اب اور نہیں۔۔۔اسرار احمد

دربار میں معمول سے زیادہ لوگ تھے،سب کے چہروں پر دکھ اور جھنجھلاہٹ کے آثار واضح تھے،

بادشاہ سلامت آکر تخت پر براجمان ہوئے تو بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس بوڑھا اپنی جگہ سے بمشکل کھڑا ہوا

عالم پناہ یہ چوتھا حملہ ہے،سب کچھ لٹا چکے ہیں اب اور نہیں سہہ سکتے،۔۔۔میرا لڑکا۔۔۔۔ میرا سہارا ۔۔۔اپاہج ہو چکا ہے بمشکل جان بچی ہے کچھ کیجیے حضور ورنہ ایک دن سب ختم ہو جائے گا،بس اب اور نہیں۔۔۔۔منحنی سا بوڑھا کانپتے ہوئے بولا،

وہ میری بچی کو لے گئے ہیں اسے بچا لیجیے خدارا کچھ کیجیے ایک عورت روتی ہوئی دربار میں داخل ہوئی اور بادشاہ سلامت کے قدموں میں جاگری شاہی مصاحبوں نے زبردستی اسے وہاں سے ہٹایا

حضور میری ساری جمع پونجی لوٹ کر جاتے سمے فصلوں کو بھی اجاڑ گئے ہیں،آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا ان کے حوصلے بڑھ چکے انہیں لگام ڈالنا ضروری ہوچکا ہے، بس اب اور نہیں کچھ کیجیے عالم پناہ کچھ کیجیے، مجمع میں سے ایک مفلوک الحال شخص نے دہائی دی

پورا دربار اب اور نہیں بس اب اور نہیں کی صداؤں سے گونج رہا تھا،ہر ایک اپنی داستان غم بادشاہ سلامت کے گوش گزار کرنا چاہتا تھا۔

شاہی مصاحب لوگوں کو دھکیل دھکیل کر باہر نکال رہے تھے

بادشاہ سلامت آنکھیں موندے عالم سے بیگانہ تھے

اتنے میں باہر سے چیخ و پکار سنائی دی اور دو تین سپاہی دوڑتے ہوئے دربار میں داخل ہوئے ان کے سانس پھول چکے تھے لباس پر جا بجا خون کے نشانات تھے۔

کیا ہوا تم تو شہزادہ حضور کے ساتھ گئے تھے؟

وزیر خاص نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر استفسار کیا

بادشاہ سلامت نے چونک کر آنکھیں کھولیں  اور استفہامیہ نظروں سے سپاہیوں کو گھورنے لگے

ہم شہزادہ حضور کے ساتھ شکار کی تلاش میں گھنے جنگل کی سمت بہت دور چلے گئے تھے وہاں ہمارا سامنا حملہ آوروں کے لشکر سے ہو گیا انہوں نے ہم پر تیروں کی بوچھاڑ کردی

اور۔۔۔اور۔۔۔۔ شہزادہ حضور۔۔۔

کیا ہوا شہزادے کو؟ بادشاہ سلامت دھاڑے

سپاہیوں نے بے بسی سے سر جھکا لیے

بادشاہ سلامت نے بجلی کی سی تیزی سے تلوار نکالی اور مجمع کو چیرتے ہوئے باہر کی طرف لپکے،مصاحبوں نے بھی ان کی تقلید کی ان سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا، بس اب اور نہیں۔۔۔

اسرار احمد
اسرار احمد
Student of law in Gillani Law College bzu Multan

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *