ایک مکالمہ جو کمال تھا

ایک مکالمہ جو کمال تھا
حسنین جمال
(عزیزی حسنین جمال نے مکالمہ کانفرنس اور سوشل میڈیا کی ابتدائی دور سے موجودہ شکل تک کی کہانی بیان کی ہے ،ٹیم مکالمہ مشکور ہے حسنین جمال کی اور بشکریہ "ہم سب ڈاٹ کام")

سب سے پہلے ہم لوگ mIRC پر بات چیت کیا کرتے تھے۔ یہ سافٹ وئیر سن پچانوے میں بنا تھا اور شاید چھیانوے ستانوے میں ہی پاکستان کے سکول کالج والے لڑکے لڑکیاں اسے مکمل طریقے سے جان چکے تھے۔ جب بھی ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی خاتون جیسا نام نظر آتا فٹا فٹ ASL کا سوال ہوتا۔ سمجھیے معاملہ کنفرم کرنے کے لیے ان سے ایج، سیکس، لوکیشن، پوچھے جاتے۔ یعنی آپ کی عمر کیا ہے، مرد ہیں یا خاتون اور پھر کہاں سے تعلق ہے۔ نام تو سامنے لکھا ہی ہوتا تھا جو اکثر فرضی لکھا جاتا تھا۔ اب کیا ہوتا دونوں طرف سے چھان پھٹک کر تین چار سو میں سے کوئی ایک دو کیس اصلی نکلتے، پھر انہیں بڑی محنتوں سے پروان چڑھایا جاتا، چھ ماہ بعد کہیں کوئی تصویر کا سوال اٹھتا، کوئی ملاقات کا موقع ملتا، پھر وہ ایک دو بھی مایوسی کا سبب ہی بنتے۔ گویا یہ سافٹ وئیر وقت برباد کرنے کے لیے اچھا تھا لیکن جس لالچ میں یار لوگ فی گھنٹہ حساب سے پینتیس روپے انٹرنیٹ کلب والوں کو بھرتے تھے، اتنے بل میں سات بندوں کا بہترین کھانا کیا جا سکتا تھا۔ اس دور میں انٹرنیٹ موڈیم سے جو آواز آتی تھی وہ بلاشبہ اپنی نوعیت کی واحد آواز تھی، لگتا تھا جیسے مریخ سے رابطہ ہونے لگا ہے، وہ بھی اگر رابطہ ہو جاتا تو۔ ورنہ لینڈ لائن فون سروس اس دور میں بھی نری خواری تھی، جیسے آج بھی ہے۔

tripako tours pakistan

پھر ICQ اور دوسرے میسینجرز کا دور آیا۔ اب آپ کے پاس سہولت موجود تھی کہ چاہیں تو بات چیت کے لیے کسی کامن روم میں چلے جائیں، چاہیں تو علیحدہ سے بات کرتے رہیں۔ یاہو، ایم ایس این، اے او ایل اور کئی دیگر ادارے اس میدان میں موجود تھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک سروس دی جا رہی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سب کچھ مفت تھا۔ ماں پاکستان میں ہے، بیٹا دبئی سے لکھ کر بات کر رہا ہے، صرف ٹائپ ہوئے لفظ دیکھ کر ممتا چھلک پڑتی تھی کہ یہ میرے بیٹے کا لکھا ہے۔ تو یہ سائنس کا ایک انعام تھا۔ اس دور میں دھڑا دھڑ ای میل ایڈریس بنائے گئے اور لوگ ان میسنجرز کو دن رات استعمال کرنے لگے۔ اب کوئی تصویر بھیجنا بھی ممکن تھا، کوئی گانا، کچھ بھی لکھا ہوا، سب کچھ بھیجا جا سکتا تھا۔ کچھ عرصے میں آواز کی سہولت بھی آ گئی۔ موج ہو گئی، اور کیا چاہئیے۔ مفت میں فون کریں اور سارا دن بات کریں۔ لیکن ایک منٹ، زیادہ جذباتی ہونے کے بجائے یاد کرلیجیے کہ اس دور میں کنکشن ہر چھٹے یا آٹھویں منٹ مر جایا کرتا تھا، پھر آپ پنگ ماریں یا دوبارہ کنکٹ کریں، رابطہ اور ستو دونوں مک جاتے تھے۔

کیبل کنکشن آیا تو ان چیزوں سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا ممکن ہوا۔ لیکن اب سارا کھیل کیبل والے کے ہاتھ میں تھا۔ مہینے میں بارہ دن اس کی تاریں چوری ہوتیں اور چار پانچ دن لنک ڈاؤن ہوتا، مر گئے پیار میں سب مرنے والے، جو کرنا ہے کر لیں، کیبل اپنی مرضی یا آپ کی قسمت سے ٹھیک ہوتی تھی۔ جس دن ٹھیک ہے اس دن چاہے آسٹریلیا بات کر لیں، جب خراب ہے تو ساتھ والے گھر سے بھی رابطہ نہیں ہو گا، پر یہ ہوتا تھا۔ ایک وقت تھا۔

پھر اس کے بعد ذرا بہتر ترقی ہوئی۔ آرکٹ نامی ویب سائٹ آئی جو دو ہزار چھ سے پہلے کی مشہور ترین فیس بک نما سوشل میڈیا سائیٹ تھی، بعد میں تو فیس بک خود آ گئی۔ شروع کے دو تین سال تو وہی لوگ اس پر آئے جو ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہوتے تھے، ہر دم چست، تیار، ہر نئی چیز کے ساتھ جڑنے والے، تبدیلی کو دیکھنے اور اس کا حصہ بننے والے۔ پھر ہم آپ جیسے اس لائن میں لگے، پھر ہر وہ بچہ جس کے پاس ایک موبائل کیمرہ اور انٹرنیٹ ہوا، وہ فیس بک کے دس پروفائل تک کا حق دار ٹھہرا۔ فیس بک ذرا الگ چیز ہے۔ یہاں اگر آپ اپنے اصلی نام اور تصویر کے ساتھ آتے ہیں تو وہ قول یاد رکھیں کہ، ”بولو، تاکہ تم پہچانے جاؤ۔ “ یہاں وہ ایسے پورا اترتا ہے کہ پوسٹ کرو یا لائک کرو، تاکہ تم پہچانے جاؤ۔ تو بہت سنبھل کر اس پل صراط پر قدم رکھے گئے۔ انگریزی میں اردو لکھی جاتی تھی، لمبی سے لمبی بات کہنی ہو رومن ہی میں لکھنی ہوتی تھی، کوئی اور حل ہی نہیں تھا۔ ابھی دو چار برس پہلے گویا اردو لکھنے والوں کا ایک سیلاب امڈ آیا اور اس کی وجہ شاید نئے موبائلوں میں اردو کی سہولت بہتر انداز سے موجود ہونا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ وہ سہولت اردو کے تین چار فقروں میں تبدیل ہو گئی۔ یعنی جو بات پہلے رومن میں یا انگریزی میں کہتے تھے اب اپنی زبان میں کہنے کی آزادی میسر تھی۔ پھر تو سب ایسے کھلے ایسے کھلے کہ پورے پورے پندرہ سو الفاظ کے سٹیٹس موجود ہوتے تھے۔ عین اسی وقت دنیا میں بلاگ کی روایت شروع ہو کر پنپ چکی تھی۔ تو اردو والوں نے سوچا یہاں بھی کیوں نہ ایسا ہو، اور سوچ لیا تو ہو گیا۔

کس نے شروع کیا، وہ تاریخ ادب اردو والوں کا معاملہ ہے، جو مشاہدہ ہے وہ بی بی سی اور ڈان کا تھا یا سپوتنک کسی حد تک ہوتا تھا۔ پھر دنیا پاکستان آیا، ہم سب بنا، مکالمہ ہوا، دلیل آئی، ایک روزن نکلا، قلم کار اٹھے اور ابھی ملتان سے اساتذہ نے گردوپیش کی خبر دی تو سمجھیے کام پورا ہو گیا۔

اس بیچ ضرورت تھی کہ یہ ہلکی پھلکی موسیقی جو ایک سنجیدہ اکھاڑے کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اس کے بڑے پہلوانوں کو اکٹھا بٹھایا جائے۔ کوئی جوڑ توڑ ہوں، کوئی مٹی پاؤ ہو، کوئی پیار محبت ہو، تو ایک صاحب اٹھے اور سیک سیمینار کا معاملہ شروع کیا۔ لوگ جو مرضی کہتے رہے، ثاقب ملک دو پروگرام کر گئے۔ تیسرے کی تیاری میں ہیں۔ ثاقب کے دوسرے پروگرام کے بعد مکالمہ کرنے والے انعام رانا نے انگڑائی لی۔ لندن میں بیٹھ کر یہاں کے یاروں دوستوں کو ہلانا جلانا شروع کیا، ایک تاریخ دے دی اور بس سر جھکا کر کام کرنا شروع کر دیا۔ پن چکی دھن کی پوری نکلی، جس دن پروگرام ہوا تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ فیس بک کے ڈیڑھ انچی چوکھٹے میں سمائے آدم زاد پورے قامت کے ساتھ موجود تھے۔ واہ جی واہ، مزے آ گئے۔ کسی ادبی تقریب میں ایسے رش کا مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہمارے دوست اب پرنٹ میڈیا سے نکل کر آن لائن پڑھنے کی طرف سنجیدگی سے آنا چاہتے ہیں۔ اور اگر ایسا ہی ہے تو یہ بات بڑی بات ہے پیارو، یہ تو باقاعدہ موج لگ گئی!
انعام رانا، ان کی ہمشیر عائشہ اذان، موسیو، حافظ صاحب اور مکالمہ کی پوری ٹیم اپنی اپنی جگہ پوری تن دہی سے بھاگ دوڑ اور انتظامات میں مصروف تھے۔ سٹیج بھی ژاں سارتر (ان کا اصل نام یہی سمجھیے) اور عائشہ اذان سنبھالے ہوئے تھے، ایک کے بعد ایک مقررین آتے جا رہے ہیں اور آٹھ سے دس منٹ میں کام نمٹا کر فارغ، سب سے مزے کی بات یہ کہ چھ بجے تقریب ختم ہونے کا وقت تھا تو عین اسی وقت ختم بھی ہو گئی۔

اس تقریب میں کیسے کیسے پیارے لوگ ملے، یہ تفصیل لکھی جائے تو شاید دس قسطیں اور لکھنا پڑیں۔ اتنا معلوم ہے کہ یہ سیمینار ہم سب کا سیمینار تھا۔ ایک لمحے کو ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس دن سے پہلے ایسے وضع دار لوگوں سے ملاقات نہیں تھی۔ یاروں کی ایک منڈلی تھی جو مل بیٹھی، ہنسی بولی اور اٹھ گئی۔ کوئی تعصب نہیں کوئی گلہ شکوہ نہیں، پورا لیفٹ، پورا رائٹ اور بس مکالمہ تھا!

Advertisements
merkit.pk

بشکریہ "ہم سب ڈاٹ کام" اور "حسنین جمال"

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply