بشر علوی کے خط کا جواب الجواب۔۔۔ محمد فیاض حسرت

اسلام علیکم !
دل تہیہِ طوفاں کیے ہوئے تھا ، مگر آپ کا خط موصول ہوا تو اچانک اِس نے اپنا ارادہ بدل لیا ۔اب تو یہ کم بخت خوش ہوئے بیٹھا ہے ۔ ایک خوشی یہ کہ میری شعری زمیں میں آپ نے غزل ہی کہہ ڈالی اور غزل بھی معنی آفریں ۔ دوسری خوشی یہ کہ دو اشعار کے بدلے آپ نے آٹھ اشعار میری خاطر داری کے لیے پیش کِیے ۔ کوئی جو پوچھے کہ صاحب یہ کہاں کا انصاف ہوا آپ کے دو اشعار بدلے پوری غزل پیش ہوئی تو میں اُس کی خدمت میں عرض کروں کہ اِس حکمت تک آپ نہیں پہنچ سکتے ۔

خط کا پہلا حصہ پڑھا تو مجھ کو ذرا بھی تعجب نہ ہوا کہ آپ نے سرِ تسلیم خم کیا اور جب غزل پہ نگاہ پڑی تو غضب ہوا کہ واہ حسرتا یہ بھی خوب انصاف ہے کہ گلے شکوے کا حق تجھے تھا مگر یہ کیا کہ بشر نے غزل میں ایسے ایسے گلے شکوے باندھے جن کا تو گماں بھی نہ کر سکتا تھا ۔ہائے ہائے  ،ہے  بندہ پرور میرا گنہگار اور کرتا ہے اپنی گنہگاری کا انکار، سو میری بھی خفگی ہے بدستور برقرار ۔ خیر صاحب سنو ! آپ نے غزل کہہ کے اس زمیں کا حق ادا کر دیا ۔ یوں یہ زمیں میری نہیں بلکہ آپ کی ہوئی اور آپ کی زمیں پہ آپ کی خدمت میں جواباً غزل پیش ہے ۔

ہم تو رہ کر مدعی ، مانا ، خطا بھی ہم ہوئے
خود پتا منصف کا دے کر یوں بجا بھی وہ ہوئے
لفظ وہ ، جو چیر پھاڑیں سینہ و دل و جگر
اپنی قسمت دیکھیے ، اُن سے ادا بھی وہ ہوئے
ہائے منصف کی طرفداری میسر ہو جسے
بس سمجھ لیجے کہ زنداں سے رہا بھی وہ ہوئے
سوچتے تھے وہ جو مانے تو ہم ان سے روٹھیں گے
بعد ہونے کے خفا پھر سے، خفا بھی وہ ہوئے
ہم جو جاتے تو غزل خواں بلبلیں ہوتی تھی پر
سارے عالم میں تو دیکھو ،خوش ادا بھی وہ ہوئے
جب ضرورت آ پڑی ان کی تمہیں ، وا حسرتا
محفلِ ہستی سے، آخر لا پتا بھی وہ ہوئے

والسلام
م ف حسرت
جون 28، 2019

محمد فیاض حسرت
محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *