• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • قطری شکاریوں کے خلا ف احتجاج کرنے والےکسانوں کی سنی جائے

قطری شکاریوں کے خلا ف احتجاج کرنے والےکسانوں کی سنی جائے

قطری شکاریوں کے خلا ف احتجاج کرنے والےکسانوں کی سنی جائے
طاہر یاسین طاہر
عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنی خواہشات کے گھوڑے کو ایڑ لگائے ہوئے محنت کشوں کی امیدوں کے ہر باغ اور اس گل بوٹے کو مسل رہا ہے جس سے غریبوں کے گھروں میں چولہا جلنے کی امید ہوتی ہے۔بادشاہ،بادشاہوں کے دوست ہوا کرتے ہیں، ابدی حقیقت یہی ہے۔ریاستوں کے مدنظر ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں حکمران طبقہ ذاتی تعلقات کو ہی خارجہ و داخلہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔ یہ رویہ پاکستانی عوام کے اجتماعی سیاسی شعور کی توہین ہے۔پاناما لیکس پر قطری شاہی خاندان کا خط از خود اس بات کی علامت ہے کہ شاہی خاندان اور شریف خاندان کے باہمی تجارتی و ذاتی روابط کس حد تک مستحکم و مضبوط ہیں۔اس پر مستزاد یہ کہ جب قطری شاہی خاندان اپنی" شکار گاہ" پہنچا تو ان کا استقبال وزیر اعظم کے بیٹے نے کیا اور انھوں نے ضیافت بھی وزیر اعظم کے گھر میں اڑائی۔ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ اللہ کے بعد ہمارا تکیہ،عجوہ کھجور،پاک چائنہ فرینڈ شپ اور” قطری کتری” شہزادوں کی دوستی پر ہے۔
یہ سیاسی و اساسی تکیہ اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے حکمران عوام پر اعتماد کے بجائے استعمار کے بڑے ایجنٹوں کی کاسہ لیسی کو ہی "جمہوریت" اور اپنی بقا سمجھتے ہیں۔تہذیبوں کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان جس کو پسند کرتا ہے اس کے عادات و اطوار بھی اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔بے شک ہمارے "جمہوری" حکمران جو ارب پتی بھی ہیں ان کی زندگیوں اور طرز حکومت میں"عرب" مہربانوں کی جھلک نمایاں نظرآتی ہے۔یہی ہمارے ہاں جمہوریت ہے۔ایک خاندان سے دوسرے خاندان کے گرد طواف کرتی جمہوریت۔اس جمہوری طواف کے چکر میں کبھی پیپلز پارٹی آگے نکل جاتی ہے تو کبھی نون لیگ۔گاہے اس جمہوری طواف کے"" چکر کھیل " میں آمرانہ چکر بازی لے جاتے ہیں۔آمرانہ “چکر بازوں” کو عدلیہ "انصاف" بھی دیتی ہے اور اس انصاف کی توثیق پارلیمان بھی کرتی ہے۔یہی تاریخ ہے۔کیا ملکوں کے تعلقات پرندوں کے شکار پر بنتے بگڑتے ہیں یا ملکی و قومی مفادات پر؟پاکستان شاہد دنیا کا واحد ملک ہے جہاں باقاعدہ عرب شہنشاہوں کو دعوت نامے جاری کر کے اپنے ہی کسانوں کی فصلیں اجاڑنے کی دعوت دی جاتی ہے۔
ڈان کی ایک خبر کے مطابق قطر کے شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے تلور کے شکار کے دوران مبینہ طور پر چنے کی فصل کو نقصان پہنچانے پر احتجاج کے دوران کسانوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوگئی۔یہ جھڑپ پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل مانکیرا کے علاقے ماہنی میں ہوئی۔لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اعلانات کے بعد مظاہرین ماہنی کے علاقے میں جمع ہوئے اور عرب شکاریوں کے کیمپوں کی طرف مارچ شروع کیا، تاہم پولیس نے انہیں وہاں پہنچنے سے قبل ہی روک دیا۔پولیس نے مظاہرین سے کہا کہ وہ پرامن طور پر منتشر ہوجائیں، لیکن مظاہرین نے منتشر ہونے کے بجائے شکاریوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عرب شکاری پورے سیزن کے دوران پیدا ہونے والی فصل کو تباہ کر رہے ہیں۔مظاہرین کی جانب سے دوبارہ کیمپوں کی طرف مارچ کرنے پر پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسانا شروع کردیں۔اس موقع پر مظاہرین نے شکاریوں اور حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے۔بعد ازاں مانکیرا کے اسسٹنٹ کمشنر موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے۔مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ مظاہرین کا وفد شاہی خاندان کے افراد سے ملاقات کرے گا، جس میں طے کیا جائے گا کہ آیا یہ مسئلہ معاوضے کی ادائیگی کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ ’گذشتہ سال بھی جب قطری شکاریوں کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا تو انہوں نے علاقے میں ہسپتال اور اسکول تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس سلسلے میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ دریں اثتا وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ سے تلور کے شکار پر لگائی جانے والی پابندی کو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے گذشتہ برس کہا تھاکہ خطے میں موجود افراتفری کے باعث مذکورہ پابندی سے ہمارے تعلقات عرب ریاستوں سے مزید کمزور ہوتے جارہے ہیں۔
گذشتہ سال 19 اگست کو تلور کے شکار پر لگائی جانے والی پابندی کے فیصلے کا اثر نو جائزہ لینے کے لئے وزارت خارجہ کی جانب سے دائر کی جانے والی پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ’یہ پٹیشن خیلجی ریاستوں کے ساتھ ہمارے خارجہ تعلقات پر براہ راست اثر انداز ہونے والے فیصلوں کے حوالے سے ہے۔خیال رہے کہ اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین روکنی بینچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تلور کے شکار کے لائسنس جاری نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن وفاق نے زور دیا تھا کہ مذکورہ معاملہ پاکستان کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے اور اس قسم کے معاملات میں اعلیٰ عدلیہ مداخلت کرنے سے گریز کرتی ہے۔تلور کے شکار پر پابندی کے فیصلے پر اثر نو جائزے کے لئے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ شکاری پرندے باز سے شکار کرنا مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے خارجہ تعلقات میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ خلیجی ریاستوں کے شہزادوں کو خوش کرنا ہے۔جبکہ ان بادشاہوں کے شکار کی وجہ سے کسانوں کا جو اجتماعی نقصان ہوتا ہے اور ان کی سیزن بھر کی جو محنت کسی امیر بادشاہ کے شوق کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اس پر ابھی تک کوئی ریاستی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ اگر واقعی خلیجی ریاستوں کے ساتھ ہمارےتعلقات کا مدار تلور کے شکار پر ہے تو پھر جن کسانوں کا نقصان ہوتا ہے ان کو معاوضہ بھی دلوایا جائے اور ان علاقوں میں خلیجی ریاستوں کے تعاون سے تعلیم و صحت کے میدان میں کام کا آغاز بھی کروایا جائے ۔نیز جن علاقوں میں عرب بادشاہ تلور کا شکار کرنے آتے ہیں ان علاقوں کے ہنر مند افراد اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے ممالک میں اچھی نوکریاں بھی دیں۔ کیونکہ اگر خارجی تعلقات کو ہی مستحکم کرنا ہے تو ریاست اپنے کسانوں اور ان کی نسلوں کے مفادات کا بھی تحفظ کرے بصورت دیگر حکمران طبقہ اپنے ذاتی تعلقات اور کاروبار کے استحکام کے لیے پاکستانی عوام کے مستقبل کو تباہ نہ کرے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *