شکوہ ۔۔۔۔۔ رضوان ظفر گورمانی

میں شیطان ہوں، میری عزت کیا کرو کیونکہ یہ میں ہی ہوں جس کی وجہ سے اچھائی برائی جہنم بہشت کا الٹ پھیر شروع ہوا- یہ میں ہی جس کی بدولت تم سے انعام و اکرام کا وعدہ کیا گیا – یہ میں ہی جو مجسم منطق ہوں-
میں شیطان لعنتی نہ ٹھہرتا تو یہ سب کیوں کر ہوتا ?
یہ میں ہی ہوں جس نے تمہیں تمہاری فطرت سے پہچانا ,
یہ تم ہو انسان۔۔۔ جس کی وجہ سے میرے اور میرے اللہ کے درمیان رخنہ پیدا ہوا -میں تو اللہ کی نیکو کار مخلوق تھا زمین کا ایسا کوئی ٹکڑا نہیں تھا جس پر میں نے سجدہ نہ کیا ہو – یہ تم ہو جس نے مجھ سے میرے رب کا پیار چھینا –

اے انسان ! کیا تم رقیب برداشت کرتے ہو مجھے بتاؤ کیا تم قبول کرو گے ? تمہارا محبوب تمہاری ساری تپسیا ،تمہاری قربانی، تمہارے پیار ،تمہارے جنون، تمہاری محبت کا بدلہ
اک دن یوں دے کہ تمہارے سامنے اک رقیب لا کھڑا کرے۔۔۔۔
اور کہے کہ یہ میرا محبوب ہے چلو اس کی بھی پرستش کرو -میں جذبات سے عاری کوئی فرشتہ نہیں تھا، میں جن تھا ،محسوسات رکھتا تھا، میں آخر کیوں کر برداشت کرتا ؟۔۔

اے انسان ! اگر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں کسی کی خاطر بے پناہ پیار ڈال دے ،جب تمہارا محبوب کسی ایسے ساتھی کا انتخاب کرے جو تم جانتے ہو کسی صورت اس کے قابل نہیں تو کیا تم سب کچھ جانتے بوجھتے آنکھوں دیکھی مکھی نگلو گے؟۔۔۔ پھر میں کیونکر اپنے محبوب اللہ سے تم جیسے کٹھور اور احسان فراموش مخلوق کی قربت برداشت کرتا؟ تم سب سے زیادہ فساد برپا کرنے والی مخلوق ہو۔۔۔۔
مجھے علم تھا-میرے اللہ کی طرف تفویض کردہ علم کی بدولت میں جانتا تھا تم اللہ تعالیٰ کی اتنی محبت کے قابل نہیں ہو – جتنی عنایت وہ تجھ پر کرنے لگا تھا تو میں کیوں کر چپ رہتا ؟

اے انسان تم جانتے ہو نہ میں ابلیس فرشتوں کا سردار تھا مجھے شیطان رجیم بننا پڑا تمہاری وجہ سے، میں تو اللہ تعالیٰ کی پرستش کرتا تھا اگر تم نہ ہوتے تو میں آج بھی اللہ تعالیٰ کا خاص ہوتا آج تمہاری نظر میں برا بھی میں ہوں تم اپنی فطرت سے اس قادر مطلق کے ہر حکم کی نافرمانی کرتے ہو – تم اللہ تعالیٰ کی محبت کے بدلے میں محبت کیا خاک دو گے ؟ جب کہ تم نے اپنے محبوب کو ڈر کے پنجرے میں قید کر رکھا ہے , میں اپنے خالق سے محبت کا درس دیا کرتا تھا – جبکہ تمہارے واعظ اللہ تعالیٰ سے ڈراتے ہیں – تم جیسی مخلوق کے لیے میرے محبوب اللہ نے مجھے جنت سے نکالا ,مجھ پر غضب کیا ,میرے حصے میں آنے والی محبت تم پر نچھاور کر دی-
پر تم نے کیا کیا؟
تم نے اس خالق کون و مکان کی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا – تم نے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے انسان کو رنگ نسل مذہب اور فرقے میں بانٹا , پھر اس پر ظلم ڈھانا شروع کر دیے اور اس پر بس نہیں کی- ہر ظلم کے بعد تم بے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اک طرف تو اس کے محبوب کو ایذا پہنچائی مزید اس کو حکم ربی کہہ کر غفورورحیم کی رحمت کو مشکوک کرنے کی کوشش کی –

تم انسان پر ظلم ڈھاؤ , تم نا حق قتل کرو , تم زنا کرو , تم شراب پیو , تم یتیموں کا حق کھاؤ اور آخر میں سارا ملبہ مجھ پر ڈال دو کہ شیطان کے بہکاوے میں آ گیا تھا -کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کسی عبادت کی ضرورت نہیں ? وہ بے نیاز ہے اس کی عبادت کرنے جو جن و ملائیکہ سمیت ان گنت مخلوقات موجود ہیں – جو ہر گھڑی ہر پل بلا تعطل اس کی کبریائی کی توصیف میں مشغول ہیں-کیا اس نے تمہیں نہیں بتایا کہ وہ حقوق اللہ معاف کر دے گا مگر حقوق العباد معاف نہیں کرے گا ?جس نبی آخرالزماں کے تم امتی ہو کیا وہ رحمت المسلمین بن کر آئے تھے یا رحمت العالمین ? آج تم عاشق رسول بنے پھرتے ہو۔۔۔
کیا محمدﷺ  نے اس طرح سے اسلام کی ترویج کی تھی جس طرح تم کر رہے ہو ? کیا ان کے کسی قول و فعل سے۔۔؟

کبھی کسی انسان بھلے وہ کسی رنگ نسل مذہب سے تعلق رکھتا ہو کی دل آزاری ہوئی ؟ آج تم اسی رحمت العالمین کے نام پر غیر مذہب کے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہو آج تم امتیوں کو فرقے میں بٹ کر اک دوسرے کو کافر قرار دینے اور واجب القتل کے فتوے بانٹنے والے ملا کو اپنے نبی اکرم ص کی تعلیمات سے زیادہ معتبر سمجھنے لگے ہو – تم اپنے ہر گناہ کی توجیح اللہ اور اس کے رسول سے منسوب کر کے ڈھونڈ نکالتے ہو -اور اگر شاذونادر ایسا نہ کر سکو تو میں شیطان ہوں نہ سارا ملبہ مجھ پر ڈال دیتے ہو – میں اتنی عبادات اور ریاضت کے باوجود اگر لعین ہوں تو تم تو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مجھ سے بھی بڑے لعین ہو
ذرا اپنے اندر جھانکو اور ہمت کر کے بتاؤ تم کیا ہو ?

نوٹ : جواب شکوہ اگلے کالم میں ملاحظہ فرمائیں رضوان ظفر گورمانی

Avatar
رضوان گورمانی
سرائیکی وسیب سے ایک توانا اور نوجوان آواز، کالم نگار روزنامہ خبریں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *