منبر و محراب کے ٹھیکیداروں کے نام۔۔عدیل عزیز

نماز عید کے بعد جیسے ہی قربانی کی تو مدارس و مذہبی جماعتوں کے بچے سائیکلوں پر نصرت دین اور اللہ کے مہمانوں کے واسطے کھالیں جمع کرنے آن پہنچے.. وہ گلی گلی صدا لگا رہے تھے اور اہل ایمان سے انہیں کھالیں دینے کی اپیل کر رہے تھے.

دوپہر کو آبائی قبرستان جانا ہوا تو راستے میں جگہ جگہ مزید مذہبی جماعتوں کے کھالیں اکھٹا کرنے کے کیمپ نظر آئے جن میں مدارس کے کم عمر طلبا موجود تھے.. جو عید کی خوشیوں سے بے نیاز ہوکر پوری جانفشانی سے کھالیں جمع کر رہے تھے. ان کے کپڑے خون آلود تھے اور چہرے پر حسرت عیاں تھی.. قبرستان سے واپسی پر نماز پڑھنے شہر کی معروف جامعہ گیا تو وہاں بھی یہی منظر دیکھا جبکہ دوسری جانب مدرسہ کے مہتمم صاحب کے بچے قیمتی پشاوری چپل پہنے نئے کپڑوں میں ملبوس نظر آئے یہ دیکھ کر دل بجھ گیا کہ ایسا کھلا تضاد کیوں.
مذہب کے ٹھیکداروں اور مدارس کے سر بکف و سربلند مہتمم حضرات سے اپیل ہے کہ

آپ نے دین اسلام اور ختم نبوت (ص) کا کام کرنا ہے ضرور کیجئے،اس کے لئے فطرانہ, صدقات, زکوۃ کے ساتھ قربانی کی کھالیں بھی جی بھر کے جمع کیجئے۔مگر ان سب کے لئے اپنی مسجد و مدرسے کے معصوم بچوں کو استعمال مت کیجئے۔

یہ وہ بچے ہیں جو دور دراز علاقوں سے اپنے والدین اور سب چھوڑ کر صرف دین سیکھنے آپ کے پاس آتے ہیں۔یہ معصوم بچے پہلے ہی پورا سال پڑھائی کے ساتھ ساتھ دن بھر  مدرسےکی صفائی کرتے ہیں،

معلم و مہتمم کی خدمت اور ان کے گھر کے کام بھی انہی معصوم ہاتھوں سے انجام پاتے ہیں۔یہ ننھے فرشتے ہر نماز سے پہلے صفوں کی درستی کرتے ہیں۔یہ مدرسہ کے باورچی خانہ میں بھی بلاناغہ ہاتھ بٹاتے ہیں اور روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے ہیں۔

یہ معصوم بچے جمعہ کے دن آپ کی مسجد کے لئے قطار در قطار جھولی پھیلا کر نمازیوں سے چندہ بھی اکھٹا کرتے ہیں۔یہی معصوم آپ کےجلسوں اور جلوسوں کی رونق اور تعداد تک بڑھانے کے کام آتے ہیں۔غرض ان بچوں کا پورا سال جہد مسلسل میں گزر جاتا ہے۔

یہ وہ بچے ہیں جو آج کے دور میں اصحاب صفہ (رض) کی یاد تازہ کرتے ہیں۔۔مگر کیا مہتمم حضرات بھی کردار نبوی (ص) نبھا رہے ہیں؟

اے مہتمموں اے امت کے سرخیلوں
کیاتمھیں نہیں معلوم کہ یہ بچے جنت کے پھول ہیں

کیا تم نے یہ فرمان نبوی(ص) نہیں پڑھا۔۔ یا فراموش کربیٹھے ہو،

“جو نرمی سے محروم ہے وہ تمام ہی خیر سے محروم ہے”
(مسلم: ۲۵۹۲ باب فضل الرفق)

ان بچوں کو خدارا عیدین کے دن معاف کردیا کیجئے۔

اگر مدرسہ میں قیام ضروری ہو تو ان پر عیدین پر خصوصی شفقت کیجئے۔

سنت صدیق اکبر (رض) کو نبھاتے ہوئے چاہے خود پرانے کپڑے زیب تن کریں مگر انہیں نئے کپڑے ضرور پہنائیں۔ان سے کوئی کام مت لیں ہوسکے تو انہیں سیر و تفریح بھی کروائیں اور لذیز پکوان کھلائیں۔کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم عیدین پر انہیں ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا کیجئے۔

صدقہ, فطرانہ اور کھالیں جمع کرنے کا کام اتنا ہی ضروری اور بقا کا مسئلہ ہو تو یہ کام آپ خود کیجئے۔مہتمم , علما اور شیوخ کی یہ کام کرنے میں گردن جھکتی ہو اور گردن کا سریہ نکلنے کا اندیشہ ہو۔تو کھالیں جمع کرنے کا کام غریب مسافر بچوں کے ساتھ اپنے بھانجوں, بھتیجوں اور اولاد سے بھی کروائیے۔اپنے “صاحبزادوں” کو بھی میدان میں لائیے ۔جب انہیں حبس میں دن بھر بغیر بجلی کے کیمپ میں بیٹھنا پڑے گا تو آپ کو احساس ہوگا۔جب وہ بوسکی کی قمیض پہنے خون آلود کھالیں اٹھائیں گے تو پھر یقیناً آپ تڑپیں گے،اگر یہی سب کرنا ہے تو اصول مساوات اپنائیے۔۔

یاد رکھیے۔۔
آپ ان پر کوئی احسان نہیں کرتے الٹا آپ کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔یہ بچے ہیں تو آپ ہیں۔۔ انہی ننھے فرشتوں کی وجہ سے آپ کا رزق وابستہ ہے۔انہی کی وجہ سے آپ کے اپنے بچے “نجی جامعات” میں پڑھتے اور عیش کرتے ہیں۔انہی کی برکت سے آپ کی مسجد, مدرسہ اور تنظیموں کے لئے وہ چندہ جمع ہوتا ہے جس کا کبھی آڈٹ نہیں ہوتا۔یہ بچے نہ صرف منبر و محراب کے وارث بلکہ دینی قیادت کا بھی مستقبل ہیں، خدارا ان کا بچپن چھین کر ان کے کردار میں وہ تلخی پیدا نہ ہونے دیں جو ان کی شخصیت کا جُز بن جائے۔

” فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْـرًا يَّرَهٝ
وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٝ ”

” پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا
اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہے وہ اس کو دیکھ لے گا ”

(سورۃ الزلزلۃ. آیت 8-7)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *