ہر جذبہ جنم لینے کے لیے محبت کا محتاج ہوتا ہے۔۔۔۔قراۃ العین

ہر جذبہ جنم لینے کے لیے محبت کا محتاج ہوتا ہے ۔ہر احساس محبت سے کشید کیا جاتا ہے ۔
حسد، نفرت، غصہ،دکھ، درد، خوشی، راحت، مسرت، سکون ان کا بظاہر کوئی وجود نہیں ہے، یہ محبت سے جنم لیتے ہیں۔ محبت ہر انسان پر مختلف طریقوں سے نازل ہوتی ہے۔ ہر انسان اپنی ذہنی صلاحیت اور اپنے مزاج کے مطابق محبت کو سمجھتا ہے ۔ ہر انسان مختلف مراحل اور مختلف لمحوں میں محبت کے بھید پاتا ہے ۔ کسی بھی انسان کے جذبات اور احساسات دوسرے انسان سے ایسے ہی مختلف ہوتے ہیں جیسے کہ خود انسان دوسرے انسان سے۔ ہر انسان کی محبت کو بانٹنے اور پانے کی صلاحیت دوسرے سے مختلف ہے۔ بظاہر ایک ہی نوعیت کا نظر آنے والا جذبہ جب مختلف انسانوں کے حصے آتا ہے تو کچھ کے لیے یہ تکلیف، اذیت اور روگ بن جاتا ہے اور کچھ قلب و جان کا ایسا سکون پاتے ہیں کہ دنیا میں جنت سی راحت محسوس ہونے لگتی ہے۔
ہر انسان کی ذات کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک خیر کا اور دوسرا شر کا۔ خیر کا پہلو غالب ہوتا ہے۔۔کیونکہ انسان کو بھلائی اور محبت کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ محبت کتنی میٹھی سچی اور کتنی خالص ہوتی ہے یہ محبت کی نوعیت پر منحصر ہے اور انسان کے ظرف پر۔

اگر محبت بے لوث ہے تو اطمینان کشید کرے گی اور آپ کی ذات کو مسرت اور سکون سے بھر دے گی۔ اگر محبت کسی مخصوص شے سے ہے تو اُس کی طلب آپ کو بے چین رکھے گی۔ ایسی محبت آپ کی ذات میں بے قراری پیدا  کرے گی۔ وہ بے قراری اُس شئے  کے ملنے پر بے نیازی میں بدل جائے گی اور بے نیازی ایک وقت آنے پر اکتاہٹ میں۔۔ اور اگر وہ شئے  کسی اور کو مل جاتی ہے تو پھر انسان میں حسد، غم و غصہ اور نا شکری جنم لیتی ہے۔

اگر محبت اپنی ذات سے ہے تو یہ آپ کی ذات کے اندر ایسی بھوک کو جنم دے گی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ایسی محبت لالچ، تکبر اور خود غرضی پیدا کرے  گی۔ آپ اپنی ذات کی تسکین کے لیے ہر جائز اور نا جائز ذرائع استعمال کریں گے۔ اپنی “میں” اور انا کی تسکین کے لیے اپنے اِردگرد موجود انسانوں کے جذبات اور احساسات کی قطعاً پرواہ نہیں کریں گے۔ کتنے قتل ہیں دنیا میں جو صرف “میں” کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کتنی آنکھوں کے چراغ ہیں جو اس اپنی ذات سے محبت کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ ایسی محبت اتنی مہلک ہوتی ہے کہ یہ انسانوں سے جینے کا حق بھی چھین لیتی ہے۔

اب کرتے ہیں بات انسانوں کی انسانوں سے محبت کی۔ انسان معاشرتی حیوان ہے وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اُسے زندگی گزارنے کے لیے اپنے اردگرد کے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے وہ مختلف رشتوں اور تعلقات میں بندھتا ہے۔کسی رشتے یا تعلق کا بے لوث ہونا ہی کسی تعلق کی پائیداری ہے۔ اگر آپ رشتوں کو کسی خاص شئے یا وجہ سے مشروط کر دیں گے تو وہ وجہ ختم ہونے پہ وہ رشتہ بھی ختم ہو جائے گا۔ محبت نام ہے احساس کا کسی کی تکمیل کا، کسی کی انفرادیت برقرار رکھنے کا۔ اگر یہ سب تعلق میں موجود نہیں ہے تو پھر آپ کو کسی اور سے محبت نہیں ہے بلکہ آپ کو صرف اپنی ذات سے اپنی خواہشات سے محبت ہے۔ اور ایسی محبت صرف بے چینی اور بے قراری ہی لاتی ہے  اور آپ اس اطمینان اور سکون سے محروم رہیں گے جو ایک بے لوث محبت کا خاصا ہے۔ نوجوانوں میں یہ مسئلہ کافی سنگین ہے ایک طرف تو ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کے دعوے کیے جا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف محبت کے نام پر عجیب پابندیاں اور قیدیوں کی طرح ہتھکڑیاں لگائی جا رہی ہوتی ہیں۔ اگر آپ کسی کو پنجرے میں قید کر کے محبت جتلا رہے ہیں تو یہ آپ کی محبت نہیں ہے بلکہ صرف آپ کی خود غرضی اور قلبی تسکین ہے جو اسے سامنے دیکھ کے ہو رہی ہے۔ محبت تو نام ہے اپنے من پسند پنچھی کو آزاد فضاؤں میں اُڑتا دیکھنے کا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *