دی گاڈ آف مینجمنٹ۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

آج سے تقریباً 125 سال پہلے جاپان کے شہر” واکایاما” کے ایک لینڈ لارڈ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام” کنوسکے” رکھا گیا۔ اس بچے کا باپ لوکل اسمبلی کا ممبر بھی تھا اور ایک عرصے سے گاؤں کے سرکاری دفتر میں ملازم بھی تھا۔ اس بچے کا ابتدائی بچپن خوشیوں سے بھرا ہوا تھا لیکن 1899 میں یہ گھرانہ بڑے کرائسس کا شکار ہوا۔ جس سے ان کی خوشحالی تنگدستی میں بدل گئی۔ اس کے والد نے اب چاول کے بزنس میں سرمایہ کاری شروع کی لیکن یہ بھی ان کے لیے مفید ثابت نہیں ہوا۔ گھر کی تمام اشیاء بِک چکی تھیں اور یہ گھرانہ فاقوں پر آگیا تھا۔ اس کا والد اپنی فیملی کو لیکر ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے لگا۔ خوراک جب عدم دستیاب ہو تو انسانی جسم پر بیماری حملہ آور ہوجاتی ہے، بدقسمتی سے ان کے ساتھ بھی یہی ہوا ،بیماریوں نے انکے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے علاج معالجہ مشکل تھا، جس کی وجہ سے اس کے تین بھائی مختلف بیماریوں میں انتقال کر گئے۔ اس مشکل حالات میں اس بچے کو 9 سال کی عمر میں اپنی پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ باپ نے اس بچے کو” اوساکا” شہر بھیج  دیا، جہاں وہ انگیٹھیاں بنانے والی ایک دکان میں کام کرنے لگا۔ ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ دکان بھی بند ہو گئی۔ اس کے بعد وہ بچہ سائیکل بیچنے والے دکان میں کام کرنے لگا اس زمانے میں سائیکل ایک لگژری آئٹم مانی جاتی تھی جو” برطانیۂ عظمیٰ” سے امپورٹ کی جاتی تھی۔ اس دکان پر کچھ میٹل ورک کا کام بھی ہوتا تھا۔ لگ بھگ پانچ سال وہاں کام کرکے اس نے نئے ٹیکنیکل ٹولز کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ اب وہ 15 سال کا ہوچکا تھا اور وہ کچھ نیا کرنا چاہتا تھا۔ اس زمانے میں بجلی کا کام جاپان میں بتدریج بڑھ رہا تھا۔ اس لڑکے نے اس شعبے میں داخل ہونے  کا ارادہ کیا اور بلآخر اسے” اوساکا الیکٹرک کمپنی” میں جاب مل گئی۔ بطور وائرنگ اسسٹنٹ وہ دلجمعی اور محنت سے کام کرنے لگا۔ چند سال بعد کمپنی میں مختلف پوزیشنوں پر کام کرنے کے بعد 22سال کی عمر میں وہ الیکٹریکل انسپکٹر بن گیا۔ اسی دوران اس کی شادی بھی ہوچکی تھی جس سے گھر کا بار بھی اس کے کندھوں پر آن پڑا تھا۔ لیکن اب اس عہدے پر اسے اچھی تنخواہ  ملنے لگی تھی جس سے گھر میں خوشحالی دوبارہ لوٹ آئی تھی۔ یہ عہدہ دوسرے لوگوں کے لیے قابلِ رشک تھا کیوں کہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھا بس اسے اپنے کام میں مہارت تھی۔ اس دوران وہ ایک نیا ” لائٹ ساکٹ” بنانے میں کامیاب ہوا جو اس کی زندگی میں اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ بہت خوش ہوا اور جاکے اپنے باس کو اس نئے لائٹ ساکٹ کے بارے میں بتایا مگر اس کے باس کو وہ اچھا نہیں لگا انہوں نے کہا کہ ایسا پراڈکٹ مارکیٹ میں نہیں چلے گا۔ لیکن اسے اپنے پراڈکٹ پر یقین تھا اور اب وہ اپنی کمپنی کھولنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ دوستوں نے اسے کمپنی چھوڑنے سے منع کیا لیکن اس نے کہا کہ میں اپنا کیرئیر داؤ پر نہیں لگانا چاہتا اور یوں اس نے اپنی راہ جدا کرلی۔ 1917 ہی میں جب وہ 22 سال کا تھا اوساکا کمپنی چھوڑ کر اپنی کمپنی کی بنیاد رکھنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے پاس سرمایہ اور تعلیم دونوں چیزیں نہیں تھیں، جو کسی بھی بزنس کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اس کے پاس تجربہ تھا جسے وہ ایک قیمتی سرمایہ سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے گھر کے فلور پر ایک ورکشاپ کھول لی۔ اور اسی پروڈکٹ کے سیمپل بنا کر ہول سیلرز اور دکانداروں کے پاس لے کر جاتا لیکن کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی۔ ہر کوئی اس کی پروڈکٹ لینے سے انکار کرتا تھا۔ کافی مہینے گزر گئے اور اس کی ایک بھی پروڈکٹ نہیں بکی۔ گھر اور ورکشاپ چلانے کے لیے اس نے گھر کا سامان بیچا اور تھوڑا لوگوں سے ادھار بھی لیا تاکہ ورک شاپ مزید کچھ دنوں تک چل سکے۔ کئی مرتبہ اسے خیال آیا کہ یہ سب چھوڑ کر پھر سے جاب کرنے لگ جاؤں لیکن جب صبح ہوتی تو وہ پھر سے نکل کر ایک اور دن آرڈر لانے کی کوشش میں صرف کرتا ۔ یہاں تک کہ وہ کنگال ہوا اور وہ وقت بھی آگیا کہ ورکشاپ بند کرنے لگا کہ اچانک اس کی محنت رنگ لے آئی اور اسے اپنی زندگی کا پہلا بڑا آرڈر ملا وہ بھی 1000 لائٹ ساکٹس کا ۔ پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آرڈر پر آرڈر لیتا چلا گیا جس سے اس کی ورکشاپ ایک کمپنی میں بدل گئی۔ پھر رفتہ رفتہ وہ نئی نئی پراڈکٹس مارکیٹ میں لانچ کرنے لگا جو ہاتھوں ہاتھ بکنے لگیں۔ وہ اپنے تجربے سے نئی نئی چیزیں بناتا تھا اور اس کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ وہ عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیز مینوفیکچر کرتا تھا جس سے اس کے پراڈکٹس کی مقبولیت دن بہ دن بڑھتی جا رہی  تھی۔ آج اس کی بنائی ہوئی  کمپنی کو 100 سال پورے ہوچکے ہیں اور آج جاپان سے لیکر امریکہ تک دنیا کے ہر چھوٹی  بڑی  مارکیٹ میں آپ کو اس کی کمپنی کی بنائی ہوئی پراڈکٹس ضرور ملیں  گی۔

عزیزانِ من! جس نے اکیلے اپنے گھر کے فلور پر ایک کمپنی کی بنیاد رکھی تھی اس شخصیت کا نام” کنوسکے مٹسو شیتا” ہے۔ اور اس کی بنائی ہوئی کمپنی کا نام
“ Panasonic” ہے ۔ مٹسو شیتا جس نے اکیلے ایک کمپنی بنائی تھی آج تقریباً ڈھائی لاکھ لوگ اس کے ملازم ہیں اور اس کی سالانہ سیل 70 بلین ڈالر ہے۔ جاپان کے لوگ ” کنوسکے مٹسوشیتا” کو ” دی گاڈ آف مینجمنٹ” کہتے ہیں۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ کنوسکے مٹسو شیتا پر لکھی گئی کتاب
“Not for bread only “کا مطالعہ ضرور کریں۔ تاکہ آپ یہ جان سکیں  کہ کس طرح مٹسوشیتا نے جاپان کی انڈسٹری بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

اس بات پر صرف رونا نہیں بلکہ ماتم کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں مٹسوشیتا جیسے بزنس مین اور صنعتکار کیوں پیدا نہیں ہو رہے۔ اگر ہمارے ملک میں” ڈاکٹر عبد القدیر خان” پیدا ہوسکتاہے تو کوئی” بل گیٹس” اور ” سٹیو جابز” کیوں نہیں؟ آج ایجادات کی  اس دوڑ میں آپ کوئی ایک چیز بتا سکتے ہیں جسے ہم نے ایجاد کیا ہو؟ سوائے اسلحہ اور ایٹمی ہتھیار   کے۔ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہم 70 سال برسرِ جنگ رہے ہیں کیا 70 سال لڑنے کے بعد ہمیں اور بھی 70 سال لڑنا ہوگا؟ کیا ہم صرف لڑنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں؟ اسلحہ سازی میں ترقی کرنے اور دیگر صنعتوں میں تنزلی   کی بنیادی وجہ وہ تربیت ہے جو ہمیں بچپن سے دی جاتی ہے۔ بچپن ہی سے ہمیں تعلیم میں 65 کی جنگ کی کہانی پڑھائی جاتی ہے۔ بچپن ہی سے ہمیں میجر عزیز بٹھی، راشد منہاس اور کرنل شیر خان جیسے شہداء کی داستانیں سنا کر موٹیویٹ کیا جاتا ہے۔ آپ پہلی جماعت سے لیکر آٹھویں جماعت تک کے طلباء سے پوچھیے تو 70 فیصد بچے کہیں  گے کہ ہم فوجی بننا چاہتے ہیں۔ ہمارے  تعلیمی نصاب میں کسی بھی قابلِ ذکر بزنس مین یا صنعتکار پر لکھا ہوا مضمون ہے ہی نہیں ،جسے پڑھ کر بچے اسے اپنا آئیڈیل بنائیں۔ بچے جب ملی نغمے ٹی وی پر دیکھتے ہیں تو اس میں انہیں ٹینک، بکتر بند، جیٹ طیارے اور میزائل دکھائے جاتے ہیں۔ اگر بچے پی ٹی وی پر کوئی سیریل دیکھتے ہیں تو درمیان کے وقفوں میں کشمیریوں پر جاری مظالم دکھائے جاتے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ اور یوں بڑی آسانی سے 22 کروڑ آرمی ذہنیت والی قوم تیار ہوجاتی ہے۔میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آرمی غلط ہے،یا فوج میں جانے کے خواب دیکھنا غلط ہے،فوج ہمارا مان ہے۔۔لیکن   بات کا مقصد یہ ہے کہ ہم معاشرتی ترقی کے لیے اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟

اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہماری اکثریت آج بھی ایوب خان کے دور کو پاکستان کا سنہرا دور سمجھتی ہے۔ اس جنگی ذہنیت کی بدولت آج بھی ہم ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹر کو امیر المومنین کہتے ہیں۔ ہماری معیشت کمزور اسی وجہ سے ہے کہ ہم اپنے بچوں کی سوچ جمہوری سانچوں میں ڈھال نہیں رہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی تعلیم دینا ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کو آزاد کرانے والے قائد اعظم محمد علی جناح سیاستدان تھے۔ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے لیاقت علی خان سیاست دان تھے۔ پاکستان کا آئین بنانے والا ذوالفقار علی بھٹو سیاستدان تھا۔ پاکستان میں سڑکیں بنانے، سی پیک لانے ملکی صنعت کو فروغ دینے والا محمد نواز شریف سیاستدان تھا۔ ورنہ یہاں بھی بیانیہ کچھ اس طرح بنادیا گیا ہے کہ قائد اعظم نے آئی ایس آئی کا ادارہ بنایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم کی بنیاد رکھی تھی  اور اس ایٹم بم کے دھماکے کرنے والا نواز شریف تھا۔ اس بیانیہ کا مقصد یہ ہے کہ ان کی  دیگر سیاسی خدمات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اس ملک کی  سیاسی قوتوں سے میری گزارش ہے کہ قوموں کی تربیت تعلیم کے ذریعے   ہوتی ہے تو ازراہِ کرم بچوں کے تعلیمی نصاب میں زیادہ سے زیادہ سیاسی شخصیات کے مضامین شامل کرنے پر غور کریں تاکہ آئندہ جمہوری ذہنیت کی حامل نسل پروان چڑھے۔ اور انڈسٹریل زون کو بہتر بنانے کیلئے کنوسکے مٹسو شیتا جیسے لوگوں کی جدوجہد پر مبنی مضامین داخل نصاب کریں تاکہ اس ملک میں سٹیو جابز اور بل گیٹس پیدا ہوں، جو اس ملک کی ڈوبتی معیشت کو سہارا دے سکیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *