• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • عالم عرب و اسلام کی ایک متنازعہ علمی شخصیت، ابن حزم۔۔۔احمد سہیل

عالم عرب و اسلام کی ایک متنازعہ علمی شخصیت، ابن حزم۔۔۔احمد سہیل

ابن حزم ابو محمد علی بن احمداسپین کے مشہور مورخ، شاعر و فقیہہ تھے۔ ان کی ولادت قرطبہ میں 994۔ء میں ہوئی۔ ان کی تعلیم وتربیت وسیع پیمانے پر ہوئی۔ ان کے دادا عیسائی تھے جنہوں  نے اسلام قبول کرلیاتھا۔ جب 1014 میں عامرئین کی حکومت پر زوال آیا تو انہوں نے قرطبہ چھوڑ کر المیرا میں رہائش اختیار کی۔ پھر پانچ سال کے بعد القاسم کے زمانے میں دوبارہ قرطبہ واپس ہوئے اور یہیں عہدۂ وزارت پر فائز رہے۔ ابن حزم کو مناظروںاور علمی مباحث کا بڑا شوق تھا اور بعض اوقات وہ راسخ العقیدہ  آئمہ پر بھی الحاد کا الزام لگا دیا۔ جسکی وجہ سے عالموں کا ایک بڑا حلقہ اب حزم کے خلاف ہوگیا تھا۔ اور  ان کی تصانیف کوبرسرعام اشبیلیہ میں نذر آتش کی گئیں اور اسے گوشہ نشینی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے جواب میں اس نے مخالفین کے بارے میں طنزیہ اور ہجویانہ نظمیں لکھیں۔

ابن خلدوں نے بھی ابن حزم کی تحریروں سے متاثر تھے۔ان کا انتقال 406ھ بمطابق 1064ء میں ہوا۔ ان کی مشہور تصانیف میں نقاط العروس فی تواریخ الخلفاء، جمہرۃ الانساب نہایت ہی مشہور ہیں۔ فقہ الحدیث میں آپ کی بلند پایہ تصنیف”المحلی” کا اردو ترجمہ چار جلدوں میں پاکستان سے شائع ہو چکا ہے۔ ابن حزم تمام حقائق عام کو تخلیق اصل قرار دیتے ہیں نہ کہ محض کسی عین کی نقل یا ثبوت صفت ہستی کا اضافہ ۔۔۔ ابن حزم کا دعویٰ  کہ  شے اور شے کی ذات یا عین کے دوسرے سے متہائن ہستیاں نہیں ہیں۔شے میں بعین وہی  ذات جوہر ہے اور وہ جوہر جو ذات عین بعین وہ : شے” ہے۔امام ابن حزم نے قیاس اور اجماع کے اصولوں کو رد کیا، آٹھویں صدی کے امام ابن تیمیہ(رح) نے فقہی مذاہب کی قطعیت سے انکار کیا اور دسویں صدی کے علامہ سیوطی نے تقلید کو رد کر کے اجتہاد کو از سر نو زندہ کیا.(علامہ اقبال کا تصور اجتہاد -اقبال اکادمی لاہور.-ص-١٩)

اپنے ایک خطبے میں اقبال یہ واضح کرتے ہیں کہ، ہئیت اسلامی میں اصول حرکت کا نام اجتہاد ہے. لیکن روایت نےاجتہاد کے تصور کی درجہ بندی کر کے اسے فقہی مذا ہب میں محدود کر دیا. جس سے اسلامی فقہہ اور قانون جامد اور میکانکی بن کر رہ گئے ۔علامہ اقبال اجتہاد کی ان درجہ بندیوں کو ترک کر کے اجتہاد کے بنیادی یعنی اجتہاد مطلق کے معنوں کو ترجیح دیتے ہیں؟علامہ اقبال کا کہنا ہے کہ اہل سنت اجتہاد مطلق کے نظری امکانات کو تو رد نہیں کرتے لیکن مذاہب فقہ عملی طور پر اس کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے ۔ علامہ اقبال کا کہنا تھا امام تمییہ خود بھی اجتہاد کے دعوی دار  تھے۔ وہ  ابن حزم کی طرح فقہ جنفی کے اصول قیاس اور اجتماع کے منکر رہے۔ ان کا یہ قول بہت شہرت اختیار کرگیا کہ “دوست کی سرزنش ایسے ہی ہے جیسے سونے کی ڈلی کو بھٹی میں ڈالا جائے یا تو وہ نکھر کر سامنے آئے گی یا ختم ہو جائے گی”۔

ان کا کہنا ہے دلیل نص اور اجماع سے ماخوذ ہوتی ہے۔ابن حزم کا خیال ہے  کہ قیاس سے استدلال کے جواز میں اختلاف کا نتیجہ ہوتا ہے۔” (کتاب مداوۃ النفوس یا الاخلاق والسیر از حافظ ابن حزم} اجتہاد سے بیزاری ،فقہی جمود اور اس کے تاریخی اسباب بیان کرتے ہوئے ،حضرت علامہ اقبال(رح)نے فرمایا ،اسلام کے برگزیدہ  افراد میں سے پانچویں صدی ہجری کے امام ابن حزم نے قیاس اور اجماع کے اصولوں کو رد کیا، آٹھویں صدی کے امام ابن تیمیہ(رح) نے فقہی مذاہب کی قطعیت سے انکار کیا اور دسویں صدی کے علامہ سیوطی نے تقلید کو رد کر کے اجتہاد کو از سر نو زندہ کیا.(علامہ اقبال کا تصور اجتہاد -اقبال اکادمی لاہور.-ص-١٩)

اپنے ایک خطبے میں اقبال یہ واضح کرتے ہیں کہ، ہئیت اسلامی میں اصول حرکت کا نام ہی اجتہاد ہے۔ امام ابن حزم(رح) خبر واحد کو حجت تسلیم کرتے ہیں اور اس پر علم و عمل دونوں کو واجب قرار دیتے ہیں.وہ کہتے ہیں. جب خبر واحد کا راوی عادل ہو اور اس کی سند نبی اکرم(ص) تک متصل ہو تو ایسی روایت پر علم اور عمل دونوں واجب ہیں. یہ حارث بن اسد محاسبی(رح) اور حسیں بن علی کرابیسی(رح) سے مروی قول ہے. امام مالک سے بھی اس طرح منقول ہے، ہم بھی یہی کہتے ہیں،ایسی حدیث قطعی طور پر حق اور علم و عمل دونوں کی موجب ہے)الاحکام فی اصول الاحکام-١ -١٢٤–اصول فقہ-٢٢- شریعہ اکادمی، فیصل مسجد اسلام آباد} روایت نےاجتہاد کے تصور کی درجہ بندی کر کے اسے فقہی مذا ہب میں محدود کر دیا. جس سے اسلامی فقہہ اور قانون جامد اور میکانکی بن کر رہ گئے۔

علامہ اقبال اجتہاد کی ان درجہ بندوں کو ترک کر کے اجتہاد کے بنیادی یعنی اجتہاد مطلق کے معنوں کو ترجیح دیتے ہیں؟علامہ اقبال کا کہنا ہے کہ اہل سنت اجتہاد مطلق کے نظری امکانات کو تو رد نہیں کرتے لیکن مذاہب فقہ عملی طور پر اس کے امکان کو تسلیم نہیں کرتے. اقبال کی نظر میں، قرآن زندگی کے متعلق یقینی طور پر ایک حرکی نقطہ نگاہ رکھتا ہے اس لیے اس کی بنیاد پرقائم شدہ نظام قانون میں اس قسم کا انداز و میلان نہایت عجیب معلوم ہوتا ہے.(أیضا-ص-١٨) علامہ کی خواہش تھی کی اجتہاد کے ذریعہ وقت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے  نصوص کی تعبیر و تشریح ہوتی رہنی چاہیے  اور مقاصد شریعت کو بروئے کار لاتے ہوئے اجتہاد کا عمل جاری رہنا چاہے۔

امام ابن حزم تقریباّ چار صد کتب کے مولف کہلاتے ہیں۔آپ کی وہ کتابیں جنہوں نے فقہ ظاہری کی اشاعت میں شہرت پائی وہ المحلی اور” الاحکام” فی اصول الاحکام ہیں. المحلی فقہ ظاہری اور دیگر فقہ میں تقابل کا ایک موسوعہ ہے . یہ کئی اجزاء پر مشتمل ایک ضخیم فقہی کتاب ہے جس میں فقہ اور اصول فقہ کے ابواب شامل ہیں.المحلی کا اردو زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے.(اور اسکی تین جلدیں کبھی کبھی بازار میں آ جاتی ہیں لیکن اکثر نہیں ملتی) موخرالذکر کتاب کا مو ضو ع اصول فقہ ہے. کہتے ہیں کہ اگر یہ دونوں کتابیں نہ ہوتیں تو اس مسلک کا جاننے والا کوئی نہ ہوتا. ظاہری مسلک کے متبعین نہ ہونے کے با وجود یہ مسلک ہم تک جس ذریعہ سے پہنچا ہے، وہ  ذریعہ یہ دونوں کتابیں ہی ہیں.(اصول فقہ -بک نمبر -٢٢- شریعہ اکیڈمی -فصل مسجد اسلامآباد)

ابنِ  حزم نے اولیا پرستی، قبر پرستی تصوف کے عقائد، دیگر بدتوں اور علم نجوم کو بھی ہدف تنقید بنایا ۔ اس نے عیسائیوں اور یہودیوں کے عقائد سے بھی بیزاری کا اظہار کیا ہے ۔ اب حزم فکر اسلامی میں ایک متنازعہ شخصیت ہیں ۔ اور آج بھی ان کے حق اور رد میں دو فکری دبستان موجود ہیں اور ابن حزم کے علمی فکریات کے بہت سے سوالات ہنوز الجھے ہوئے ہیں۔ ابن حزم رحمہ اللہ كا مسئلہ تو وہ امام اور مجتہد تھے اور وہ تقليد كو حرام قرار ديتے ہیں  اور وہ كسى ايك امام كے بھى تابع اور پيروكار نہ تھے، نہ تو امام احمد كے اور نہ ہى كسى دوسرے امام كے، بلكہ وہ اپنے دور اور اب تك كے اہل ظاہر كے امام تھے، ہو سكتا ہے ان كو امام احمد كى طرف منسوب كرنا ( اگر يہ صحيح ہو ) عقيدہ اور توحيد كے مسائل ميں ہے، اس پر كہ اس كے ہاں اسماء و صفات ميں بہت سارى مخالفات پائى جاتى ہيں.

اس سلسلے میں الشیخ محمد ابزہرہ کی کتاب ۔۔ ” حیات امام ابن حزم ” ۔۔ بڑے معرکے کی کتاب ہے۔ اس کتاب کو پروفیسر احمد حریری نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ابن حزم كى سيرت كا مطالعہ كرنے كے ليے سير اعلام النبلاء ( 18 / 184 – 212 ) اور آر۔ آرنلڈز، ابن حزم۔ دائرۃ المعارف اسلامیہ، سینکڈ ایڈیشن۔ برل آن لائن، 2013. ۔ 09 جنوری 2013 اصول فقہ -بک نمبر -22- شریعہ اکیڈمی -فصل مسجد اسلام آباد، كا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *