جب پالا پڑا قصاب سے۔۔۔۔ اے وسیم خٹک

سنا تھا کہ قصاب بہت زیادہ نخرے والے ہوتے ہیں ـ مگر اندازہ نہیں تھا، وہ تو جب اس بلا سے پالا پڑا تو پتہ چلا کہ یہ تو پورے اسسٹنٹ کمشنر ہوتے ہیں خاص کر بڑی عید کے موقع  پر قصاب کی ویلیو بہت بڑھ جاتی ہےـ اور یہ ڈپٹی کمشنر بن جاتے ہیں ،جو ٹھیک منہ  سے بات بھی نہیں کرتاـ ہمیں اس کا پتہ نہیں تھا کیونکہ لوگوں سے ہمارا پالا نہیں پڑا تھاـ کیونکہ ساری خریداری دادا جان یا والد کے ذمے ہوتی ـ، کبھی بازار سودا لانے گئے ہی نہیں، ـ شاپر ہاتھ میں پکڑنے سے ہماری جان جاتی تھی اور خود کو پسماندہ تصور کرتے تھے کہ ہم اور سودا سلف لائیں گے، ـ اس لئے دکانداروں اور قصاب سمیت دیگر لوگوں سے ہماری ڈیلنگ نہیں ہوتی تھی ـ کہ عید کے دنوں میں قصاب سے کیسے وقت لیا جاتا ہےـ کس طرح اُسے رام کیا جاتا ہےـ اس کی بات مانی جاتی ہےـ اور کب  قصاب سے وقت لیا جاتا ہے،ـ ہمارے ماموں صاحبان اور والد چھوٹی عید سے ہی بکنگ کرتے تھے کہ بڑی عید پر نماز کے بعد کی چائے ہمارے گھر ہوگی، ـ سوچتے تھے کیا قصاب کے گھر میں بڑی عید کو چائے نہیں بنتی ،کیا جو ہمارے بڑے اسے چائے کی آفر کرتے ـ کیونکہ معصوم ہوا  کرتے تھے، دادا اور ناناجان سے بھی جب کبھی کوئی پولیس یا وکیل صاحب چائے پانی کا کہتے تو پریشان ہوجاتے کہ یہ چائے تو ٹھیک ہے چائے کے ساتھ پانی کیوں مانگا  جاتا  ہے ـ مگر جب تھوڑے بڑے ہوئے تو سب سمجھ آتا گیا کہ یہ الفاظ کی ہیر پیر ہے ان کے معنی الگ ہیں۔

ـ قصاب کے حوالے سے دادا جان کہا کرتے تھے کہ اس سے تعلق ٹھیک رکھو، ہر وقت سلام کرتے رہا کرو ـ یہ بڑے کام کے بندے ہوتے ہیں ،ـ پولیس وکیل، پٹواری اور بہت سے لوگوں کے بارے کہا جاتا تھاـ اور ہم ان کو وقت بے وقت سیلوٹ مارا کرتے تھےـ جس سے وہ سمجھتے کہ یہ بڑا فرمانبردار بچہ ہےـ پتہ نہیں تھا کہ بڑوں کے حکم کی تعمیل کی جارہی ہےـ ایک دن بڑی عید پر قصاب کا انتظار ہورہا تھا ـ جو گائے لی گئی تھی وہ بڑی ظالم شے تھی تین دفعہ بھاگ چکی تھی ـ مشکل سے پکڑ کر لائے تھے ـ مگر عین عید کے دن نماز کے بعد بڑوں کو پریشان دیکھا تو بھانپ گئے کہ مسئلہ فیثاغورث سے بھی بڑا ہے ـ اور واقعی میں ایسا تھا کیونکہ قصاب سے ہمارے ایک بڑے کی تو تو میں میں ایک دن گوشت لیتے وقت ہوئی تھی ـ، جس کے بعد قصاب نے اپنا کینہ نکال لیا تھا اور آنے سے انکار کردیا تھا،ـ سب قربانی کرچکے تھے جبکہ ہماری گائے صاحبہ ہماری بے حسی پر ہنس رہی تھی ،پھر دیکھا کہ ماموں چچا اور والد صاحب نے کزن کے ساتھ ملکر ایک منصوبہ بندی کی کہ کیوں نا خود ذبح  کی جائے کیونکہ اللہ اس سے بہت خوش ہوتا ہے ـ اور پھر ایک دھینگا مشتی شروع ہوئی جس میں کئی چوٹیں آئیں، ایک گائے دس بارہ بندوں پر بھاری تھی ـ مگر گائے تھک چکی تھی اور پھر گائے چھری کے نیچے آگئی ـ، کئی لوگوں نے کہا کہ صحیح جگہ چھری نہیں پھیری گئی ہے، ـ خیر جتنے   منہ اتنی باتیں تھیں ـ مگر قربانی ہوگئی تھی ،ـ گھر میں کئی نے کہا کہ گوشت کا مزہ نہیں ہے کیونکہ ذبح  اناڑی لوگوں نے کیا ہےـ یہ مردار نہ ہوـ خیر پھر وقتاً  فوقتاً  جب قصاب نہ ہوتا کوئی نہ کوئی چھری ہاتھ میں لے کر ذبح  کرلیتا ـ اور کام چل جاتاـ ۔

جب بڑے ہوئے اور ہمارے ذمہ وہ کام آگیا تو ہمیں دن میں تارے نظر آتے گئے،ـ لوگوں سے خاص کر گاؤں کے قصاب صاحبان سے ڈیلنگ کیسے کی جاتی ہےـ معلوم نہیں تھاـ، کبھی گوشت لیا تو باسی گوشت دیکھ کر لڑ پڑےـ اور خونخوار نظروں سے دیکھا کہ جا کر کہیں اور سے خرید لو پھر دوسرے دکان پر بھی وہی غصے کی تلوار بھری نظر ہوتی اور دال سبزی لے کر ہی گھر کو پلٹتےـ ،کئی عید قربان پر قصابوں کی منتیں کی کہ ہماری قربانی پہلے کرو کیونکہ اللہ میاں انتظار کر رہا ہے کہ کب ہماری قربانی اوپر جائے گی اور ہماری بخشش ہوگی ـویسے گناہ گار ہیں ـ اللہ کو راضی کرنا ہے کہ گاؤں میں سب سے پہلے ہماری  قربانی جائے، مگر یہ خواہش ہماری اب تک پوری نہیں ہوئی ہےـ اور ہماری قربانی اسوقت ہوتی ہے جب سب گوشت ڈکار چکے ہوتے ہیں، ـ عید کے دن ہماری پھنے خانی ہوا ہوجاتی ہے، ـ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی قصہ تھا ـ ایک دوست نما قصاب جو ہر فن مولا ہے سے بات ہوئی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوئےـ مرغے کی ایک ٹانگ والی بات پر کاربند تھے کہ بارہ بجے کے بعد ایک بجے سے پہلے ہماری چائے اپ کے پاس ہوگی بہت منتوں کے بعد بھی نہیں مانے تو کہیں اور سے جگاڑ چلائی وہاں دس سے گیارہ کا وقت ملاـ پھر سوچا کہ خود ہی حلال کرتے ہیں مگر تب خیال آیا کہ زندگی میں مرغی ذبح نہیں کی اب بکرا کیسے ذبح کریں گے، ـ جب سب کو آئیڈیا دیاتو سب نے منہ دوسری طرف  پھیر لیے، مطلب کہ ہم اس فیور میں نہیں ہیں ـ مگر پھر ایک قصاب ہاتھ آگیا جو ساڑھے آٹھ بجے کا وقت دے گیا مگر نو بجے پہنچ گیا تھا ـ اور یوں ساڑھے نو بجے قربانی کی پہلی بوٹی ہمارے حلق میں پہنچ چکی تھی ـ اس آدھ گھنٹے میں قصاب عمران خان اور نواز شریف کے قصیدے پڑھ چکا تھاـ ہمیں یہ سمجھ نہیں آیا کہ وہ عمران خان کی پارٹی کا تھا کہ نواز شریف کی پارٹی کا ـ یہ اچھا ہوا کہ ہماری قربانی پہلی دفعہ اللہ میاں کے پاس جلد پہنچ گئی تھی ـ اور یوں ہم نے اسی قصاب کو خاندانی قصاب کا لقب دے ڈالا کہ اگلے سال اللہ نے چاہا اور اگر زندگی رہی تو آپ ہی ہمارا   بکرا ذبح  کروگے ـ کہنے لگے فکر نہ کریں نماز سے پہلے پہنچ جائیں گے ـاور یوں چلتے بنےـ ۔۔۔لہذا آپ بھی ابھی سے اگلے سال کے لئے پہلے سے بکنگ کر لیں کیونکہ قصاب کا کچھ پتہ نہیں چلتا! ـ

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *