“نور مقدم ” (ریاست کے نام)۔۔محمد وقاص رشید

جو نور مقدم تھی ،وہ اب بےنور اور غیر مقدم ہو چکی
ہائے اک اور زندگی یہاں ہے سے تھی میں مدغم ہو چکی

اک اور وحشی مرد نے یہاں خون کی ہولی کھیلی ہے
ملت کی اک اور بیٹی نےعورت ہونےکی سزاجھیلی ہے

tripako tours pakistan

اک عمرہوگئی یہاں امید کرتےاب جاگے گی اب سوچے گی
یہ ریاست یہ مملکت آخر کب جاگے گی کب سوچے گی

کتنے مظلوموں کا لہو آخر اسکی سرزمین پہ بہنا ہو گا
کتنے بے گناہوں کو اذیت ناک موت کا درد سہنا ہو گا

اگر ریاست سوچے تو یہی بہیمانہ حال با خدا ہوا ہے
ایک بیٹی کا نہیں قانون کا سر تن سے جدا ہوا ہے

ریاست کے لیے کیا یہ صورتحال انتہائی سنگین نہیں
کہ اس کی رعایا کو اس قتل پر بھی انصاف کا یقین نہیں

رشوت و سفارش چلے گی قاتل مہنگا وکیل کر لے گا
جو کروڑوں روپوں کے عوض کیس کا رخ تبدیل کر لے گا

ہسپتال سے خود کو ذہنی مریض قرار دلوا لے گا
عدالت میں جا کر فیصلہ اپنے حق میں کروا لے گا

چوکوں چوراہوں سے سوشل میڈیا تک یہی گمان ہے
کہتے ہیں کچھ نہیں ہو گا بھائی یہ اپنا پاکستان ہے

یہ سوچ ایک ملک ایک قوم ایک ریاست کے لیے گالی ہے
مگر رعایا کے دلوں میں یہ سوچ ریاست ہی نے ڈالی ہے

ماضی سے جڑی ہوئی ہے حال میں بھی موجود ہے
اس سوچ کے ساتھ اس قوم کا مستقبل مفقود ہے

قومی ذہن سے اب اس سوچ کو صاف کرنا ہی ہو گا
اس ظلم و بربریت پر اس قتل پر انصاف کرنا ہوگا

Advertisements
merkit.pk

ورنہ…ہر نور مقدم یہاں بے نورو غیر مقدم ہوتی رہے گی
یہ ملت یہاں زندگی کی سر کٹی لاش پر روتی رہے گی!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply