وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر۔ ۔۔۔ربیعہ فاطمہ بخاری

نواب زکریا خان 17سال مغل دور حکومت میں پنجاب کے گورنر رہے اور اتنے انصاف پسند حکمران تھے کہ کہا جاتا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے جنازے پر اتنے پھول نچھاور کیئےگئے کہ شہر میں پھول نایاب ہوگئے۔ ان کی وفات پر ہندو اور مسلمان بلاتفریق ماتم کناں تھے۔ وجہ ان کی انصاف پسندی تھی۔ ان کے دور میں ایک عجیب و غریب کیس ان کے پاس آیا۔ ایک بدقماش مسلمان نوجوان ایک خوبصورت اور انتہا درجے کی نیک سیرت ہندو شادی شدہ عورت پر فریفتہ ہو گیا۔ اور اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے ایک شیطانی منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے دوستوں کو دعوت دی اور کہا، کہ ایک شادی شدہ ہندو عورت اسلام قبول کر کے اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خواہاں ہے۔ تم سب لوگ اس نکاح میں شرکت کرو۔ اس کے دوست وقت مقررہ پر اس کے گھر پہنچے تو وہاں ایک عورت گھونگھٹ نکال کر بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس لڑکے کے کہنے پر پہلے قاضی صاحب نے کلمہ طیبہ پڑھا یا پھر اس لڑکی کا نکاح اس لڑکے، جس کا نام آغا تھا،کے ساتھ پڑھایا۔ اور یہ تقریب برخاست ہو گئی۔

اگلے دن  وہ  نیک سیرت ہندو عورت کے گھر گیا اور اس کے شوہر سے کہا کہ تمہاری بیوی نے اسلام قبول کرکے میرے ساتھ نکاح کر لیا ہے۔ اس بے چارے کی جان پر بن آئی۔ کہنے لگا کہ میری بیوی آج تک اکیلی گھر سے نہیں نکلی تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس نے تمہارے ساتھ نکاح کر لیا ہے ۔ لیکن وہ لڑکا نہ مانا۔ اور بدستور اصرار کرتا رہا۔ اور کہنے لگا کہ بےشک اپنی بیوی سے پوچھ لو۔ وہ بیوی سے پوچھنے گیا تو وہ خود ہکا بکا رہ گئی ۔اور اس نے بھی اپنے خاوند والی بات دہرائی اور کہا کہ یہ لڑکا مکّار اور دھوکے باز ہے۔ میں اسے نہیں جانتی ۔ یہ مقدمہ عدالت میں گیا تو وہاں اس لڑکے نے یہ موقف اختیار کیا کہ  آپ اس عورت کے کپڑوں کی تلاشی لیں۔ اگر ان میں سے مسلمان عورتوں والا عروسی لباس مل گیا تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس عورت نے مجھ سے نکاح کیا ہے۔ جب تلاشی لی گئی تو فی الحقیقت اس کے کپڑوں میں سے مذکورہ عروسی جوڑا برآمد ہو گیا۔ اب قاضی نے اسی عروسی جوڑے کو بطور ثبوت تسلیم کرتے ہوئے اس عورت کو آغا کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا۔ ہندو اس فیصلے سے از حد پریشان ہوئے۔ کہ اس عورت کی پاکبازی اور سیرت و کردار کی گواہی ہندو تو ایک طرف مسلمان بھی دیتے تھے۔ وہ لوگ اس فیصلے کے خلاف اپیل لے کر گورنر صاحب کے پاس پہنچ گئے۔ نواب صاحب نے بہت سوچ بچار کے بعد ایک فیصلہ کیا اور بھیس بدل کر اس عورت کے محلے میں پہنچ گئے۔ وہاں گلی میں لوگ تبصرے کر رہے تھے کہ یہ انتہائی پاکباز عورت ہے اور یہ کبھی اکیلے گھر سے نہیں نکلی تو یہ کیسے ممکن ہے یہ دوسرے محلے میں جا کر کسی سے چھپ کر نکاح کر لے۔ اسی طرح نواب صاحب آغا کے محلے میں گئے تو وہاں سرگوشیاں جاری تھیں کہ آغا انتہائی مکار اور بے ایمان انسان ہے، ضرور اس نے کوئی شیطانی چال چلی ہوگی۔ قاضی صاحب کے دل میں پہلے ہی سے کھٹک تھی۔ جو اب ایک واضح شکل اختیار کر گئی تھی۔ اب غور طلب امر یہ تھا کہ آخر وہ عروسی جوڑا اس عورت کے کپڑوں میں پہنچا کیسے؟؟؟ قاضی صاحب کو غور و فکر کے بعد اس
عورت کی دھوبن پر شک گزرا۔ مزید تفتیش کی گئی تو ثابت ہوگیا یہ واقعہ آغا اور اس کی دھوبن کی ملی بھگت سے پیش آیا اور نکاح کے وقت گھونگھٹ نکال کے بھی وہ دھوبن ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ نواب صاحب نے آغا اور اس کی دھوبن دونوں کو سزائے موت سنائی۔ اور وجہ جانتے ہیں کیا تھی؟ ؟؟ نہ تو انہوں نے کسی کو قتل کیا تھا اور نہ ہی اس ہندو عورت کو کوئی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے اس عمل سے اسلام اور شعائر  اسلام کی نہ صرف بدنامی ہوئی بلکہ اسلامی احکام کی توہین بھی ہوئی۔

مگر افسوس آج پوری مملکت خداداد پاکستان میں کوئی ایک بھی نواب زکریا خان نہیں، جو اسلام اور شعائر اسلام کی توہین اور تضحیک کا نوٹس لے۔ سزائے موت نہ سہی کوئی معمولی سی دفعہ لگا کے چند ماہ قید بامشقت اور بھاری جرمانہ ہی سہی۔ لیکن افسوس اسلام اور احکام اسلام کی چاہت سے لبریز ایک بھی حکمران ہمارے ہاں موجود نہیں۔ جس کا جب جی چاہتا ہے منہ اٹھا کے کسی نہ کسی اسلامی حکم کی توہین اور تضحیک میں زبان و بیان کے نشتر تیز کئے ہوئے مصروف ہے۔ ڈراموں کے مصنفین ہیں تو انہیں سالی بہنوئی،دیور بھابھی، اور پھوپھا، بھتیجی کے افئیر کے علاوہ کوئی موضوع ہی میسر نہیں۔ دوست کی بیوی اور سہیلی کے شوہر کے ساتھ معاشقہ بالکل نارمل چیز ہے۔ غیر ازدواجی تعلقات ایک بالکل عام موضوع ہے۔ جس سے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ہاں لیکن اگر بھولا اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم کرتا ہے (رانجھا رانجھا کردی) تو ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہو جاتا ہے کہ بیوی کی مرضی کے بغیر شوہر نے اسے چھوا بھی کیسے؟؟؟ کیا نکاح ایک مرد اور عورت کے لئے باہمی ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا اجازت نامہ نہیں؟؟ شاہد آفریدی اپنی بیٹیوں کو آؤٹ ڈور گیمز کھلانا پسند نہیں کرتا تو وہ دقیانوس اور آؤٹ ڈیٹڈ اور آفریدی کےاس بیان کی آڑ میں کس کس طرح نہیں شعائر اسلام کی بھد اڑائی گئی۔۔۔

اور اب ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اشتہاری کمپنیوں کی جانب سے شعائر اسلام اور احکامات قرآن کی توہین کا، ابھی حال ہی میں ایریل سرف نے جو اشتہار دیا ہے کیا یہ احکامات اسلام کی کھلم کھلا توہین نہیں۔ آپ احکامات اسلام پر عمل نہیں کرنا چاہتے، بھاڑ میں جائیے۔ لیکن کسی کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کے لیے یا کسی بھی اور مقصد کے لیے اسلامی احکامات یااسلام کی تضحیک کرے۔ سب دعا کیجئے کہ ایک نواب زکریا خان جیسا انصاف اور اسلام پسند حکمران پاکستان کو نصیب ہو جائے۔ آمین ۔

ربیعہ فاطمہ بخاری
ربیعہ فاطمہ بخاری
لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *