• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عورت کا “میکہ” اہم اور مرد کا “میکہ” غیر اہم کیوں؟۔۔۔۔رمشا تبسّم

عورت کا “میکہ” اہم اور مرد کا “میکہ” غیر اہم کیوں؟۔۔۔۔رمشا تبسّم

SHOPPING

کچھ  روز  قبل مکالمہ ویب سائیٹ کے چیف ایڈیٹر محترم انعام رانا کی ایک پوسٹ پڑھی عنوان تھا “بیوی کو میکے بھیجیں”
جس میں محترم انعام رانا نے مرد حضرات کو مخاطب کر کے بہت خوبصورت الفاظ میں سمجھایا کہ  عورت کو میکے جانے سے نہ روکیں ۔انہوں نے کہا “دوستو گو زمانہ کافی بدل چکا ہے، شہروں کا کلچر تو  بہت ہی زیادہ  بدل  چکا ہے، لیکن اگر آپ کسی کی بیٹی لے ہی آئے ہیں تو یاد رکھیے کسی کے جگر کا ٹکڑا کاٹ کر لائے ہیں۔ آپکی “حاکمیت” یا “شوہریت” کی بنیاد بیوی کو اس کے میکے سے کاٹنے پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ کوشش کیجیے آپکی بیوی کو خود نہ کہنا پڑے، اسے بار بار پوچھتے رہیے کہ اگر وہ اپنے ماں باپ کو مس کر رہی ہے تو آپ اسے اسکے گھر والوں سے ملوا لائیں یا بھیج دیں۔ شادی میں باہمی محبت کا یہ پہلا زینہ ہے۔ اور پھر یاد رکھیے کہ کل آپ کی بیٹی نے بھی تو سسرال جانا ہے، اور یہ تڑپ بہت ظالم ہوتی ہے”

میں ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی  کہ  مرد کتنی خوبصورت اور پیاری تخلیق ہے اللہ کی ۔جہاں عورتیں دن رات مرد کو ظالم ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں ایک مرد اپنے جیسے مرد حضرات کو عورتوں کے ساتھ معاملے میں نرمی  برتنے  کی درخواست کر رہا ہے۔میں یہ بات بھی کہتی ہوں اور مانتی ہوں کہ عورت پر جب کبھی کسی قسم کا ظلم ہو تو عورتیں بہت کم یا بہت دیر سے اس معاملے کو زِیر بحث لاتیں ہیں جبکہ مرد فوراً انصاف کا مطالبہ کر کے مسئلہ منظر عام پر لے آتے ہیں۔اور عورت کو انصاف دلانے میں سب سے زیادہ کردار سوشل میڈیا پر مرد حضرات کا ہی ہے۔عورت خود بھی اپنے ہی حق کی بات کرتی ہے اور مرد بھی صرف عورت کے حق ہی کی بات کرتا ہے ۔

“مرد” کے حقوق کا  ذکر یا ذات کہاں ہے؟کہاں ان کے حقوق اور حق تلفی کی بات ہوتی ہے؟۔  معاشرے میں کچھ ہے  تو  صرف عورت ہی ہے۔ اسی کے حقوق ہیں, اسی کی ضرورتیں, اسی کے احساسات, جذبات, رشتے, تعلق, آزادی اور پھر یہی مظلوم اور مجبور بھی نظر آتی ہے۔ہر جگہ عورت کی مظلومیت اور مرد کی حاکمیت کا چرچا نظر آتا ہے۔غور کرنے کی ضرورت ہے کہ  مرد واقعی حاکم اور ظالم ہے یا یہ بھی عورت ذات کا ایک پھیلایا گیا نیا فتنہ ہے ۔جس میں وہ ہر صورت مرد ذات کو نیچا دکھا کر معاشرے میں بوسیدہ چیز کی حیثیت دلانا چاہتی ہیں، تا کہ عورت ہر طرح کی حدود سے نکل کر آزاد ہو جائے۔

لفظ “میکہ” پڑھ کر میں اس “میکے” کی اصطلاح سمجھنے کی کوشش کرتی رہی۔میکہ یعنی جہاں سے لڑکی رخصت ہو کر سسرال آئے۔جہاں اس کے ماں باپ, بہن, بھائی رہتے ہوں۔جہاں اس نے زندگی کے حسین لمحے گزارے ہوں،اور واقعی کوئی اگر اسے وہاں جانے سے روکتا ہے تو ظالم ہے۔
مگر کیا میکہ صرف عورت کا ہوتا ہے؟ مرد کا میکہ کوئی نہیں؟ کوئی جگہ نہیں جہاں اس کے خونی رشتے ہوں؟

عورت کو میکے جانے کی اجاذت دیں تا کہ  وہ والدین سے دوری کے دکھ میں مبتلا نہ ہو، مگر جو عورتیں اپنے شوہر کو لے کر الگ ہو جاتی ہیں،شوہر کے دل میں اس کے ماں ,باپ ,بہن ,بھائی کے خلاف نفرت پیدا کرتی  ہیں،یہاں تک کہ  اکثر مرد والدین کا لحاظ بھی بھول جاتے ہیں اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری بھی اور آخر بیوی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اسکی گھر سے الگ ہونے کی فرمائش بھی پوری کردیتے ہیں اور عورت مرد کو اسکے گھر والوں سے علیحدہ کر کے یا یوں کہہ لیں رخصت کروا کر لے جاتی ہے۔یعنی مرد بھی اپنے میکے  سے رخصت ہو جاتا ہے۔
تو اس وقت کوئی عورت میدان میں آ کر ایسی عورتوں کو کیوں نہیں سمجھاتی، نہ ہی مرد کے حقوق کی بات کرتی  ہے   کہ  مرد کے بھی والدین ہیں یعنی اسکا بھی” میکہ” ہے لہذا اسے ان سب سے بھی ملنے دیا جائے۔

عورت شادی کے وقت رخصت ہو کر آتی ہے چاہے روز میکے نہ جائے مگر کسی بھی طرح میکے سے مکمل طور پر لاتعلق نہیں ہوتی،مگر جب مرد کو اسکے والدین سے لڑوا کر رخصت کروا کر لے جاتی ہے تو وہ  بیٹا  اکثر پھر کبھی بھی والدین سے نہ ملتا ہے نہ ہی اُن کی  پرواہ کرتا ہے۔

کیسا دوہرا معیار ہے اس معاشرے کا کہ عورتوں کی مظلومیت کے رونے لے کر آئے دن عورتیں شور مچاتی نظر آئیں گی مگر اس طرف کبھی توجہ نہیں دیں گی کہ  لڑکی کسی بھی طرح اپنے والدین سے مکمل دور نہیں ہوتی اور اکثر خواتین  بیٹے  کو مکمل طور پر اسکے ماں باپ سے دور ضرور کردیتی ہیں اور اکثر معاملات میں تو بیٹا  پھر والدین کے جنازے پر جانا بھی ضروری نہیں سمجھتا کیونکہ اس کی بیوی اسکی سوچ پر مکمل طور پر قابض ہو چکی ہوتی ہے۔

ہم جن لڑکیوں کے میکے جانے کے حق میں بات کرتے ہیں ان میں سے اکثر کی مائیں بہت معمولی باتوں پر انکے باپ کو اسکے والدین سے چھین کر الگ ہو چکی ہوتی ہیں۔میں کسی بھی صورت صرف عورت کے حق کی بات کرنے کے خلاف ہوں۔عزت مرد کی بھی ہوتی ہے۔رشتے مرد کے بھی ہوتے ہیں۔ماں باپ کا گھر یعنی میکہ مرد کا بھی ہوتا ہے۔پھرکیوں اکثر ساری عمر مرد صرف بیوی کے بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ خوشی غمی گزارنے میں صَرف کردیتا ہے اور اپنے ماں باپ سے مکمل لاپرواہی اختیار کر لیتا ہے۔

آپ عورت کو شادی کے اگلے دن سیرو تفریح پر بھیج دیں ،عورت اپنے گھر والوں کے لیے  بے شمار اشیاء خریدنے کی خواہش بلکہ کوشش  کرے گی،مگر شوہرکے گھر والوں یعنی اپنی ساس،سُسر،نند،دیور جیٹھ  کسی  کے لیے  نہ تو وہ خود کچھ خریدے گی اور  نہ ہی اپنے شوہر کو کچھ خریدنے دے گی،بلفرض محل اگرکچھ  خرید ہی لے گی تو انتہائی احسان جتاتے ہوئے کوئی معمولی سا تحفہ،جو نہ دل کو اچھا لگے ،نہ نظر کو۔۔اور مرد پر حکمرانی کرتی یہ عورتیں سوشل میڈیا پر پھر مرد کے مظالم بیان کر کے داد وصول کرتی اور مرد پر لعنتیں ڈلواتی نظر آتی ہیں۔

کبھی سوچیں،یاد کریں،غور و فکر کریں ۔۔کوئی ایسا واقع بتائیں کہ  کسی عورت نے اپنے میکے سے شوہر کی وجہ سے ناراضگی پر رابطہ ختم کیا ہو،یا کسی وجہ سے ہمیشہ کے لیے  میکے سے الگ ہو گئی  ہو۔ اگر لڑکی میکے سے ناراض ہوتی ہے تو بھی اپنی کسی وجہ سے نہ  کہ   سسرال اور شوہر کی وجہ سے۔بہت کم کوئی مثال ملے گی یا شاید  ایک بھی نہیں۔
مگر ایسی مثالیں ضرور اور بےشمار ملیں گی  جہاں مرد اپنے گھر والوں سے ہمیشہ کے لیے  لاتعلق ہو جاتا ہےوہ بھی صرف اپنی بیوی کی خاطر یا اس کے کہنے پر۔عورت تو اپنے میکے کے بارے میں ایک بات تک نہیں سنتی اور شوہر کو دن رات اس کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے خلاف  باتیں کرکے بھڑکاتی یا اُکساتی رہتی ہے  ۔

عورت کو اگر اپنے والدین اور شوہر کے والدین سے ملنے جانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ ہر صورت اپنے والدین کو ترجیح دے گی۔اور شوہر بیچارہ اسی میں راضی ہو جائے گا۔بہت کم عورتوں کے میکے انکا انتظار کرتے ہیں کیونکہ وہ اکثر ملتی رہتی ہیں،مگر بیشتر مردوں کے میکے ان کی راہ تکتے ہیں اور اکثر تو والدین کی آخری سانس نکلتے وقت بھی پہنچ نہیں پاتے اور دیر کر دیتے ہیں۔
آپ کو سوشل میڈیا پر کبھی خالہ, ماموں, نانا, نانی کے خلاف کچھ نہیں ملے گا مگر آپ کو “پھپھو کی چالاکیاں” اور سازشوں کے متعلق بہت کچھ لکھا ملے گا۔ہر وقت سوشل میڈیا پر “پھپھو” کا رشتہ بدنام کیا جاتا ہے۔جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ مرد کی بہن ہوتی ہے۔حقیقت یہی ہے عورت صرف اپنے بہن بھائی کو ترجیح دیتی ہے اور یہی سوچ اپنے بچوں میں بھی پروان چڑھاتی ہے  کہ  صرف “ننھیال” اچھا ہے اور “ددھیال” ظالم اور اگر ظالم نہیں تو کم سے کم بچوں کے دل میں انکی محبت کم ہی پروان چڑھاتی ہیں۔

ایک لڑکی بہت آرام سے معمولی جھگڑوں کو بڑھا کر سسرال سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہے،مگر کسی صورت بہت بڑے مسائل پر بھی اپنے میکے سے کبھی خفا نہیں ہوتی۔
میں اکثر سوچتی ہوں مرد کتنا عجیب ہے   ،اپنا ہر رشتہ عورت کی خاطر چھوڑ آتا ہے، ساری عمر بیوی بچوں  کے لیے  وقف کردیتا ہے،پھر بھی جس حد تک ممکن ہو عورت شکوے شکایت کرنے کا موقع نہیں جانے دیتی۔آپ دنیا کا کوئی مرد دیکھ لیں بہت کم ہی بیوی کی برائی کرے گا خواہ وہ بیوی کتنی ہی بڑی آفت کیوں نہ ہو مگر ہر عورت کسی نہ کسی موقع پر اپنے شوہر کی برائی  ضرور کرتی ہے۔

یہاں مرد کو ظالم ثابت کرنے والا عورت مافیا بھی ہے۔ جو “جہیز لعنت ہے” کہہ کر بھی مرد کو ظالم اور لالچی ثابت کر رہا ہوتا ہے۔میں نے بہت سوچا اکثر معاملات میں جہیز کی فرمائش کر دی جاتی ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔اور اگر کوئی ماں باپ جہیز نہیں دے سکتے تو بھی ان سے تعاون کرنا چاہیے  اور دو جوڑے میں بیٹی رخصت کروا کر لے جانی چاہیے ۔
مگر اب اس جہیز نامی لعنت کی بھی اصطلاح سمجھیں۔۔وہ سامان جو لڑکی صرف اپنی ضرورت کے تحت ماں باپ کی حیثیت کے مطابق لاتی ہے جہیز کہلاتا ہے۔ جو استعمال بھی صرف لڑکی کرتی ہے ۔اور اکثر گھروں میں ہونے والی لڑائی یا سسرال سے شوہر کو لے کر علیحدہ ہونےکے پیچھے بھی یہی جہیز ہوتا ہے کہ  اگر سسرال میں سے کوئی ذرا سا کچھ استعمال کر لے تو اکثر خواتین سر آسمان پر اٹھا لیتی ہیں۔فرنیچر, لڑکی کے کپڑے, برتن وہ کسی کو نہ تو استعمال کرنے دیتی ہے بلکہ انہی باتوں پر شوہر کو لے کر علیحدگی اختیار کر لینے کو اپنا حق سمجھتی ہے۔

لڑکی کا لایا ہوا  سامان جہیز ہوتا ہے اور وہ لعنت ہے،تو مرد کے گھر والوں سے لاکھوں کے کپڑے اور زیور جو دلہن وصول کرتی ہے وہ لعنت کیوں نہیں؟۔۔ مرد کے گھر والوں کی طرف سے بنایا گیا سامان اگر ذرا سا ناقص ہو تو لڑکی والے ہزار باتیں بناتے ہیں۔یہاں تک کہ  منہ دکھائی میں اگر کوئی سونے کی چیز نہ گفٹ کی جائے تو ولیمہ پر صرف یہی موضوع  دلہن والوں کی طرف سے زیرِ  بحث ہوتا ہے۔حق مہر میں اچھی خاصی رقم نہ لکھوانا الگ عذاب ہے۔

اب اگر لڑکی کی لائی چیزیں جہیز ہے اور یہ لعنت ہے تو پھر مرد کی طرف سے بنایا گیا سامان بھی جہیز ہے اور وہ کیوں پھر لعنت نہیں؟کیوں لڑکی اسکو قبول کرنے سے انکار نہیں کرتی؟
ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص عورت مافیا ایک خاص ذہنیت کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔جن کا مقصد مرد کی ذات اور شخصیت کو جس حد تک ممکن ہو ختم کرنا ہے۔اور عورتوں کو مظلوم ثابت کر کے جتنا ممکن ہو سکے مزید بے پرواہ, آوارہ اور آزاد خیال  بنانا  ہے۔

میں لڑکی ہونے کے باوجود عورت کی بے جا آزادی , رونے دھونے اور مرد  کے خلاف پروپیگنڈہ اور سازش کی مذمت کرتی ہوں۔یہ خاص عورت مافیا اب معاشرے کو برباد کر رہا ہے ان کو کسی نہ کسی طرح آئینہ دکھا کر لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔ورنہ ہماری نسلیں ہر رشتے کے احترام سے بےزار ہو جائیں گی۔

میں دوہرے معیار کی قائل نہیں۔اگر سب عورتیں عورت کے میکے کے حق میں ہیں اور مرد بھی چونکہ عورت کے حق میں ہیں لہذا ایسے میں میرا مطالبہ ہے کہ  نہ عورت کو میکے جانے سے روکا جائے نہ مرد کو اس کے میکے سے الگ کرکے اسکے والدین کے گھر کے دروازے ہمیشہ کے لیے اس پر بند کیے جائیں ، اور اگر مرد سے اسکا میکہ چھیننا ہے تو پھر نہ مرد میکے جائے گا نہ ہی عورت۔دونوں صرف ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزاریں۔نہ لڑکی جہیز لائے اور نہ ہی مرد اس طرح کی فضول خرچی  منہ دکھائی اور کپڑوں پر کرے۔

ایک بات قابل ِ غور ہے کہ  کوئی بھی سوچ یا حقائق معاشرے کے تمام افراد کے لیے  یکساں نہیں ہوتے۔ہر شخص کے لیے  الگ ہیں۔اس لیے  تحریر میں اشارہ سب کی طرف نہیں بلکہ انہی کی طرف ہے جو ایسا کرتے ہیں۔میکہ مرد کا بھی عورت کا بھی۔جہیز عورت بھی نہ بنائے مرد بھی نہ بنائے۔والدین سے دوری عورت بھی نہ سہے اور مرد بھی نہ سہے۔عورت کے رشتوں کی بھی عزت ہے اور مرد کے بھی ۔کسی معاملے میں عورت غلط اور کسی میں مرد،پھر ہر صورت مرد کی کردار کشی کیوں؟

SHOPPING

مرد واقعی بہت خوبصورت معصوم اور بے وقوف  مخلوق ہے،ورنہ عورت کے کہنے پر کون ماں باپ سے تعلق توڑتا ہے۔میرے لیے  وہ ہر عورت بہت بری ہے جو صرف مرد کو برا ثابت کر کے اپنی بے جا آزادی کا راستہ آسان کرنا چاہتی ہے  اور بلاوجہ مرد کا کردار بُرا ثابت کرتی ہے اور ہر وہ مرد قابل احترام ہے جو عورت پر ہوئے ظلم پر آواز اٹھاتے ہیں اور عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
کچھ عورتوں کا مرد مخالف فتنہ دیکھ کر میں نے کچھ عرصہ قبل “مرد کھانے والی عورتیں” تحریر لکھی تھی۔جس پر مجھے کافی باتیں سنائی گئیں  کہ آپ عورت ہو کر ان مردوں کے حق میں بات کر رہی ہیں جو پہلے ہی آزاد ہیں اور عورت کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔مجھے عورت کے نام پر دھبہ صرف اس لیے  کہا گیا کیونکہ میں نے مرد کے حقوق کی بات کی اور اب بھی میں اسی بات پر قائم ہوں کہ  کچھ حادثات ہوتے ہیں،ظلم ہوتا ہے، ان کو الگ کردیا جائے کیونکہ حادثات قابو میں نہیں ہوتے۔۔اسکے علاوہ عورت واقعی اتنی مظلوم نہیں جتنا سوشل میڈیا پر انکا مچایا ہوا واویلا ہے۔جب تک ہم کسی بھی مسئلے پر مرد اور عورت دونوں کے حقوق کی بات نہیں کرتے اس وقت تک معاشرے میں سکون کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔عزت عورت اور مرد دونوں کی ہے۔ذات دونوں کی اہم ہے۔حقوق دونوں کے ہیں اور جب جب ظلم کی بات ہو گی خواہ مرد کرے عورت پر یا عورت کرے مرد پر دونوں کی مذمت بھرپور طریقے سے  کی جائے گی،اور کوئی عورت میرا ساتھ دے  یا نہ دے مگر میں پھر بھی یہی صدا لگاؤں گی کہ  مرد واقعی ہی بہت پیاری  مخلوق  ہے اور ظلم مرد اور عورت دونوں کے ساتھ ہوتا ہے۔جس کی مذمت ہم سب کو کرنی چاہیے ۔
اظہار میرا حق ہے
اختلاف آپ کا حق ہے
آپ میری رائے پر اختلاف کریں
میں آپ کے اختلاف پر رائے قائم نہیں کروں گی۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”عورت کا “میکہ” اہم اور مرد کا “میکہ” غیر اہم کیوں؟۔۔۔۔رمشا تبسّم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    حساس ترین تحریر۔۔۔۔ قابل مطالعہ۔۔۔۔۔ ذہن میں لگے زنگ کونہایت ہی عمدگی سے صاف کرنے کی اک اعلی کوشش ہے آپکی ۔۔۔۔۔۔۔ سلیوٹ تو بنتا ہے باس۔۔۔۔🙋
    رمشا جی ! اس مکالمہ میں آپ نے حقوق نسواں کے نام پر ہونے والی تباہی سے آگاہی بخشی ہے۔۔۔۔کچھ عورتوں کے پروپیگنڈا کی وجہ سے مظلوم عورت پر بھی اعتبا ر نہیں ہوتااور ہمارے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ بھی میڈیا کرتا ہے ۔ ۔۔۔۔ رہی بات مردوں کی تو اللہ تعالی نے مرد کو اتنا بےبس پیدا نہیں کیا کہ بیوی کے اشاروں پر ناچتا پھرے ۔۔۔اللہ رب کائنات نےمرد کو معتبر پیدا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر قرار دی۔۔۔ امامت اور حکومت کا حق بھی مرد کو سونپا ۔۔۔ پھر بھی نہ جانے کیوں مردپر عورت حاوی ہو جاتی ہے ۔۔۔ وہ عورت واقعی قابل مذمت ہے جومرد کا میکہ چھڑوا دیتی ہے ۔۔۔
    اور وہ مرد بھی جو عورت کی حاکمیت پر سر تسلیم خم کر دیتا ہے اور اپنے گھر والوں کو اپنے میکےکو بیوی کی دل جوئی کے لیے چھوڑ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔
    رمشا جی !اللہ پاک آپ پر سدا مہربان رہے آمین

  2. بہت ہی بہترین تحریر اور بھرپور مشاہدہ اورتجزیہ پر مبنی تحریر۔ جو آپ نے لکھا ہے ایسے ہی حالات میرے ساتھ پیش آئے ہوئے ہیں گزشتہ آٹھ سالوں سے اور جب میں نے اپنے خون کے رشتوں سے تعلقات توڑنے سے انکار کردیا تو اب بیوی میکے جاکر بیٹھ گئی ہے۔ اس کے اپنے گھر والے جو چاہیں کرتے رہیں چاہے وہ غلط ہورہا ہو تو وہاں بیوی اپنے میکے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی کہہ دے گی مگر شوہر کو اس کے اپنوں سے الگ کروانے میں ان کی زیادتیوں کو ایک ایک کرکے گن کر لکھ کر رکھ لے گی اور اپنے گھر والوں کی غلطیوں کی پردہ پوشی کرتی رہے گی۔شوہر کو کہے گی کہ تمھارا معاملہ میں اللہ کی بارگاہ میں رکھوں گی کل کومطلب شوہر اتنا ظالم ہے اور جب شوہربیوی کو حقیقت کا آئینہ دکھائے تو اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔ اور بڑی معذرت کے ساتھ اگر کسی کو میری اس بات کا برا لگے تو میں ابھی سے معذرت چاہتا ہوں مگر درحقیقت ان رشتوں کےفساد بگاڑ یا طلاق میں اکثر بیوی کی ماں کا بڑا کردار نظرآتا ہے۔ یہ وہ ماں ہی ہوتی ہے جو خود تو بڑی تکلیفوں سے تنگی سے جی جی کر جیسے تیسے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ بڑھاپے تک اپنے سسرال کے ساتھ رہتی ہےچھوڑتی نہیں ان کو مگر اب وہی ماں اپنی ہی بیٹی کو اس کے سسرال سے الگ کروانے میں اس حد تک چلی جاتی ہے کہ یا تو اس کی بیٹی کا شوہر اپنے خونی رشتوں کو چھوڑ دیتا ہے یا پھر اپنی بیوی کو طلاق دیدیتا ہے۔ ہر حال میں بیوی کی ماں کا کردار اس رشتے کے بننے یا بگڑنے میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ شکریہ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *