مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے دور واپس جانا ہے

شاکر جی
کاش میں دورِ پیغمبر میں اُٹھایا جاتا ۔۔۔۔!!! کیوں اُٹھایا جاتا ؟؟ کیا رسالت رحلتِ عربی تک ہی محدود تھی ؟؟ کیا تاقیامت تک یہ نسخہ کیمیا اپنی آب و تاب سے جاری نہیں ؟ آج اس پُرستائش دور میں ایسی بے نیازی کیونکر ؟؟ ہر دور رسول کا دور ہے ، حیاتِ رسالت مآب کی موجودگی اپنی جگہ عالی و افضل لیکن قدرتِ الہیٰ کے آگے یہ بے لگام خواہش کی کیا ضرورت ؟ آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔ساری گفتگو اپنے زیر زبر کے ساتھ عین الیقین سہی لیکن ایک عرض خاکسار بھی سماعت کر لیجئے ،،، انسان ہوں ، اپنی تمام تر خرافات و مجہور عقائد کے باوجود فطری و نفسی اضطرابیت کے آگے جھک بھی جاتا ہوں ۔۔ خواہشوں کی لگام بہکنا لازم لیکن شعور کے کسی حصے میں یہ تڑپ اپنی جگہ بنا ہی لیتی ہے کہ وہ دور انسانیت کی سربلندی کا عظیم ترین دور تھا ۔
وہ دور جب انسان اپنے آدمیت کے لبادے میں پوری طرح کھڑا ہو رہا تھا ،، نفس کی بہترین تعلیم گاہ کے آگے سجدہ ریز تھا ،، پستیوں ، ناکامیوں کی بھیڑ میں نجات کے بجائے فلاح کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھا ۔۔ جب مساوات ، اخوت مومن کی میراث ثابت ہو رہی تھی ۔۔ خدا کی دی آزمائش میں ایمان کی ہنرکاری کا سامان پیدا ہو رہا تھا ۔ حیوانی جبلتوں سے بیزارگی عین انسانی نفوس کی بہترین روش میں بدل رہی تھی ۔ایک وحدانیت کا جھنڈا تمام تر خدائوں کو روندتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔۔ انسان کو ایک نظریہ کے آگے سرنگوں ہو کر باطل سے تقابل کا موقعہ مل رہا تھا ۔۔ جہاں ایمان کا حصول خالص صلہ کے بغیر تھا ،،،
قُل لاَّ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا يُوحَى إِلَيَّ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلاَ تَتَفَكَّرُونَ ۔۔۔ الانعام ٥٠
اے رسول کہہ دیجیے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے کی جاتی ہے آپ کہیے! کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہے؟ تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے؟جہاں رسول سے منسوب کوئی ایسی بات نہ تھی جو قرآن کے ہم پلہ قرار پائے ،، جہاں تعلیم کی بنیاد عقائد کی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کی روشن دلیلیں تھیں ۔
لیکن آج کا دور رسول عربی کی اُمت سے متصل سہی لیکن ظلمت و منافقت کی عظیم آماجگاہ ہے ، آج کا دور فرقہ کی پروان چڑھتی آکاس بیلوں کا خون خوار جنگل ہے ،، آج کا دور جہاں مسلمان کہلانے سے پہلے مسلک کی پہچان کو عین ایمان قرار دیا جاتا ہے ،، آج کا دور جہاں عین شعار دین و حقائق دین کو چند رسومات کا لبادہ پہنا کر اسلام کو مخصوص خدوخال سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔۔ وہ اسلام جو عالمگیر تھا آج مولوی کے حجرے میں پابند سلاسل ہے ۔۔ وہ اسلام جس نے قوموں کی رہنمائی کرنی تھی آج مشائخ دین کے نام نہاد کلاکاروں کی بدولت خود اپنا راستہ بھٹک چکا ہے ۔۔ وہ دین جو غلبہ کی تعلیم تھا آج ہر کھنچتی لکیر تلے مغلوب ہے ۔۔ ۔ آج کا اسلام چند وظائف کے طفیل جنت کی حسین راہیں متعین کر دیتا ہے ،، جس طرح موسیٰ کی تعلیم کو تالمود نے آن دبوچا اسی طرح اسلام کی تعلیم کو اغیار کے قال اوکما قال نے آن دبوچ لیا ۔۔ پھر ایسے ظلم صفت ماحول میں جی کر کیا کرنا ۔کیوں نہ اس حسرت کو دل کی پناہ گاہ میں آرام بخشا جائے ،، پُرنم آنکھوں سے اس جملے کو دہرایا جائے ۔ ۔۔کاش میں دورِ پیغمبر میں اُٹھایا جاتا ۔۔۔ !!!

Avatar
شاکرجی
میری سوچ مختلف ہو سکتی ہے ۔۔ میری کاوش غیر سنجیدہ نہیں ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *