکوک و شبہات کا بازار گرم کیے ہوتے ہیں۔ ان مشتبہہ مسلمانوں کو ” مغرب” اسکالرشب کے ذریعے یا بڑی بڑی ملازمتوں کے لیے اپنے ہاں بلاتے ہیں جہاں وہ اپنے باقی ماندہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ آج  بہ سہولت غیر اسلامی اجنبی نظریات کی قبولیت کی اصل وجہ ہمارا اپنی شناخت کھو دینا ہے۔ہم نظریاتی خلا ٕ میں داخل ہو چکے ہیں۔خالی گھروں پر جن بھوتوں کا قبضہ ہو جایا کرتا ہے۔ ہم مغرب کی غلامی میں بصد شوق جکڑے جا چکے ہیں۔ اگر ان ملکی یا غیر ملکی اداروں کو اس طرح خاموشی سے کام کرنے دیا جاۓ تو وہ دن دور نہیں, کہ مسیحی اقلیت ایسی اقلیت بن جائے گی, کہ اس نوزائیدہ خالص اسلامی مملکت کے لیے مستقل خطرہ اور دردِسر بن جائے  گا۔ اور پاکستان کا وہی حشر ہو گا جو ماضی میں لبنان, انڈونیشیا اور حال میں دبئی کا ہوا ہے۔
 یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس نظام تعلیم کے ذریعے سے ایک صدی تک ہم کوئی ماہر فن پیدا نہ کر سکے۔ انگریز کے  ذہن میں لمحہ بھر کے لیے بھی یہ بات نہیں  رہی کہ مسلمانوں میں نئے علوم کے اعلی درجے کے ماہرین پیدا کیے جائیں۔ خود اس نظام تعلیم کا بانی ” لارڈ میکالے” نے جو تاریخی یاداشت ١٨٥٣ ٕ میں چھوڑی  ہیں۔ اس میں اس  نظام تعلیم کے تمام مقاصد پوری صفائی بلکہ ڈھٹائی سے کھول کھول کر بیان کر دیے تھے، کہ مسلمانوں کو  سارے تہذیبی ورثوں کے بارے میں شدید احساس کمتری کا شکار بنا کر ان کے دلوں پر مغرب کی ہمہ گیر  بالادستی کا سکہ بٹھا دیا جاۓ۔ اور نئی نسل کو ہر ممکن طریقے سے یہ یقین کر لینے پر مجبور کر دیا جاۓ , کہ اگر دنیا میں ترقی اور سر بلندی چاہتے ہو تو اپنی فکر, اپنے فلسفے, اپنی تہذیب , اپنی معاشرت اور اپنے سارے ماضی پر ایک حقارت بھری نظر ڈال کر مغرب کے پیچھے پیچھے آؤ اور اپنی زندگی کا ہر راستہ اسی کے نقش قدم میں تلاش کرو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *