میرا جسم میری مرضی، صحیح تناظر۔۔معظم صفدر

ہمارا عمومی مزاج یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ہم زیادہ تحقیق کیے بغیر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ عام عوام کا طریقہ تو ایسا ہوتا ہی ہے پڑھا لکھا طبقہ حتیٰ کہ دانش ور اور کالم نویس حضرات بھی اپنی تحریروں کا موضوع بنانے سے پہلے اس سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھتے ۔ اس رویے کی وجہ سے اہم سے اہم موضوع پر بے شمار تحریریں لکھ دی جاتی ہیں ، جس میں موضوع کے حق میں یا خلاف دلائل جمع کر دیے جاتے ہیں ، لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مصنف پہلے یہ تحقیق کرے کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔ اس رویے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات پڑھنے والوں کا تاثر حقیقت سے بالکل مختلف بن جاتا ہے ، غالباً اسی کو پراپیگنڈا کہا جاتا ہے۔ پراپیگنڈا کی شدت اگر زیادہ ہو تو اس کے اثرات بھی کثرت سے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ موضوع زیر بحث میں ہوا ۔ مجھ سمیت کم و بیش ہر پڑھنے والے نے ’میرا جسم میری مرضی‘ کی تحریروں سے وہی تاثر لیا جو ان میں زیر بحث تھا ۔

’میرا جسم میری مرضی‘ پر جتنی بھی تحریریں سامنے آئیں خواہ وہ اس نعرے کے خلاف لکھی گئی ہوں یا حق میں، وہ اصل حقیقت کے بجائے ظاہر الفاظ کو سامنے رکھ کر لکھی گئیں۔ لوگوں نے اس نعرے سے یہی مراد لیا کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ کے بینر کو اٹھائے ہوئے خواتین اپنی آزادی اور خود مختاری کا مطالبہ کر رہی ہیں ،جبکہ یہ جملہ ان معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ ’میرا جسم میری مرضی‘ (My Body My choice) اسقاط حمل (Abortion)پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا سلوگن ہے۔ جن کا مطالبہ ہے کہ اسقاط حمل پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔ ان کے مطابق اسقاط حمل کا فیصلہ ہر حال میں خاتون کو کرنا ہے، اور وہ بچے کی پیدایش سے پہلے جب چاہے یہ فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس سلوگن کو اختیار کرنے والوں کا یہ اصرار ہے کہ اس میں قانون اور سماج کا کوئی عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ اور نہ ریاست ہی خاتون کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ حمل کو جاری رکھے۔

ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر کوئی خاتون اس طرح کا اقدام کرتی ہے تو اسے برا خیال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ ’میرا جسم میری مرضی‘ کی بنیاد پر یہ اس کا حق ہے، اور وہ جب چاہے اسے اختیار کر سکتی ہے۔ اس مطالبے پر خود مغرب میں تنقید پائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بچہ وجود پذیر ہو گیا تو اب اس خاتون کا وجود چار ٹانگیں، چار بازو، بیس انگلیاں اور دو دھڑکتے دل والے دو جسم بن چکا ہے ۔ اسے اس بچے کی کیفیت کا خیال رکھنا چاہیے جو اندر ایک جیتا جاگتا وجود ہے۔ تنقید کرنے والے ایسا مطالبہ کرنے والی خاتون سے سوال کرتے ہیں کہ ’میرا جسم میری مرضی‘ کا اصول اس کے جسم پر تو لاگو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے بطن میں وجود پذیر بچے کے جسم پر اس کی مرضی کیسے نافذ ہو سکتی ہے۔ مغرب میں اس مطالبے اور اس مطالبے پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

ہمارے ہاں زیادہ تر لکھنے والوں نے اس سلوگن سے یہ معنی لیا ہے کہ ’میرا جسم میری مرضی ‘ کا بینر تھامے یہ خواتین مادر پدر آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں ۔ ان کا یہ مطالبہ مغربی لابی کی سازشوں کا نتیجہ ہے جو پاکستان کے خاندانی نظام کو درہم برہم کرنا چاہتی ہے۔ لہٰذا اس نعرے کے ذریعے سے پاکستان کے معاشرے میں لوگوں کو کھلم کھلا فحاشی کی دعوت دی جا رہی ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ اس پر اگر سخت طریقے سے گرفت نہ کی گئی تو بہت جلد معاشرے میں بے حیائی عام نظر آئے گی اور یہ ملک جو کہ اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا حیوانوں کی صورت میں منتشر افراد کے رہنے کی جگہ بن کر رہ جائے گا۔ اس لیے ، اس پر اہل علم اور اہل عمل میدان میں آئیں اور سختی سے اس کا نوٹس لیں ۔

دوسری طرف، بعض لوگوں نے اس مطالبے کے ظاہر الفاظ کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حق میں لکھاہے۔ انھوں نے اس مطالبے کو ایک ردعمل سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ ان کے مطابق مذہبی لوگوں نے عورت کے حوالے سے دین کی یہ غلط تصویر معاشرے میں پیش کر رکھی ہے کہ شوہر خواہ جیسا بھی ہو بیوی پر اس کی اطاعت لازم ہے اور اس کے ہر مطالبے پر بلا چون و چرا عمل کرنے کی پابند ہے ، بیوی پر شوہر کی فرماں برداری اس حد تک ہے کہ شوہر اگر جنسی ضرورت کے لیے بلائے تو بیوی بیماری کی حالت میں بھی انکار نہ کرے۔ ان کی رائے میں اس صورت حال میں مرد حضرات اپنے فرائض سے تو غافل رہتے ہیں جبکہ عورتوں پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ اس رائے کے حاملین کا اصرار ہے کہ ظلم کی حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کمانے والی عورت بھی مرد کی محکومی پر مجبورہے۔ وہ ایک طرف ملازمت کے جھمیلے نمٹاتی اور گھر گھرہستی کی ذمہ داریاں پوری کرتی ہے اور دوسری طرف شوہر کی اطاعت و فرماں برداری جو کہ بعض اوقات غلامی کی حد تک جا پہنچی ہوتی ہے ، اسے بجا لاتی ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک اس سارے تناظر میں عورت کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے۔

اس ساری فضا میں سلوگن کی اصل حقیقت کہیں بہت پیچھے چلی گئی ۔ لیکن ظاہر الفاظ سے بھی لوگوں نے جو مفہوم اخذ کیے ہیں ، وہ اعتدال کے بجائے انتہائی شدت پر محسوس ہو رہے ہیں۔ اس میں میری رائے میں اگر ظاہر الفاظ کو بھی لیا جائے تو یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اس نعرے کا اصل مقصد کیا ہے۔ اگر اس نعرے سے یہ کہنا مقصود ہے کہ عورت کے انفرادی انسان ہونے کی حیثیت کو دبا دیا گیا ہے، یعنی اسے ہر حال میں باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کا مطیع ہو کر زندگی گزارنی پڑتی ہے تو پھر یہ زیادہ بہتر ہے کہ عورت یہ مطالبہ کرے کہ ’میرا وجود میری مرضی‘۔ وجود سے مراد عورت کی مکمل شخصیت ہے، جس میں اس کی سوچ اور عمل پوری طرح شامل ہے۔ اسلام نے کسی بھی فرد کی شخصیت کو کسی دوسرے کا مطیع ہو کر رہنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لیے میرے نزدیک یہ مطالبہ دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہو گا ۔ قرآن مجید کے احکام سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ آخرت میں کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اس لیے عورت اگر اپنا یہ حق استعمال کرنا چاہیے کہ اس کا وجود اس کی مرضی سے عمل کرے گا، جس میں ظاہر ہے جسم اور سوچ و عمل سب شامل ہوں گے ، تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔سورۂ نجم کی آیت ۳۸ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
’’یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘

یہاں البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ عورت یا مرد کے وجود کی مرضی سے مادر پدر آزادی مراد نہیں لی جا سکتی ، یہ آزادی یقیناً ان معاشرتی اور اخلاقی حدود کی پابند ہو گی جو ہر معاشرے کی ضرورت ہے۔ جیسے میری گاڑی میری مرضی کا اصول تو میرا ہو گا لیکن میں اسکول کے سامنے سے گزرتے ہوئے رفتار کم رکھوں گا، اسپتال کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہارن نہیں بجاؤں گا، ٹریفک سگنل پر بریک لگاؤں گا تاکہ دوسرے بھی بحفاظت گزر سکیں۔ اسی طرح میرے وجود کی آزادی وہاں تک ہی ہو گی جہاں دوسرے پر اس کی زد نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے آزاد ترین معاشرے میں بھی بے لباس گھومنا پھرنا درست نہیں سمجھا جاتا۔
اور رہی بات عورت کے بارے میں دین کے تصور کی تو اس کے لیے براہ راست قرآن مجید کا مطالعہ ، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور احادیث مبارکہ کو پڑھا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ کون سی بات کس جگہ پر اور کس موقع پر کہی گئی ہے۔ ایک طرف اگر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو سب سے بڑھ کر عزت بخشی ہے تو دوسری طرف وہ کوئی ایسا مطالبہ کیسے کر سکتا ہے جس سے عورت کی عزت نفس اور ایک انفرادی انسان ہونے کی حیثیت مجروح ہوتی ہو۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *