ہم ریاستی قانون کے غدار ہیں۔۔۔ارسلان صادق

کہا جاتا ہے کہ انسانی نیت کی حدود قانون سے وسیع تر ہوتی ہے جو بڑے بڑے تکنیکی حربے تلاش لیتی ہے۔ مجھے قانون کی پریکٹس کرتے ایک سال گزر چکا ہے اور ابھی تک ایسی ایک بھی ایف آئی آر دیکھ کر عین الیقین نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ یہ وقوعہ واقعی  ہی حقائق پر مبنی ہو گا۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں سچ دیکھنا نہیں چاہتا وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی سچ میں کہیں نہ کہیں جھوٹ کی ملاوٹ کرنے کا قائل ہوچکا ہے۔

ساتھ چھوٹے تھے ساتھ چھوٹے ہیں
خواب ٹوٹے تھے خواب ٹوٹے ہیں
میں کہاں جا کر سچ تلاش کروں
آج کل آئینے بھی جھوٹے ہیں

المیہ یہ ہے کہ جعل سازی اور مکاری ہمارے ذہنوں میں پیوست ہو چکی ہے۔ ہم مظلوم ہونے کے باوجود خود کو کہیں نہ کہیں ظالم ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہاں عدالتوں میں سیکڑوں مقدمات ایسے ہیں جن میں سے  کسی بھی واردات میں نقصان کی حقیقت اصل حقائق کے دائرے سے کوسوں دور ہوتی ہے۔ اگر کوئی آٹے کی بوری چوری کرتا پکڑا جائے تو اس سے لازمی کسی دوسرے گھر کا چوری ہوا پمپ بھی زبردستی منوایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملے میں ظلم کی انتہا کر دیتی ہے کہ اگر ملزم ڈیل کرنے کو تیار نہ ہو تو اس پر جھوٹے مدعی کھڑے کر کے مزید لمبی سزا دلوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک لڑکا عدالت میں رو ہی پڑا۔ تصدیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مسجد کا غلہ توڑتے پکڑا گیا تھا مگر پولیس والوں نے 1100 گرام چرس ڈال کر جیل بھجوا دیا جس پر بیچارے کو ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔ ہمارے اسلام میں حکم ہے جرم اور قانون کے مطابق سزا دینے کا مگر ہمارے روٹین کے رویوں میں انتہا پسندی اور جعل سازی کا غلبہ ہے۔ بقول شاعر:

خاموشیوں کے دشت میں کیوں چیختے ہو تم
قانون سب یہاں کے صدا کے خلاف ہیں

ہمارے ہاں جھوٹی گواہی کا کلچر بھی بہت عام ہو چکا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں گواہی کو امانت سمجھا گیا ہے۔ مگر یہاں صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ ہم قرآن پر حلف کے باوجود بھی جھوٹی گواہی دینے سے ذرا نہیں کتراتے۔ درحقیقت ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک میں ارشادِربانی  ہے:
“جس بات كى تجھے خبر ہى نہ ہو اس كے پیچھے مت پڑو كيونكہ كان اور آنكھ اور دل ان سب ميں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ كى جانے والى ہے”۔

ہم اس معاشرے میں ظالم بننے سے پہلے ایک دفعہ بھی نہیں سوچتے کہ ہماری وجہ سے کسی بے گناہ کو سزا ہونے سے صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوگا اور پھر جہاں نا انصافی اس قدر بڑھ جائے تو وہاں ساری کی ساری قوم ذلت، ہزیمت اور شکست کا شکار ہو جاتی ہے۔ بقول شاعر

قانون جیسے کھو چکا ہے صدیوں کا اعتماد
اب کون دیکھتا ہے خطا کا ہے رخ کدھر

ہم جانتےہیں کہ ہمارے ہاں جو قانون، اخلاق اور ضابطے ہیں وہ مقامی نہیں بلکہ یہ سب کچھ مشرق اور مغرب دونوں اطراف سے شامل ہیں اور بہت ساری چیزیں تو ہم نے قدیم یونانی اور رومن تہذیبوں سے لی ہیں۔ بہت ساری اخلاقیات و قانون اسلامی تہذیبوں سے بھی سیکھی ہیں۔ زیادہ تر ضابطے اور قاعدے انگریزوں سے مستعار لیے گئے ہیں۔ اس طرح ہمارے ہاں جو نظام چل رہا ہے وہ مختلف تہذیبوں کی وجہ سے مخلوط نظام ہے۔ یہ قانون دنیا کی تہذیبوں کا ملغوبہ ضرور ہے لیکن ان میں بہت ساری چیزیں اچھی ہیں۔ ہماری جان و مال کا تحفظ اگر کسی حد تک محفوظ ہے یا ہماری عزت نفس محفوظ ہے تو اس کی وجہ یہ قائدے قانون اور اخلاقیات ہی ہیں جو دنیا سے ہم نے سیکھی ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بری چیزوں کو سیکھنے میں ہم زیادہ سرگرم رہے ہیں۔ ہمارے اردگرد جو لاقانونیت، افراتفری، آپا دھاپی، خود غرضی، سینہ زوری اور دھونس دھاندلی کا ماحول ہے وہ سب ان بری چیزوں کی وجہ سے ہے جو ہم اپنا چکے ہیں اور جن سے چھٹکارا پانے میں ہم ابھی تک ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ جن ممالک سے ہم نے یہ قانون و ضوابط سیکھے ہیں ان میں اور ہم میں بس اتنا فرق ہے کہ وہاں لوگوں کی نظر میں قانون ایک مقدس حیثیت رکھتا ہے اور قانون پتھر پر لکیر کے مترادف ہے اور اس میں اگر مگر کی کوئی رتی برابر گنجائش نہیں۔ اگر آپ نے گاڑی غلط پارک کی تو آپ نے جرم کر کیا ہے۔ اب اس میں کوئی وضاحت اور مجبوری کام نہیں آ سکتی۔ مگر ہم قانون کو موم کی ناک سمجھتے ہوئے اپنے مطابق مروڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر بات نہ  بنے تو جواز پیش کرتے ہیں یا پھر معافیاں مانگتے ہیں۔

تمام عمر ہی اپنے خلاف سازش کی
وہ احتیاط کی ،خود پر نہ راز فاش ہوا

ہمارے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اگر ہم نے جلد کچھ مثبت رویے نہ  اپنائے تو ہم تاریخ کے ہاتھوں مسخ ہو جائیں گے۔ ہم نے اپنے قوانین کی قدر نہ کی تو ہم بہت جلد زوال پذیر قوموں کی صف میں سر جھکائے نشانِ عبرت کی مثال نظر آئیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون و ضوابط پر عمل کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور ہر شہری کے لیے یکساں قانون کے اطلاق کو یقینی بنایا جائے۔اگر معاشرے میں کہیں جرم ہوتا بھی ہے تو عدل کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر قانون کے مطابق جزا و سزا کا سلسلہ جاری کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اپنے ترازو اپنے پاس رکھ کر خود کو اس میں تولتے رہنے اور اپنی اصلاح آپ کے تحت ملکی قانون کے مطابق چلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری حکومت، میڈیا اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی پابندی کے لحاظ سے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے اور اہم عہد داران کی تربیت کا سلسلہ بھی جاری کیا جائے تاکہ مساوی قانون کا اطلاق ہو۔ اس سے پہلے کہ پانی سروں سے گزر جائے ہمیں اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروے کار لا کر عمل پیرا ہونا چاہیے اور معاشرے کے اس ناسور کو عدل و استحکام میں بدل دینا چاہیے۔

ارسلان صادق
ارسلان صادق
میرا نام ارسلان صادق ہے۔ میں جڑانوالہ فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ میں گونمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ کانون کا طالب علم ہوں۔ لکھنا میرا شوق ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *