سبز پوشوں اور بے ہوشوں کے درمیان ۔۔۔۔ ژاں سارتر

(چوتھا حصہ )

جس طرح لاہور پر حملہ آور بھارتی افواج بین الاقوامی سرحد کے آٹھ کلومیٹر اندر بی آر بی پر روکی گئیں، اسی طرح سیالکوٹ کے محاذ پر جارح بھارتی فوج کو چونڈہ، ظفروال اور بدیانہ وغیرہ علاقے میں روکا گیا اور انہی مقامات پر لڑائیاں لڑی گئیں۔ اس جنگ میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستان نے کہیں جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا تھا، اس لیے کھیم کرن اور راجستھان کے بعض علاقوں کے سوا کسی محاذ پر ہماری افواج کسی قابل ذکر بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوئیں۔ اب آپ کشمیر سے لے کر پنجاب اور سندھ تک کے نقشے پر نظر ڈالیے اور ہر علاقے کی مختلف پوزیشن کو نظر انداز کر کے صرف یہ دیکھ لیجیے کہ حملہ آور فوج سینکڑوں کلومیٹر طویل پٹی پر اوسطاً آٹھ کلومیٹر اندر داخل ہوئی اور اسے فرسٹ لائن آف ڈیفنس پر ہی روک لیا گیا۔ اس طرح کتنے مربع کلومیٹر علاقہ بھارت کے قبضے میں گیا۔ اس بات کو جواز بنانا کہ اس قدر پاکستانی علاقہ بھارتی قبضے میں تھا، ایک قطعی غیر اہم بلکہ احمقانہ اعتراض ہے کیونکہ یہ علاقہ مستقلاً بھارت کے قبضے میں نہیں رہنا تھا اور نہ سرحدیں تبدیل ہونی تھیں۔ یہ جارح فوج کا کام تھا کہ اپنی تین گنا بڑی قوت کو کام میں لاتے ہوئے ہماری دفاعی لائن کو روندتی ہوئی اپنے مقاصد حاصل کرتی لیکن کیا بھارتی کسی بھی مقام کے بارے میں بھی دعویٰ کر سکتے ہیں کہ انہوں اس جگہ ہماری دفاعی لائن توڑ دی تھی اور ہمارے کسی اہم شہر یا مقام پر قابض ہو گئے تھے؟ ہمارے لیے مقام شکر و اطمینان ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔ ہمارا واحد مقصد اپنا دفاع تھا جو جرنیلوں اور جی ایچ کیو کی بعض غلطیوں کے باوجود فیلڈ کمانڈروں کی ذہانت اور ینگ آفیسرز اور جوانوں کی بہادری کی بدولت مکمل طور پر حاصل کیا گیا۔

اس جنگ میں بھارتی حملے کا محور بھی پنجاب ہی تھا اور ہمارے دفاع کا مرکز بھی وہی علاقہ تھا۔ اگر بھارتی بھرپور قوت کے ساتھ پنجاب کے بجائے، سندھ کے علاقے میں حملہ کرتے تو ہماری فوج بھی وہیں بھجوائی جاتی۔ لیکن شدید گرم ریگستانی علاقے میں جنگ جسے ڈیزرٹ وارفئیر کہا جاتا ہے، اس کے لیے بھارتی فوج ہرگز تیار نہ تھی۔ بھارت نے اس وقت تک عام انفنٹری ڈویژنز کے ساتھ مائونٹین ڈویژن تو تیار کیے تھے لیکن صحرائی علاقوں میں جنگ کے لیے ان کے بھاری ٹینک ناکارہ تھے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت لاہور ، قصور اور سیالکوٹ کے ان علاقوں پر قابض ہو کر پاکستان کو گھٹنوں پر جھکانا چاہتا تھا، جو سرحد کے نزدیک آسان شکار ہونے کے علاوہ، آبادی اور صنعت و تجارت کے بڑے مراکز بھی تھے اور پاکستان کی مرکزی شاہراہ بھی ان کے قریب ہی سے گزرتی تھی۔ ظاہر ہے کہ ایسے بڑے شہر سندھ میں خاصی گہرائی میں واقع تھے، اس لیے جنگی منصوبے کا سارا فوکس لاہور پر مرکوز تھا۔ یہاں تک کہ سیالکوٹ اور قصور پر حملے بھی لاہور کو حصار میں لینے کے لیے کیے گئے تھے تاہم بھارتی فوج اپنی عددی برتری کو استعمال کرتے ہوئے سندھ میں توجہ بٹانے والا حملہ کرنے کی پوزیشن میں تھی اور اس نے کیا جس کا دفاع فوج کی معمولی سی تعداد اور حر رضاکاروں کے ساتھ کیا گیا۔

اب ایک نظر ڈالیے اس پراپیگنڈے پر جس کا شکار بعض پاکستانی بھی ہو جاتے ہیں۔ چھ ستمبر کی شب دو بجے ہونے والے حملے پر صبح ہی بھارتی فوج نے لاہور پر قبضے کا دعویٰ بھی کر دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بھی یہی خبر نشر کر ڈالی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج کا قبضہ صرف لاہور اومنی بس سروس کی اس بس پر تھا جو بی آر بی نہر کے جلو موڑ پل سے بھارتی فوج ساتھ لے گئی تھی۔ اس کے علاوہ لاہور شہر کا کوئی دوردراز کونا بھی ان کی دسترس میں نہ تھا۔ آکاش وانی سے روز بھارتی فوج کی کامیابیوں کی داستان ہوش ربا نشر ہوتی لیکن بھارتی فوج کے قدم پہلے حملے میں حاصل کی گئی زمین سے کچھ پیچھے تو ضرور گئے لیکن آگے نہ بڑھے۔ اس جنگ کی دلچسپ بات یہ تھی کہ پاک فضائیہ کے پاس کل ڈیڑھ سو جنگی طیارے تھے جن میں سے ساڑھے چار سو آکاش وانی (آل انڈیا ریڈیو) نے مار گرائے۔ اس جنگ کے دوران عالمی میڈیا میں ہر نشریاتی اور اخباری ادارے نے اپنے رجحان کے مطابق خبریں نشر کیں۔ بھارت نواز میڈیا ظاہر ہے کہ بھارت کے حق میں خبریں دے رہا تھا تاہم رفتہ رفتہ صورتحال واضح ہوتی چلی گئی تو عالمی میڈیا میں بھارت کی سبکی کا آغاز ہوگیا۔ دنیا کے بعض بڑے اخبارات نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ بھارت کی بڑی فوج صرف ایک نہر کیوں عبور نہ کر سکی۔ یہاں تک جنگ کے بعد بھارت میں جنرل چودھری سے یہ سوال کیا گیا کہ سترہ روز تک اس کی فوج ایک نہر پار کیوں نہ کر سکی؟

اسی طرح سیالکوٹ کے چونڈہ سیکٹر میں بھارت کے آرمرڈ ڈویژن کے بڑے حملے کو کامیابی کے ساتھ روکا گیا۔ آخر کار اس میدان میں جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائیاں ہوئی تھیں، پاکستانی کامیابی کو دنیا بھر نے تسلیم کیا۔ سیالکوٹ سیکٹر میں بھارت کے فرسٹ آرمرڈ ڈویژن کو جو جدید ترین سنچورین ٹینکوں پر مشتمل تھا جنرل عبدالعلی ملک نے اپنے نامکمل آرمرڈ ڈویژن کے ساتھ پے در پے شکستیں دیں۔ (میجر جنرل عبد العلی ملک، جنرل اختر ملک کے بھائی تھے)۔ یہاں بھارتی آرمر سترہ روز تک بار بار حملوں کے باوجود چونڈہ کے علاقے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کامیابی کا سہرا مکمل طور پاک فوج کے آرمر، آرٹلری اور انفنٹری کے فیلڈ کمانڈروں، افسروں اور جوانوں کے سر ہے جنہوں نے اپنے خون سے وہ تاریخ لکھی جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔

اس میدان میں پاکستانی کامیابی کو امریکی ساختہ پیٹن ٹینکوں کی مرہون منت قرار دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے ۔۔۔ یہ جانے بغیر کہ پیٹن کی 90 ملی میٹر مین گن کے مقابلے میں بھارت کے برطانوی ساختہ سینچورین ٹینک 105 ملی میٹر کی مین گن کے حامل تھے اور اس وقت انہیں مغربی دنیا کا جدید ترین ٹینک سمجھا جاتا تھا۔ دوسری اہم بات یہ کہ اس میدان میں بھارت کے تین ڈویژنز کے مقابل پاکستان کا صرف ایک ڈویژن دفاعی جنگ لڑ رہا تھا۔

اسی طرح کا پراپیگنڈا بھارتی فضائیہ کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے کہ وہ پاک فضائیہ کے بہتر امریکی ساختہ طیاروں کا مقابلہ کر رہی تھی۔ یہ دعویٰ بھی قطعی بے بنیاد ہے۔ پاکستان کی فضائی قوت کا بڑا حصہ ایف 86 سیبر طیاروں پر مشتمل تھا جو 1947 اور اس کے کچھ عرصہ بعد بنائے گئے تھے اور کوریا کی جنگ میں استعمال شدہ تھے۔ اس کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کے ہنٹر اور نیٹ طیارے جدید تر اور کہیں بہتر تھے۔ سیبر کے علاوہ پاک فضائیہ کے پاس اپنے وقت کے مشہور اور دہشت کی علامت ایف 104 سٹار فائٹر طیارے بھی تھے لیکن ان کی تعداد فقط بارہ تھی۔ اس کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کے پاس جد ترین مگ 21 طیارے موجود تھے تاہم سوائے ایک موقعے کے، بھارت نے پوری جنگ میں ان کی رونمائی نہیں کی۔ بمبار طیاروں میں پاک فضائیہ کے پاس بی 57 طیاروں کے دو سکواڈرن تھے تو بھارتی فضائیہ کینبرا بمبار طیاروں کے چار سکواڈرن رکھتی تھی۔ یاد رہے کہ بی 57 اور کینبرا ایک ہی طیارے کے دو مختلف نام ہیں۔ بی 57 امریکا میں بنایا جاتا تھا اور کینبرا برطانیہ میں۔

جنگ سے قبل بھارتی منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ عددی قوت کے بل پر وہ پاکستانی فضائوں پر حکمرانی کریں گے تاہم ائر مارشل نور خان کی جارحانی دفاع کی پالیسی نے یہ منصوبہ ناکام بنا دیا۔ پاک فضائیہ کی مہارت اور معیار کی تعریف امریکا کے مشہور ترین جنگی پائلٹ اور بعد ازاں ٹیسٹ پائلٹ “چک ییگر” کے علاوہ معروف جریدے ایروپلین کے مدیر جان فریکر نے بھی کی۔ علاوہ ازیں پاک فضائیہ کے سربراہ نور خان کی تعریف اسرائیلی فضائیہ کے سابق سربراہ ، بعد ازاں وزیر دفاع اور صدر مملکت “ایزر ویزمین” نے ان الفاظ میں کی کہ مجھے خوشی ہے کہ وہ پاکستانی ہے، مصری نہیں۔ اس جنگ میں پاک فضائیہ کی وہ کارکردگی جسے ایک عرصے تک ہمارے بعض لوگوں نے تسلیم نہیں کیا، اس کے متعلق خود بھارتی فضائیہ کے ریٹائرڈ ائر مارشل بھارت کمار نے ایک حالیہ ٹویٹ میں اعتراف کر لیا ہے کہ پاک فضائیہ نے جنگ کے پہلے دو روز کے دوران ہی ہمارے 35 طیارے مار گرائے تھے۔ اس کے علاوہ زمین پر جو طیارے تباہ ہوئے، وہ الگ ہیں۔

نتائج

اس جنگ کے نتائج ہمارے “سبز پوشوں اور بے ہوشوں” دونوں کے دعووں سے میل نہیں کھاتے۔ اگر یہ کہیں کہ پاکستان نے اس جنگ میں منہ کی کھائی تو پوچھا جانا چاہیے کہ یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا؟ اگر کوئی کہے کہ اس جنگ میں ہماری بے مثال فتح ہوئی تو اس سے بھی یہی سوال پوچھا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے سائز اور فوجی قوت کی کمی کے باوجود بے مثال دفاع کیا۔ ہمارا کوئی اہم شہر یا قصبہ بھارتی قبضے میں نہیں تھا، ہم نے خود سے تین گنا بڑے دشمن کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے۔ لاہور کی فتح اور اس کے بعد پاکستان سے ورسائی طرز کا ذلت آمیز معاہدہ کرانے کا بھارتی خواب، ایک ڈرائونا خواب ہی بن کر رہ گیا۔ بھارت کے بڑی قوت ہونے کے باوجود اس کا عسکری نقصان ہم سے کئی گنا زیادہ تھا۔ اس دعوے کی صداقت کے لیے اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کی بجائے صرف ایک دلیل ہی کافی ہے کہ اگر بھارت کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا تھا تو اس کی پیش قدمی 6 ستمبر کی صبح کے بعد مسلسل رکی کیوں رہی؟ یہ کیسی جنگ تھی جس میں نقصان ہمارا ہوتا تھا اور پیش قدمی حملہ آور کی رکتی تھی؟ جو لوگ اپنے دعووں کے ثبوت میں اصغر خان جیسے احمق الحمقا ء کے بیانات لاتے ہیں، انہیں اس کی مارشل لا کو دعوت دینے والی سیاست پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو اس شخص کی پست ذہنیت کی علامت ہے۔
اس کے علاوہ یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسے سول اور ملٹری بیوروکریٹس کا نام نہاد ضمیر ریٹائرمنٹ کے بعد ہی کیوں جاگتا ہے؟

بہرحال اگر 65 کی جنگ کو ایک جملے میں سمیٹنا چاہیں تو یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہم اپنے وطن کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے اور اسی بنیاد پر آج اگر اس ملک میں یوم دفاع منایا جاتا ہے تو کچھ غلط نہیں۔ طالع آزما جرنیلوں اور ہوس پرست سیاستدانوں کی غلط کاریوں کی آڑ میں خون کے نذرانے دینے والے افسروں، جوانوں اور پوری قوم کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔
(ختم شد)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *