• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور۔۔۔ مگر اعتدال پسندی کے ساتھ

میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور۔۔۔ مگر اعتدال پسندی کے ساتھ

ہمارے ایک صحافی دوست نے بہت ہی عجیب سی تحریر پوسٹ کی جو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے تھی وہ تحریر ہم یہاں بیان نہیں کرنا چاہتے بس اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں ایسا لکھنے کا موقع دینے والے ہم خود ہیں ۔ہم نے متبرک اور انتہائی اہم دنوں کو بھی اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ہم نے کیونکہ ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھو لی تھی اس لئے ہما رے گھر میں TV کا کو ئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں کوئی اتناشوق تھا مگر ہمارے والد محترم کو ہر مذہبی دن زبانی یاد ہوا کرتا تھا اور ہمارے گھر میں تمام اسلامی دن مذہبی جوش وخروش سے منائے جا تے تھے۔ ہر نیاز کا بہت اہتمام کیا جاتا تھا ہم اپنے پہلے ایک کالم میں شبِ برات کے حلوے کے بارے میں لکھ چکے ہیں اور اس دفعہ جب محلے کے گھر سے چکن اور بیف بریانی آئی توہم نے اپنے صاحبزادے کو کہا کہ ہم بچپن میں تو لوگوں کے گھر خود جا جا کر بانٹا کر تے تھے اور ربیع الاو ل میں تو ہمارے یہا ں عیدکا سماںہو تا تھا ۔ہم پورا دن خوب کھاتے تھے اور خوب بانٹتے تھے مگر آ ج کا 12 ربیع الاول ہما رے 12 ربیع الاول سے مختلف ہے۔
اب لوگ چراغوں کے بجائے چا ئنالائٹ لگا تے ہیں جو کہ واقعی ایک خوب صورت منظر پیش کر تی ہیں ہم اپنے زمانے میں 12 ربیع الاول کی رات مسجد میں جا گتے تھے اور صبح تک عبا دت کرتے تھے اور مسجد میں ہی سحر ی کا انتظا م ہو تا تھا اور سحری کر کے گھر آتے تھے ،مگر اس مرتبہ 12ربیع الاول کی شان ہی نرالی ہے ہر طرف صبح بہاراں ہے، پورے کراچی کو دلہن کی طر ح سجایا گیا ہے ہر طرف نعتوں کی آواز یں اور یا رسول اللہ کی صدائیں۔ ہم بھی اپنے دوست و احباب کے ساتھ چراغا ں دیکھنے نکلے اور بہت سی جگہوں پر گئے مگر ہم یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ جس ڈھنگ سے کیا جا رہا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ہرجگہ بڑی بڑی گا ڑیوں پر بڑے بڑے اسپیکرزرکھ کر نعتیں چلانا ،بر قی قمقمے اسطرح لگا نا کہ روڈ بند ہو جائے، لنگر اسطرح بانٹنا کے رزق کی بے حرمتی ہو،بے شک یہ دن ہرمسلمان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور بطور امت محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں اس دن کے شایان شان ہمیں منانا چاہیے۔ اور اس دن کو منانے کے بہت سے اسلامی حوالے بھی ملتے ہیں جیسا کہ ابو لہب کا واقعہ ہے کہ اس نے اپنی باندی ثوبیہ کو صرف اس بات پر آزاد کردیا تھا کہ اس نے محمد بن عبداللہ کے پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی ۔
ابو لہب کے انتقا ل کے بعدحضرت عباس نے اسے خواب میں دیکھا اور پو چھا کہ تمہا رے ساتھ کیا سلو ک ہوا ؟ تواس نے بتایا کہ تم سے جدا ہو نے کے بعد عذا ب میں مبتلا ہو ں مگر ہر پیر کے دن ا نگلی سے ٹھنڈ ک ملتی ہے جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی باندی ثوبیہ کو محمد بن عبداللہ کی پیدائش پر آزادکر دیاتھا۔ غورطلب بات یہ ہے کہ جب ابو لہب جیسے دشمن رسول، کا فر کو اپنے بھتیجے محمدبن عبداللہ کی ولادت کی خو شی منا نے پر جہنم میں را حت مل سکتی ہے تو ایک مسلمان کو محمدرسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانے پر بے پایا ںاجر کیوں نہیں ملے گا؟(یہ عبارت کا خلاصہ ہے)
امام محمد بن اسماعیل بخاری نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے(صحیح بخاری:5101);علامہ ابوالقاسم لکھتے ہیں ” ابلیس ملعون زندگی میں چار مرتبہ چیخ مار کر رویا۔پہلی مرتبہ جب وہ ملعون قراردیا گیا۔دوسری مرتبہ جب اسے بلندی سے پستی کی طرف دھکیلا گیا۔تیسری مرتبہ جب سرکار دو عالم نور مجسم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی ،چوتھی مرتبہ جب سورة الفاتحہ (الحمد شریف) نازل ہوئی۔“ (روضاالانف جلد اول)
جشن عید میلادالنبی کا منانا قرآن وحد یث سے ثابت ہوا، یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت کی خوشی پر صرف شیطان کوتکلیف ہوئی۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں” حدیثوں میں آیاہے شب میلادمبارک کو عالم ملکوت (فرشتوں کی دنیا ) میں ندا کی گئی کہ سارے جہاں کو انوار قدس سے منور کردو ،زمین وآسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہ جنت کو حکم ہوا کہ فردوس اعلیٰ کو کھول دے اور سارے جہان کو خوشبوئوں سے معطر کردے “ (مدارج النبوة)طبقات ابن سعد میں ہے کہ ” جب سرور کائنات کا ظہور ہوا تو ساتھ ہی ایسا نور نکلا جس سے مشرق تا مغرب سب آفاق روشن ہو گئے۔
ایک دفعہ آقا ئے دو جہاں سرورکون ومکاں کے گرد صحابہ کرام اس طرح جھرمٹ بنائے ہوئے بیٹھے تھے جیسے چاند کے گرد نور کا ہالہ ہوتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا یارسو ل االلہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی ولادت کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ” میں اپنے باپ حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور حضرت عیسیٰ ؑکی بشارت ہوں“۔حضرت امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ جس رات نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیدا ہوائے وہ رات لیلةالقدرسے بھی افضل رات ہے۔ اس لئے کہ لیلةالمیلاد میں سرکار دو عالم کا ظہورہوا جبکہ لیلةالقدرتو آپ کو عطا ہوئی ہے۔ (سیرت محمدیہ ) میرے پیر و مرشد حضرت پیر سید فیروز شاہ قاسمی فرماتے ہیں کہ امت مسلمہ کیلئے اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہو سکتی، اس سےبڑھ کر زیاد تی کیا ہوگی کہ محفل میلاد کو ”بدعت “ قرار دیا جا ئے اور ہمیں اہل بد عت کے نام سے پکا را جائے “ہما را مو قف بھی یہی ہے کہ میلاد النبی کے نام سے قا ئم مجا لس اور جلوسوں کو ہر قسم کی بد عات ،منکرات اور خرافات سے پاک ہو نا چاہئے تا کہ چند لو گو ں کی بے اعتدالیوں کی بنا پر ایک مستحسن امر کے خلا ف منفی پروپیگنڈے کاجواز نہ مل سکے ۔معروف اہلحد یث عالم علامہ وحید الزما ن لکھتے ہیں :”اس حدیث (یعنی رسول اللہ کا پیر کا رو زہ رکھنے )سے ایک جما عت علما ئےنے آپ کی ولادت کی خو شی یعنی مجلس میلاد کر نے کا جواز ثا بت کیا ہے۔اور حق یہ ہے کہ اگر اس مجلس میں آپ کی ولادت کے مقا صد اور دنیاکی رہنما ئی کے لئے آپ کی ضرورت اور امور پر ،رسالت کی حقیقت کو با لکل صحیح طر یقہ پر اس لئے بیان کیا جا ئے کہ لو گوں میں اس حقیقت کا چر چا ہواورسننے والے یہ ارداہ کر کے سنیں کہ ہم کو اپنی زند گیا ں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطا بق گزارنا ہیں اور ایسی مجالس میں کو ئی بد عت نہ ہو ،تو مبا رک ہیں ایسی مجالس اور حق کے طا لب ہیں، ان میں حصہ لینے والے نیک لوگ ہیں ،بہر حال یہ ضرورہے کہ یہ عہد صحا بہ میں نہ تھیں (لغات الحدیث،جلد3:ص:119 )یہ بات درست ہے کہ مو جو دہ ہیت پر جو مجا لس میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منعقد ہو تی ہیں یاجلوس کا شعار ہے ‘یہ جدید د دور کی معروف اقدار ہیں اور اپنایاہے مثلاً؛اذان میں الصلوة خیرہ من النوم ، مصحف مبارک میں سورتوں کے نام ،آیات کی علامات ،اعراب لگانا وغیرہ۔ کتب احادیث ،بھی دوسری صدی ہجری میں یا اس کے بعد مرتب ہوئیں۔
قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لئے تمام معاون علوم بعد میں ایجادہوئے اور کسی نظریے سے وابستگی کے اظہار کے لئے یا کسی غلط بات کے استر داداور اس پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے جلوس نکالنے کی روش قائم ہوئی۔تقریباًتمام مکاتب فکرنے دینی مقاصد کے لئے جلوس نکالنے ،مثلاً، شوکت اسلام ، نفاذ شریعت ،ناموس رسالت اور عظمت صحابہ وغیرہ کے نام پر جلوس نکالے جاتے رہے ہیں اور یہ تمام سر گرمیاں دین اور مقاصد دین سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں اس دور میں قبول عام مل چکا ہے۔اسی طرح دینی جماعتوں کا قیام تبلیغی اجتماعات کا انعقاد،اففتاح بخاری یا ختم بخاری کی تقریبات ، مدارس کے سالانہ جلسے یا پچاس سالہ اور ڈیڑھ سوسالہ جشن ، سیرت النبی کے جلسوں کا انعقاد، مقام حیرت ہے کہ اس طرح کی تمام سر گرمیوں پر کبھی کسی نے کوئی فتویٰ صادرنہیں کیا ، تو صرف محافل و جلوس میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ہدف تنقید بنانا یا بد عت قرار دینا انتہائی زیادتی ہے۔میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بد عت قرار دینے والوں کا کام آسان ہے کہ وہ فتویٰ دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جا تے ہیں۔میر ی خواہش ہے کہ ان مجا لس کو دینی تعلیم و تر بیت کا مو ثر ذر یعہ بنا نا چا ہئے اور محبت رسول اللہ کا ثمر اطا عت واتباع نبو ی کی صو رت میں ظا ہر ہو نا چا ہئے۔پیشہ ور واعظین ،ومو ضوع روایات بیان کر کے لو گوں کی عقیدت کو اپنی دنیا سنوارنے کے لئے ابھارتے ہیں اور اسے روحا نی سرورکاذریعہ بنا لیا گیا ہے خیر کا کام اس انداز سے ہو نا چا ہئے کہ اس کے مثبت نتا ئج برآمدہو ں،لاوڈاسپیکر کااستعمال بقدرِضروت اور مناسب وقت تک ہو،یہ نہ ہو کہ لا وڈاسپیکر کے شور سے لو گو ں میں بیزاری اور نفرت پیداکی جا ئے کسی اور کی غلط روِش کو اپنے لئے جوازنہ بنایا جائے۔ چراغا ں کے لئے بجلی کا استعمال قانون کے دائرے میں ہو نا چا ہئے ،نا جائز طریقے اختیا ر کر کے اسے سعادت یا با عث اجر سمجھنا غیر شرعی فعل ہے۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ جلہ شانہ ہمیں وجہ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی اور حقیقی محبت عطا فرمائے۔۔

مزمل فیروزی
مزمل فیروزی
صحافی،بلاگر و کالم نگار پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے رکن مجلس عاملہ ہیں انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی وطن عزیز کے نامور انگریزی جریدے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے روزنامہ آزاد ریاست میں بطور نیوز ایڈیٹر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ صبح میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں اردو میں کالم نگاری کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں آپ مصنف سے ان کے ٹوءٹر اکائونٹ @maferozi پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *