حُبِ وطن کی منزل۔۔۔۔غلام رسول بلوچ

گزشتہ پچھتر سالوں سے جو سلوک سرکارِ پاکستان کی طرف سے باشندگانِ بلوچستان کے ساتھ روا رکھا ہے، اس پر ہمارے اہلِ دانش، اہلِ سیاست حتیٰ کہ اہلِ وطن بھی ایک حد تک رنجیدہ اور ناراض ہیں۔ لیکن حقیقت میں غور کیا جائے تو سرکار نے جو کاروائی کی ہے اور کر رہی ہے، وہ کوئی غیر معمولی نہیں ہے لیکن ہم یہ ماننے لیے تیار نہیں ہیں کہ ظلم اور بدمعاملگی انسانی نیچر میں طبعی ہیں۔ تاہم معمولی انسانی تجربہ یہ بتلاتا ہے کہ جب کوئی شخصِ واحد یا جماعتِ انسانی، ایک دفعہ کسی دوسرے کے مال و منال اور حقوق پر قبضہ کر لیتی ہے اور ایک مدت تک اس سے مستفید ہوتی رہتی ہے تو یہ اس کے لیے ایک نہایت ہی مشکل امر ہو جاتا ہے کہ وہ شخص یا جماعت محکوم و ماتحت کے دعوے پر اس کے حقوق اس کو آسانی سے دے دیں۔

عام طور پریہی دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک مدت کے ناجائز یا جابرانہ قبضے کے بعد شخص یا جماعت قابض کی ذہنی اور اخلاقی حالات میں ایسی تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ اس کو فریقِ محکوم و ماتحت کے دعوے خلافِ قدرت اور بیہودہ معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اور وہ اپنا جائز حق سمجھتا ہے کہ ہر قسم کے وسائل سے اپنے قبضے اور اختیارات کی حمایت اور محافظت کرے۔ اور شخص غیرقابض کو نہ صرف اس کے دعوؤں کی بیہودگی کا یقین دلائے بلکہ جبر و تشدد سے بھی اس کی ان سب کوششوں کا مقابلہ کرے، جو اپنے حقوق کے واپسی کے لیے کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ اگر انسانوں کے معمولی تعلقات ہیں، یہ بات روز مرہ دیکھنے میں آتی ہے تو سیاسی (پولیٹیکل) دنیا میں اس کا تجربہ اور مشاہدہ اور بھی وضاحت سے ہوتا ہے۔

tripako tours pakistan

ہم یہاں شاہِ برطانیہ کی مثال دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس بات کو باور نہیں کرتے ہیں کہ ہندوستان میں انگریز اہلِ ہند کے فائدے کے لیے آئے تھے۔ اور ان کی حکومت محض اہلِ ہند یا اہلِ ملک کے فائدے کی غرض سے تھی۔ انگریزی قوم کو ہندوستان پر قبضہ رکھنے میں بڑا فائدہ تھا۔ شاہِ برطانیہ کے تاج میں ہندوستان سب سے بڑا نگینہ تھا۔ شہرت، طاقت اور ملکی رُتبہ کے علاوہ انگریزی قوم کو ہندوستان سے بہت کچھ مالی فائدہ بھی ہوا تھا۔ ایسی صورت میں قدرتآ انگریزوں کی وہ جماعت جو ہندوستان پر حکومت کرتی تھی اور جن کے ہاتھ میں کروڑہا ہندوستانیوں کی قسمت تھی، ہندوستانیوں کی ان کوششوں کو جو وہ اپنے اختیارات کی کمی اور اپنے حقوق کی بحالی کے لیے کرتے تھے، پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اول تو وہ ہندوستانیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ اہلِ ہند کی بہبود اسی میں ہے کہ ہندوستان کے طرزِ حکومت میں کوئی مداخلت نہ ہو۔ لیکن جن لوگوں پر یہ جادو نہیں چلتا تھا ان کو جبرآ روکنا بھی وہ اپنا فرض تصور کرتے تھے، اور آج باشندگانِ بلوچستان کے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس وقت چند باشندگانِ بلوچستان غالبآ اسی خیال میں بیٹھے ہیں کہ جس وقت وہ حکمرانوں سے اپنے حقوق طلب کریں گے ، اوراسی وقت انہیں یہ حقوق مل جائین گے۔

یہ تجربہ گذشتہ پچھتر سالوں سے آزمایا جا رہا ہے، لیکن یہ خیال ہر وقت جبر او ر تشدد میں اضافے کا سامان مہیا کرتا رہا ہے اور کر رہا ہے۔ اگر یہ چند باشندگان بلوچستان والوں کا یہ خیال کہ سرکار محض خیال طلب کرنے پر بخوشی ان کے سیاسی حقوق عطا کر دے گی محض ایک خام خیالی ہے، کیونکہ بلوچستان بھی پاکستان کے تاج میں سب سے بڑا نگینہ ہے۔

لیکن ہمیں پہلے سے ہی یقین کامل تھا کہ جس وقت بلوچستان والوں نے اپنے حقوق طلب کرنے کی کوشش کی اور اپنے آپ کو قومی رشتے میں مضبوط کرنے کا ارادہ کیا تو فورآ حکام وقت کی طرف سے ان کی مخالفت ہوگی اور اگر ضرورت ہوئی تو جبر وتشدد کے ساتھ چند مسخ شدہ لاشیں بھی نظر آئیں گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔

بذاتِ خود ہم کو اپنے حکامِ وقت کے کاروائیوں پر کوئی حیرت ہوئی اور نہ ہے۔ ہم اپنے ذہن میں اس جبر و تشدد کے لیے تیار تھے اور ہیں۔ اور اسی لیے ہم کو ذاتی طور پر اس جبر سے بہت تکلیف نہیں ہوئی۔ ہم نہایت خلوصِ دل سے اپنے اہلِ وطن (باشندگانِ بلوچستان) کی خدمت میں گذارش کرنا چاہتے ہیں کہ قومی خدمت کا راستہ آسان گذار نہیں ہے۔

جو لوگ قومی خدمت کرنا چاہتے ہیں، ان کو اس قسم کے جبر و تشدد اور ظلم کے لیے تیار رہنا چاہیے، ورنہ اس راستے میں قدم نہیں رکھنا چاہیے۔ گورنمنٹ آف پاکستان یعنی کہ سرکار پاکستان جو کچھ کر رہی ہے وہ دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے دیگر سرکاریں بھی کرتی چلی آئی ہیں۔ جس طرح شاہِ برطانیہ ہندوستان پر حکومت کرتی تھی، جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے وہ ہم سے پہلے دیگر ممالک کے محبان وطن کے ساتھ بھی ہو چکا ہے اور ہوتا رہا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

پس عقلمندی اور دانائی اسی میں ہے کہ بغیر کسی غصے و ناراضی کے نہایت سنجیدگی اور متانت سے کام کیا جائے۔ اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اس منزل میں جو تکلیفیں دنیا میں دوسرے انسانوں کو ہوئی ہیں، وہ ہمیں بھی ہوں گی۔ ان کے بغیر راہ گذاری ناممکن ہے۔ خواہ مخواہ شکوہ شکایت میں وقت ضائع کرنے اور اپنی قوتوں کو بیجا استعمال اور تصرف سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اس راستے میں نہ شکوہ و شکایت کی گنجائش ہے اور نہ شخصی نفع و نقصان کے حساب کو دخل ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply