نسلی فاسق  ۔۔۔ کاشف حسین

تایا صبح سویرے اٹھ مصلہ بچھا کر دن بھر کی واحد نماز نماز ادا کرتا تھا۔ نماز پڑھنے کے بعد موٹے حروف والا بڑا سا قرآن چشمہ لگا کر پڑھتا تھا۔ خدا جانے اسے قرآن پڑھنا آتا تھا یا نہیں مگر حروف پہ انگلی پھیر کر وہ اپنے تئیں فرض پورا کر لیتا تھا۔ اسکے بعد اسکے ریاض کا وقت ہو جاتا تھا۔ چادر میں بندھا ہارمونیم جست کی پیٹی سے نکالا جاتا اور ریاض شروع۔

سارے گا ما پا دھا نی سا۔ ہم بچے تائے کی سکھائی ہوئی سرگم اپنی بے سری آوازوں میں الاپتے، تایا راگ کے وہ بول دوہراتا جو اسکے میلے سے سلُوکے کی اندرونی جیبوں میں پڑی ڈائری میں محفوظ تھے۔ ان راگوں کے بول مولا علی ع کی منقبت سے لیکر رام کے ذکر تک سے بھرے تھے۔ تائے نے ہر ساز سے گھر بھر رکھا تھا طبلوں کی جوڑی، جھانجھر، ڈفلی، ہارمونیم کی جوڑی، گھڑا جسے وہ ہاتھ میں انگوٹھی چڑھا کر بجایا کرتا تھا۔ تایا خاندانی سنار تھا اس وقت ذاتیں پیشے سے بھی وابستہ ہوتی تھیں۔ جولاہا، موچی، ترکھان، نائی، سنار۔۔ پیشے ہی نہیں ذاتیں بھی تھیں اور یہ ہنر اپنی ہی نسل تک محدود رکھے جاتے تھے۔ تائے کی ذات سندھو جٹ تھی۔ ہوشیار پور کے ایک ہی علاقے سے مہاجر ہوئے۔ پنجابی وڑائچ اور سندھو گرائیں اکٹھے ملتان میں آباد ہوئے۔ یہ برادری کی ڈھیلی ڈھالی شکل تھی۔ اس برادری کے ایک حصے نے ملتان میں کپڑے کا کام شروع کیا تو انصارِ مدینہ کی نسبت سے خود کو انصاری کہلانے لگے۔ ہولے ہولے یہ شوق ہر گھر میں سرایت کر گیا۔ خود کو نئے سرے سے اسلامائز یا عربنائز کرنے کی یہ خواہش پاکستان آ کر کیوں جنم لگی تھی؟ شاید پاکستان کے مذہبی بیانیے کی وجہ سے ایسا ہوا ہو جو یوپی یا وسطی ہندوستان کے بیانیے سے اس کی زبان کے ذریعے متاثر ہو رہا تھا۔ بقول قرات العین حیدر، ہند کے مسلمان کے سماجی تعلقات اور مفادات ہند میں ہیں مگر وہ ہر وقت “میرے آقا مجھے مدینے بلا لو”  گنگنا کر خود کو عرب قومیت سے وابستہ کرنے کے چکر میں رہتا ہے۔ اس برادری کا اکلوتا سنار خاندان ہونے کی حیثیت سے تائے کی بہت عزت تھی۔ تایا درویش منش شخص تھا۔ ہارمونیم پہ صبح سویرے کیا جانے والا ریاض بعض اوقات دکان کھولنے کے وقت پہ منتقل ہو جاتا۔ منظر کچھ یوں بنتا کہ زیورات بنوانے کے لیے آنے والے گاہک ریاض سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں چھٹی والے دن تائے کو برادری کے بہت سے گھروں میں ہارمونیم یا گھڑا بجانے کے لیے بھی جانا ہوتا تھا۔ میں مطالعہءپاکستان زدہ نوجوان جسے عطااللہ شاہ بخاری صاحب کے فرزند عطاءالمحسن بخاری کی تقاریر کا تڑکا بھی لگا ہوا تھا، تائے سے کرید کرید کر ہندوستانی پنجابی سماج کے متعلق سوالات کیا کرتا تھا اور ان سوالات کے جوابات مطالعہءپاکستان سے میچ نا کرتے دیکھ کر مجھے شدید غصہ آتا تھا۔ مثلاً میں تائے کو کہتا تھا کہ تایا ہندو تم لوگوں پہ بہت ظلم کرتے تھے اس لیے تم بھاگ کر پاکستان آئے تھے نا؟ تایا کہتا  میرا تو ساری زندگی کسی ہندو سکھ سے جھگڑا نہیں ہوا تھا، میرے ہندو اور سکھ دوست ہوا کرتے تھے۔ میں اگلا پتا پھینکتا۔

تایا میں نے سنا ہے ہندو گوشت نہیں کھاتے تھے اور گوشت کھانے والے کو ناپسند کرتے تھے؟ تایا کچھ اکتائے ہوئے لہجے میں جواب دیتا پتا نہیں کون کہتا ھے کہ ہندو گوشت نہیں کھاتے۔ ہم تو جب بھی ہندو سکھ دوستوں کے ساتھ مل کر شراب پیتے  تو شراب پینے کے بعد سبزی کھانے کو کس م چ کا دل کرتا ھے؟ ہم ایک بندہ شہر بھیج کر سیرپکا گوشت منگوا کر خود بُھونا کرتے تھے اور سب ملکر کھاتے تھے۔

ہندو مسلمانوں کو اپنے گھر سے دور رکھتے تھے؟

اوہ یار میں چالیس سال کا تھا جب پاکستان آیا تھا۔ میں اپنے کام کے سلسلے میں ایک ایک ہفتہ گھر سے باہر رہتا تھا۔ پیدل کشمیر تک سفر کرتا تھا۔ ندی نالے ٹاپتا تھا اور جن سناروں کے پاس مال اٹھانے جایا کرتا تھا وہ زیادہ تر ہندو ہوتے تھے۔ یہ دکاندار ہمیں رات ٹھہرا بھی لیتے تھے اور ہمارا کھانا پانی بھی کرتے تھے۔ مینوں تے کدے کِسے نے گھروں باہر دھکا نئیں دِتا (مجھے تو کسی نے مسلم ہونے کے ناطے گھر سے نہیں نکالا)۔ مجھے سب سے بڑا جھٹکہ اس وقت لگا جب ایک دن مذہبی بحث کرتے ہوئے میں نے تائے کو ابوبکر و عمر رض کا حوالہ دیا تو آگے سے تائے کا چہرہ سوالیہ نشان بنا نظر آیا کہنے لگا او کون نیں؟ کاکا پنج تن پاک رض توں ودھ وی کوئی ہستیاں ہویاں نیں؟ (پنج تن پاک سے زیادہ فضیلت والی ہستیاں بھی کوئی ہو سکتی ہیں)۔ تایا خلفائےراشدین میں سے حضرت علی رض کے سوا کسی نام اور انکے حالاتِ زندگی سے واقف نا تھا ۔   بہت عرصہ بعد مجھے علم ہوا کہ برصغیر کے روایتی مسلم مسلک دو ہی تھے شیعہ، اور صوفی سنی (جسے بریلوی بھی کہہ دیا جاتا ھے مگر لفظ بریلوی اس مسلک کی تعریف کماحقہ ادا نہیں کرتا، بریلویت صوفی سنی مشرب کی مولویانہ وضع تھی جسے یوپی کی مسلم انتہاپسندی نے یہ شکل عطا کی تھی)۔ صوفی سنی اولیاء و صوفیاء کا مشرب ھے جسکی نسبت حضرت علی رض سے ہے اور عام عوام تک اس مشرب کی وساطت سے انہی ہستیوں کا تعارف موجود تھا جنہیں پنج تن پاک رض کہا جاتا ہے۔ صحابہ رض کا تفصیلی تعارف و ذکر وہابیت و دیوبندیت کے برصغیر میں آنے کے بعد عوام تک پہنچنا شروع ہوا۔ تایا مولویوں سے بہت چِڑتا تھا۔ کسی بھی مولوی کا ذکر یا اس سے سامنا ہونے پہ تائے کا چہرہ یوں لگتا کہ جیسے اس پہ زمانے بھر کی حقارت و تضحیک جمع ہو گئی ہے۔ میں نے تائے کے دور کے اپنے سبھی ددھیالی بزرگ مولویوں سے چالو دیکھے۔ تایا بزرگوں کے تکیوں اور بیٹھکوں پر بھی باقاعدگی سے جایا کرتا تھا جہاں جمعرات کے جمعرات قوالی ہوتی تھی، نیاز بٹتی تھی، لنگر کھلتے تھے۔ عرس اور میلے بھی اس کی کمزوری تھے۔ جوانی میں پہلوانی سے بھی کچھ شغف رکھتا تھا اور ہمیں کسرت پہ اکسایا کرتا تھا۔ میلوں بھاری وزن اٹھا کر چلنے کی عادت نے اس کے جسم کو بھی کسرتی شکل دے دی تھی۔ ہیر کا کچھ حصہ زبانی یاد تھا۔ فحش لطائف کا بھی اچھا ذخیرہ رکھتا تھا۔ دلے بھٹی اور بندہ بیراگی جیسے پنجاب کے ان روایتی کرداروں کو بخوبی جانتا تھا جنہیں آج کی “پاکستانی” پنجابی نسل نہیں جانتی۔ تایا محفل کا آدمی تھا۔ خاندانی تقاریب میں کیا پڑھے لکھے کیا ان پڑھ، سبھی تائے کے گرد جمگھٹا لگا کر تائے کی گفتگو سے فیضیاب ہوتے ۔

تایا قبل از تقسیم کے پنجابی سماج کی وہ آخری علامت تھا جسے آج کے مسلم پنجابی سماج کے مذہبی معیارات کے مطابق مرتد فاسق جیسے القاب سے سمجھا جائے گا۔ تایا اس سماج کا نمائندہ تھا جسکے سماجی معالج وارث اور بلھے جیسے لوگ تھے۔ یہ لوگ اس حکمت کے وارث تھے جس نے صدیوں سے نسل در نسل چلتے تجربات کی بدولت انہیں یہ سمجھا دیا تھا کہ ملا کو صرف نماز اور نمازِ جنازہ تک محدود رکھنا ہے، گھر اور ذہن میں نہیں گُھسانا۔ مذہب کی وہ کون سی حد ہے جس سے آگے سماج کے پر جلنے لگتے ہیں اور اس حد پہ رک جانا ہے؟ یہ برصغیر اور مسلم دنیا میں پھیلی صوفی تحریکوں کی مزید خالص شکل تھی جس نے صوفیت میں موجود ہلکی سی ملائیت کے امکان کو بھی شرع عشق دا ویر پرانا اے کہہ کر نکال باہر کیا تھا۔ مجھے تائے کی زندگی سے یہ صاف سمجھ آنے لگا تھا کہ کفر کا یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا آ رہا ھے اور نا جانے کتنی صدیوں سے جاری تھا تاوقتیکہ پاکستان بننے کے بعد اسلام کے نفاذ کی بدولت اس مفروضہ کفر سے ہماری نسلوں کو نجات ملی۔ تائے اور اس کے آبا و اجداد کو تبلیغی جماعت سے رشدوہدایت کی سہولت بھی نہیں ملی وگرنہ وہ اپنی اصلاح کر لیتے۔ یہ سہولت بھی وائی فائی کی طرح دورجدید کی ایجاد ہے مگر مجھے اس بات کی کبھی سمجھ نہیں آئی کہ تقسیم کے بعد والا خالص اسلام اتنا جھگڑالو کیوں ہے؟ لیکن نہیں۔ میں ابھی سمجھا نہیں ہوں۔ پاکستان کس لیے بنا تھا؟ اسلام کے لیے۔ اسلام کیا ہے؟ تحقیق جاری ہے۔ خالص اسلام کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔ جب تک یہ مکمل خالص نہیں ہو گا ہمیں سکون نصیب نہیں ہو گا۔ کفر کا معاملہ دوسرا ہے۔ کفر اپنی ایک ہی خالص شکل میں دستیاب ہے۔ اسے مزید خالص کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ اس لیے کفر اپنے مقاصد اور شکل میں واضح ھے سو جھگڑے کھڑے نہیں کرتا۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ ایمان کا معاملہ دوسرا ہے۔ ایمان کی مقدر میں چین نہیں۔ پارہ صفت ہے یہ،  اس لیے ہماری زندگیاں بھی بے چین ہیں۔ یہ خدا کا مشن ہے۔ اسے پورا کرنے کی حامی بھرنے والا چین نہیں پا سکتا۔ دنیا مومن کے لیے نہیں بنی  اس لیے مسلمان امن کا تصور ذہن سے نکال پھینکے۔ مومن کے لیے شراب کے ٹھیکے بند اور فساد کے ٹھیکے کھول دیئے گئے ہیں۔

پنجابی سماج کے برعکس یو پی کے سماج نے کلچر کی رنگا رنگی اور صوفیانہ مشرب سے فیضیاب ہونے کے باوجود وہ کونسی بنیادی غلطی کی کہ اس کا سارا سماج فرقہ واریت کی گود میں بہت پہلے سے جا چکا تھا؟ کیا وسطی ہندوستان کی مٹی ابتداء ہی سے فرقہ واریت کے لیے موزوں تھی؟ شاید ایسا نہیں۔ شاہ ولی اللہ مکتب ِ دیوبند مکتبِ بریلوی وہابی عسکریت سے متاثرہ سید احمد شہید جیسی ملائیت کی نشانیاں یہاں کیوں پے در پے جنم لینے لگیں جنہوں نے عام عوام کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا؟ اور اس کے بعد فرقہ وارانہ فسادات کا نا تھمنے والا طوفان بھی جو ہنوز جاری ہے۔ وسطی ہندوستان اکیلا ہی کیوں اتنے فسادات کا ریکارڈ رکھتا ہے کہ باقی برصغیر مل کر بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیں، برصغیر میں جاری ہندو مسلم کشاکش جو اب بھارت پاکستان قضیے کی شکل لے چکی، کو سکون مل جائے گا۔

کاشف حسین
کاشف حسین
مجموعہ خیال ابهی فرد فرد ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *