پولیس اور سیاستدان۔۔۔۔عزیز خان

موجودہ دور میں پولیس اور سیاستدان کا ساتھ چولی دامن کا ہے جب سے پولیس جوائن کی ،مختلف ادوار میں کبھی بھی کوئی MPA یا MNA تھانہ پر یا کسی آفس میں نظر نہیں آتا تھا۔
پھر ایک دور آیا 1988 میں تھانہ لیاقت پور ضلع رحیم یار خان تعینات تھا اِن آنکھوں نے دیکھا کہ ایک آزاد MPA کو زبردستی پولیس کے ذریعے اُٹھا کہ چھانگا مانگا کے جنگل میں پہنچایا گیا میرے لیے یہ بالکل نئی بات تھی۔
پھر میں نے دیکھا اپنے دوست پولیس آفسروں کو پوسٹنگ کیلئے سیاستدانوں کی منتیں کرتے اپنے ضلع کے سینئر افسران کو خوشامند کرتے۔۔
میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ ہم کیوں سیاستدانوں کی منتیں کر رہے ہیں تو بولے۔۔ خان صاحب تھوڑی سی بے غیرتی سو سُکھ۔۔
اور کُچھ عرصہ بعد انہی  دوست سے ملاقات ہوئی جن کا تبادلہ ایک سیاستدان نے کروایا تھا ،کافی پریشان دکھائی دیئے، پوچھنے پر بولے ۔۔۔بھائیاب لائف بہُت سی بے غیرتی اور تھوڑا سُکھ ہو گئی ہے
میں نے اپنی پولیس سروس میں بہُت کم PSP افسران دیکھے جو سیاستدانوں کے کہنے پر پوسٹنگ نہیں کرتے تھے اور یہی وجہ ہے پولیس ملازمین اپنے پوسٹنگ ٹرانسفر کےلیے سیاستدانوں کے دروازے پر بیٹھے رہتے ہیں۔
پھر ایک وقت آیا جب ہم ترقی کر کے DSP ہو گئے، پوسٹنگ اور مُشکل ہو گئی۔۔
شہباز شریف نے پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے بڑے نعرے لگائے، پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے بھی اعلانات فرمائے گئے۔
مگر Dsp لگنے کیلئے حلقہ کے دونوں MPA اور MNA کی سفارش ضروری تھی، DPO کیلئے حمزہ شہباز یا شہباز شریف کو خوش کرنا لازم تھا، PTI کی حکومت آنے کے بعد لگا تھا کوئی  تبدیلی ہو گی مگر آج بھی پوسٹنگ ٹرانسفر میں سیاستدان اُسی طرح ملوث ہیں خاص  طور پر پنجاب میں کمزور حکومت کی وجہ سے سفارش اور زیادہ ہو گئی ہے اُسی طرح سیاسی پوسٹنگز ہو رہی ہیں۔
جنوبی پنجاب کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے سیاستدان صرف اپنی مرضی کے SHO لگوا کے خوش ہو جاتے ہیں۔
پولیس کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے، صرف ہمارے سینئرز یہ سوچ لیں کہ عزت ذلت ،زندگی موت، پوسٹنگ ٹرانسفر صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
کتنے ٹرانسفر کریں گے اگر ہمارے سینئرز ڈٹ جائیں اور ہمت کریں تو یہ سیاسی گورنمنٹ کچھ بھی نہیں کر سکتی، مگر ہوتا ہے کہ ہمارے سفسر سب سے پہلے ہماری قربانی دیتے ہیں اور اپنی نوکری اور پوسٹنگ بچاتے ہیں۔
پھر ظاھر ہے بندہ اُسی کے پاس جائے گا جہاں سے علاج ممکن ہو اور وہ علاج MPA، MNA کے پاس ہے، ہمارے سینئرز کے پاس نہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *