محبت کا الجھا ریشم ( ناول )۔۔۔۔۔۔رضوانہ سید علی/قسط3

گزشتہ قسط:

آنے والے دنوں میں آپا نے امی کو ساری رو داد سنا دی ۔ اس عورت کا نام رشیدہ تھا ۔ وہ شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں تھی ۔ کافی اچھی شاعری کرتی تھی اور ذوالفقار سے اسکی دوستی ادبی محفلوں میں ہوئی اور بڑھتے بڑھتے محبت میں تبدیل ہو گئی ۔ آنے والے دنوں میں منجو اور بڑی بیگم نے مشترکہ محاذ بنایا جو بے فائدہ رہا ۔ منجو نے خود کشی کی ناکام کوشش کی پر وہ بھی بے اثر رہی ۔ رشیدہ کے میاں نے بھی بہت دہائیاں دیں پر ادب کے متوالے اور شاعرہ کا ملاپ ہو کر رہا ۔

عشق و محبت کی داستانوں سے یہ میرا پہلا باقاعدہ تعارف تھا ۔ بہت جلد عشق محبت کی ایک اور داستان میرے سامنے آئی ۔ امی کی ایک سہیلی ماہ گل تھیں جنہیں سب ہمایوں کی امی کہتے تھے ۔ ان کے میاں نے ان سے پسند کی شادی کی تھی پر ادھیڑ عمری میں اپنی نوکرانی سے دل لگا بیٹھے ۔ اس قصے سے پہلے ہمارے گھر کی روداد بھی سن لیجیے ۔

نئی قسط:

موٹی آپا کو ان کی مرضی کا مکان مل گیا تو انہوں نے پورشن ہمارے لیے خالی کر دیا ۔ مجھے اپنا پچھلا گھر اور اپنے پیارے ابا بے حد یاد آتے ۔ یہاں آکر تو میرا دم گھٹنے لگا تھا ۔ امی ہر دم اداس اور کھوئی کھوئی رہتیں ۔ چھوٹی خالہ اپنے آپ میں مگن تھیں ۔ نانا اکھڑے اکھڑے سے نظر آتے ۔ حالانکہ میں ہمیشہ سے ان کی لاڈلی تھی ۔ پر اب عجیب کھچاؤ سا چل رہا تھا ۔ دراصل نانا میرے ابا پہ زور دیتے رہے تھے کہ اپنی زمینوں کا کچھ کرو ۔ کچھ حصہ بٹائی پہ دو باقی بیچ کر لاہور میں اپنا گھر بناؤ لیکن ابا نے ان کی بات ہمیشہ سُنی اَن سُنی کر دی شاید وہ باپ دادا کی زمینیں بیچنا نہیں چاہتے تھے ۔ نانا ان سے ناراض رہنے لگے اور اب بھی یہی غصہ تھا کہ اگر میری بات مان لیتا تو آج بچوں کے سر پہ اپنی چھت ہوتی ۔ ویسے چھوٹے ماموں گاؤں جا کر زمینیں ہمارے نام کروا آئے تھے  پر پٹواری کا کہنا تھا کہ بچوں کے بالغ ہونے سے پہلے انہیں ملکیت مل نہیں سکتی ۔ یہ سب ملی بھگت تھی اگر ماموں یہاں رہتے تو کچھ نہ کچھ کر لیتے پر انہی دنوں وہ  سی اے کرنے انگلینڈ چلے گئے ۔ ان کی ذات گھر بھر کے لیے ایک روشن چراغ کی مانند تھی ۔ امی کے لیے  وہ ایک ڈھال تھے۔ نانا کا بازو تھے ۔ ہمیں روز شام کو سیر کروانے لے کر جاتے اور واپسی پہ ہم چیزوں سے لدے پھندے ہوتے ۔

ان کے جانے سے گھر خالی خالی لگنے لگا ۔ انہی دنوں بڑے ماموں کا تبادلہ لاہور ہو گیا ۔ انہیں چھاؤنی میں بنگلہ مل گیا ۔ چھوٹی خالہ اور نانا ان کے پاس چلے گئے کیونکہ خالہ کی شادی وہیں سےکرنے کا ارادہ تھا ۔ اوپر کا پورشن بند کر دیا گیا ۔ ہم چھوٹے پورشن میں تنہا رہ گئے۔ بھائی جان اور احمر سکول سے آکر پچھلے محلے میں پڑھنے چلے جاتے ۔ وہاں ایک استاد شاہ جی تھے انہوں نے ابا کے فوت ہوتے ہی میرے دونوں بھائیوں کو پڑھانے کی ذمہ داری لے لی تھی ۔ پڑھنے کے بعد وہ وہیں اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے اور شام کو واپس آتے ۔ عارف اور گڑیا ابھی بہت چھوٹے تھے ۔ ہاں اب امی کے پاس ہر وقت ان کی پڑوسنوں اور سہیلیوں کا جھمگٹا رہنے لگا تھا ۔ لیکن مجھے ان کی محفل میں بیٹھنے کی اجازت نہ تھی ۔ سو میں نے اپنا دل کتابوں میں لگا لیا تھا لیکن اتنے چھوٹے گھر میں یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ان کی باتیں میرے کانوں میں نہ پڑتیں ۔ سینے پرونے اور سوئیٹر بننے کے ساتھ ساتھ یہ خواتین دنیا زمانے کی باتیں کرتی رہتیں ۔

ان سب میں ہمایوں  کی امی مجھے سب سے زیادہ پسند تھیں ۔ یہ ہمارے پچھلے محلے کی پڑوسن تھیں ۔ محلے کے اونچے اونچے مکانوں میں ان کا ایک منزلہ مکان سب سے زیادہ شاندار تھا جس کے سامنے ہر وقت بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی رہتیں ۔ جبکہ باقی پورے محلے میں کسی کے پاس گاڑی نہ تھی ۔ پورا محلہ ان کی شان وشوکت سے مرعوب تھا ۔ اور کچھ ایسی دھاک بندھی تھی کہ کوئی ان کے گھرنہ جاتا تھا وہ لوگ خود بھی کسی سے نہ ملتے جلتے تھے ۔ ہمارے ان کے ساتھ تعلقات ان کی ایک ضرورت کے باعث ہوئے تھے

گرمیوں کا موسم تھا اور صبح سویرے کا وقت ۔۔ ابا ابھی گھر پہ ہی تھے کہ کسی نے سیڑھیاں چڑھ کر ہمارے گھر کے کھلے دروازے پہ دستک دی ۔ “کون ؟” امی نے پوچھا ۔ ” جی میں رفیق ہوں ۔ آپ کے پڑوس سے ماہ گل بی بی جی نے مجھے بھیجا ہے ۔” ” آؤ اندر آ جاؤ ۔” امی نے کہا ۔ رفیق اندر داخل ہوا تو اسکے ہاتھ میں موتیے کے تازہ پھولوں سے بھری چنگیر تھی ۔ ہمارا گھر خوشبو سے مہک اٹھا ۔ ” بی بی جی نے یہ پھول آپ کے لیے  بھجوائے ہیں اور کہا ہے کہ آج شام پروفیسر صاحب کو ہمارے گھر بھیج دیں ۔  ” خیریت ؟ ” امی نے پوچھا ۔ ” جی خیریت ہی ہے ۔ دراصل وہ اپنے بیٹے ہمایوں کو پروفیسر صاحب کی شاگردی میں دینا چاہتے ہیں ۔ شام کو ابا ان کے گھر چلے گئے اور یہ طے ہو گیا کہ وہ کام سے واپسی پہ ہمایوں کو پڑھایا کریں گے ۔ ہم ہمایوں کو اکثر گاڑی میں بیٹھتے یا اترتے دیکھتے رہتے تھے ۔ ویسے وہ کبھی گھر سے باہر نظر نہ آیا تھا ۔ وہ ایک سرخ و سفید موٹا تازہ لڑکا تھا ۔ عمر شاید  بارہ تیرہ سال تھی ۔ ہمایوں کے ابا موٹے تازے گھنگریالے بالوں والے اور بہت ہی کالے تھے البتہ ان کے چہرے پہ ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی ۔ وہ جب بھی گاڑی سے اترتے تھے تو پاس کھڑے بچوں سے ضرور کوئی ہنسی مذاق کی بات کرتے تھے ۔ اس لیے  سب بچے انہیں بہت پسند کرتے تھے ۔ اب ہم روز شام کو دیکھتے کہ ان کے شاندار مکان کے بیرونی کمرے کا دروازہ کھلا ہے ۔ کمرہ خوب آراستہ پیراستہ ہے ۔ اندر ہمایوں ابا سے پڑھ رہا ہے ۔ پر ہمیں اندر جانے کی جراء ت نہ ہوتی تھی ۔ رفیق روز صبح پھولوں بھری چنگیر امی کی نذر کر جاتا اور ساتھ بی بی کا سلام بھی لاتا ۔ امی بن  دیکھے ہی ان کی مداح ہو گئیں ۔ پھر وہاں سے انواع و اقسام کی نعمتوں کے دستر خوان آنے لگے ۔ ابا نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہاں سے ایک ہی جواب ۔ ہمیں استاد کی تکریم سے نہ روکیے ۔ ابا نے بتایا کہ ہمایوں زیادہ ذہین تو نہیں پر محنتی اور بہت ہی تمیز دار ہے ۔ ایک روز رفیق پھولوں کے ساتھ یہ پیغام بھی لایا کہ آج دوپہر کا خاصہ بی بی کے ساتھ تناول کیجیے ۔ وہ منتظر رہیں گی ۔ امی تو لوٹ پوٹ ہوگئیں ۔

لاہور میں ایسی تہذیب کے مظاہر بھلا کہاں ۔ لگتا ہے کہ کسی دہلی یا لکھنئو کے نواب گھرانے سے تعلق ہے ان کا ۔ امی نے اندازہ لگایا اور دوپہر کو امی مجھے ساتھ لے کر ان کے گھر چلی گئیں ۔ واقعی اندر سے گھر کسی نوابی شان و شوکت کا ہی مظہر تھا ۔ باوردی ڈرائیور ڈیوڑھی میں چاک و چوبند بیٹھا تھا ۔ رفیق اندرونی چمن کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھا اور ایک دبلی پتلی سی خادمہ لپک جھپک کام میں لگی تھی ۔ برآمدے میں پڑی چلمنوں تک رفیق نے ہمیں پہنچایا ۔ اندر ماہ گل بی بی ہمارے استقبال کے لیے  کھڑی تھیں ۔ میں نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں اس قدر خوبصورت اور جامہ زیب خاتون پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں ۔ انہوں نے انتہائی محبت سے امی کو گلے لگایا اور مجھے پیار کیا ۔ برآمدے میں فرشی نشست تھی انتہائی گداز قالینوں پہ سفید چاندنیاں اور کمخواب کے گاؤ تکیے لگے تھے ۔ بڑے بڑے گلدانوں میں پھول مہک رہے تھے ۔ ہمایوں کی امی نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں اس معطر ، مہکتی ، نرم گرم آغوش سے باہر نہ نکلوں اور وہ بھی بار بار مجھے بوسہ دے کر کہتیں ۔ ” کاش اللہ مجھے بھی ایک بیٹی دے دے ۔” کھانا  آیا تو وہ بھی بہت لذیز تھا ۔ آنے والے دنوں میں امی اور ماہ گُل گہری دوست بن گئیں ۔ وہ بھی فلموں کا شوق رکھتی تھیں ۔ اب امی اور ان کی سہیلیاں ماہ گل کی گاڑی میں فلم دیکھنے جاتیں ۔

میں اور بھائی جان جب جی چاہتا ہمایوں  سے کھیلنے اس کے گھر چلے جاتے ۔ وہ ہم دونوں سے کافی بڑا تھا پر بالکل بچوں جیسا تھا ۔ کیونکہ اسکی امی نے اسے کبھی گھر سے نہ نکالا تھا ۔ اوپر چھت پہ ایک گڑیا گھر تھا جو ان کے گھر کا ماڈل معلوم ہوتا تھا ۔ اس میں بجلی بھی تھی ۔ جب وہ چھوٹا تھا تو اسی گڑیا گھر اور گڑیوں سے کھیلتا تھا ۔ اسکے یہ کھلونے اب بھی سنبھلے رکھے تھے ۔ وہ بہت فراخ دلی سے یہ کھلونے مجھے دے دیتا ۔ اسکی بس ایک ہی شرط تھی کہ میں انہیں خراب نہ کروں اور کھیلنے کے بعد باسکٹ میں رکھ کر اسکی ملازمہ شکیلہ کے حوالے کر دوں ۔ وہ اور بھائی جان کھلی چھت پہ سائیکلیں چلاتے اور طرح طرح کے مکینکل کھلونوں کی توڑ جوڑ میں مصروف رہتے ۔ شکیلہ ہماری دیکھ بھال کے لیے  آس پاس رہتی ۔ لیکن وہ اکثر بڑے سے برساتی نما کمرے میں چھپ کر بیٹھ جاتی ۔ میں جب بھی کمرے میں جاتی اسے اپنے گھر کی طرف دیکھتا پاتی ۔ وہ کچھ اشارے کنائے بھی کر رہی ہوتی ۔ میں بھی اپنے گھر کی طرف دیکھتی تو مجھے پچھلے پورشن کے چمنی دان کے سوراخوں میں دو آنکھیں دکھائی دیتیں جو فوراً پیچھے ہٹ جاتیں ۔ ۔ ایک روز شام ڈھلے رفیق اوپر والے پودوں کو پانی دے رہا تھا تو ان سوراخوں سے ایک کاغذ کا ہوائی جہاز اڑتا ہوا آیا اور سیدھا اسکے سر پہ آ رُکا ۔ شاید وقت میں کچھ گڑبڑ ہوگئی تھی وگرنہ یہ کاغذی جہاز شکیلہ کے سر پہ منڈلاتا ۔ رفیق نے وہ رقعہ ماہ گل کی خدمت میں پیش کیا اور وہ اسے پڑھ کر آگ بگولا ہو گئیں ۔ شکیلہ ایک انتہائی مفلس ، نادار گھرانے کی لڑکی تھی ۔ ہمارا محلہ جس میدان پہ ختم ہوتا تھا ۔ اسکے دوسری جانب ایک انتہائی خستہ حال مکان کے ایک نیم تاریک تنگ سے کمرے میں شکیلہ کا بہت بڑا کنبہ رہتا تھا ۔ کمرے میں سمانا تو محال تھا دن بھر اسکے ڈھیروں بہن بھائی گلیوں میں پھرتے ۔ بیمار باپ گلی میں بچھی جھلنگا کھاٹ پہ پڑا کھانستا رہتا اور شکیلہ کی ماں ادھر اُدھر جھاڑو برتن کر کے سب کا پیٹ پالتی ۔ محلے میں ہمایوں کا سب سے کھاتا پیتا گھر دیکھ کر وہ ایک دن شکیلہ کو وہاں لے آئی ۔

ماہ گُل نے اسے ترس کھا کر رکھ لیا ۔ لڑکی چست چالاک تھی ۔ کچھ پڑھنا لکھنا بھی جانتی تھی ۔ جلد اس گھر کے طور طریقے سیکھ کر وہاں کی منتظمہ بن گئی ۔ اسکے گھر والوں کو بھی بہت فائدہ پہنچا ۔ ماہ گل کا دل اتنا کھلا تھا کہ پورا گھر ان کے دئیے رزق سے پلنے لگا ۔ ہمایوں کے ابا ایک بہت بڑے صنعت کار تھے ۔ شہر میں ان کے کئی سینما ، پیڑول پمپ اور دو کارخانے بھی تھے ۔ وہ کوشش کر رہے تھے شکیلہ کے گھر والوں کے لیے  کوئی سرکاری کوارٹر الاٹ کروا دیں ۔ اس شام جب وہ آئے تو ماہ گل نے انہیں کہا کہ وہ ہمارے ابا کو ساتھ لے کر پچھلے پورشن والوں کے ہاں جائیں اور ان سے شکایت کریں کہ پڑوسیوں کے گھر تانک جھانک اور رقعے بازی کہاں کی شرافت ہے ۔ ہمارے پچھلے پورشن میں تین بھائی اپنی ایک بیوہ بہن اور ماموں کے ساتھ رہتے تھے ۔ بڑے بھائی نعیم صاحب ہی پورے گھر کے کفیل تھے ۔ ان سے چھوٹے ابھی پڑھ رہے تھے ۔ ان میں نسیم بھائی کالج میں پڑھتے تھے اور اکثر پڑھائی کے بہانے چھت پہ چڑھے رہتے تھے ۔ یہ انہی کا کارنامہ تھا ۔ نعیم بھائی تو ابا اور عمران صاحب کے سامنے آنکھیں نہیں اٹھا پا رہے تھے ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ شکایت کا موقع نہیں ملے گا ۔ نسیم بھائی کا چھت پہ چڑھنا ممنوع ہوا اور شکیلہ کی امی کو بلوا کر شکیلہ کو اسکے ساتھ رخصت کر دیا گیا کہ ہم اس لڑکی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے ۔

ماہ گل نے شکیلہ کو فارغ تو کر دیا پر اتنے بڑے گھر کی ذمہ داری ان کے بس کی بات نہ تھی ۔ وہ دہلی کے کسی افغان نسل خاندان کے نوابی گھرانے سے تھیں ۔ شادی بھی بہت بڑے خاندان میں ہوئی تھی پر ہمایوں صرف دو سال کا تھا تو ان کے شوہر کسی حادثے میں مارے گئے ۔ پیچھے مائیکے میں کوئی بھی نہ رہا تھا ۔ نجانے کب اور کیسے عمران صاحب نے ان کی ایک جھلک دیکھ لی اور ہوش و حواس سے جاتے رہے ۔ انہوں نے ماہ گل کو نکاح کا پیغام بھجوا دیا اور بے شمار لوگوں سے دباؤ ڈلواتے رہے ۔ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھے اور 14،15   سالہ بیٹی کے باپ تھے ۔ ماہ گل ان دنوں بہت پریشان تھیں کیونکہ انہیں پتہ چلا تھا کہ شوہر کی موت کو حادثہ بنا دیا گیا تھا دراصل یہ قریبی رشتے داروں کی کارستانی تھی اور اب انہیں اور ہمایوں کو بھی جان کا خطرہ تھا ۔ خیر خواہوں نے انہیں سمجھایا کہ وہ نکاح کے اس پیغام کو غیبی امداد سمجھیں ۔ آخر انہوں نے تقدیر کے آگے سر جھکا دیا اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ درست تھا ۔ عمران صاحب بے حد اچھے شوہر اور باپ ثابت ہوئے انہوں نے ماہ گل کے لیے  الگ مکان خریدا اور دنیا کی ہر آسائش فراہم کی ۔ ان کے والدین اور اہل خانہ ماڈل ٹاؤن کی ایک وسیع وعریض کوٹھی میں رہتے تھے ۔ کچھ دن سب ناراض رہے پھر مان گئے ۔ ماہ گل کے اخلاق نے سب کو موہ لیا تھا ۔ ماہ گل کو تو ملازمہ کے بناء تارے نظر آ ہی رہے تھے پر اصل کہرام تو شکیلہ کے گھر بپا تھا ۔ سونے کی چڑیا جیسا گھرانہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا ۔ چند روز شکیلہ کی ماں نے اسکی رگڑائی ، منجھائی کی اور ایک روز آ کر عمران صاحب اور ماہ گل کے پاؤں میں ڈوپٹہ ڈال دیا ۔ شکیلہ بھی ہاتھ جوڑے آنسو بہاتی رہی ۔ آخر معافیوں تلافیوں اور وعدے وعید کے بعد اسے دوبارہ کام پہ رکھ لیا گیا ۔ شکیلہ تو وہ شکیلہ ہی نہ رہی ۔ نماز پڑھتی ، پہلے سے زیادہ اور اچھا کام کرتی ۔ ماہ گل کی اتنی خدمت کرتی کہ وہ اسے اپنی بیٹی کہنے لگیں ۔ اسکے گھرانے کو سرکاری کوارٹر مل گیا اور وہ لوگ وہاں چلے گئے ۔ اسکے بہن بھائی سکولوں میں داخل ہو گئے ۔

ہم نانا کے گھر آگئے تھے پر امی اور ماہ گل کی دوستی ختم نہ ہوئی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ لدی پھندی آتیں ۔ دیر تک امی کی محفلوں میں بیٹھتیں ۔ انہی دنوں شکیلہ نے  زہر سے بجھا خنجر ماہ گل کے پہلو میں گھونپ دیا ۔ انہوں نے شکیلہ کو عمران صاحب کے ساتھ کچھ یوں دیکھا کہ ششدر رہ گئیں ۔ جسے بیٹی سمجھنے لگی تھیں اس نے یہ چاند چڑھایا اور جو میاں مجنوں، فرہاد اور رانجھے سے زیادہ محبت کا دعویدار تھا وہ ہیر جیسی بیوی کو چھوڑ کر ایک سوکھی سڑی ، کالی کلوٹی ملازمہ پہ مر مٹا ۔ یہ کیا ہوا ؟ کب اور کیسے ہوا ؟؟ کریدنے پہ پتہ چلا کہ شکیلہ نے کوئی کچا کام نہیں کیا تھا ۔ باقاعدہ نکاح پڑھوایا تھا اور ایک سینما اور پٹرول پمپ اپنے نام لکھو ا لیا تھا ۔ ماہ گل کا افغانی خون تاؤ کھا گیا انہوں نے شکیلہ کو چٹیا سے گھسیٹ کر گھر سے نکال دیا اور عمران صاحب کی شکل نہ دیکھنے کی قسم کھا لی ۔ عمران صاحب ہاتھ جوڑتے رہے کہ شکیلہ تمہاری نوکرانی ہی رہے گی ۔ ساری عمر تمہارے قدموں میں رہے گی ۔ ماہ گل نہ مانیں تو اس بات پہ بھی رضا مند ہو گئے کہ میں شکیلہ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔ ماہ گل کا ایک ہی مطالبہ تھا ۔ مجھے طلاق دو ۔ ان کے سسرال والے بھی سمجھانے آئے پر ماہ گل کی ضد کوئی نہ توڑ سکا ۔ انہوں نے خلع کا مقدمہ دائر کیا اور جیتنے پہ ہر شے چھوڑ کر کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئیں ۔

ہمایوں ان دنوں میڑک میں تھا ۔ وہ تو مرجھا کر رہ گیا ۔ میڑک کا نتیجہ بھی کوئی خاص نہ نکلا ۔ کچھ دن ماہ گل اپنے بیش قیمت پارچات اور زیورات بیچ کر گزارہ کرتی رہیں اور پھر ایک روز چپکے سے کسی کو بھی بتائے بغیر شہر ہی چھوڑ گئیں ۔ شکیلہ مہارانیوں کی طرح شہر بھر کی تقریبات میں گھومتی پھرتی ۔ مکان پہ اب اس کا اور اسکے خاندان کا قبضہ تھا ۔ امی اکثر اماہ گل کو یاد کرتیں تو آنکھیں بھر آتیں اور وہ ٹھنڈی سانس لے کر کہتیں ۔ ” آہ ! روپ روئے اور کرم کھائے ۔” ( جاری ہے )
۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *