نظریہ فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ ؟ ۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط2

اعتراض11: ایک سروئیر لکھتا ہےکہ مجھے انجینئرنگ میں 30 سال کا تجربہ ہے ہم ریلوے انجنز کو انتہائی مہارت سے بناتے ہیں تا کہ اونچائی نیچائی والی جگہوں پر صحیح کام کرسکے، اگر زمین واقعی گول ہوتی اور اس میں خم ہوتا تو اب تک ریلوے انجن کام کرنا چھوڑ دیتے یہی وجہ ہے کہ تمام یورپ میں ٹرین کے پلیٹ فارمز ایک ہی لیول کے ہیں حالانکہ ان میں 300 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
جواب: اس اعتراض میں محض سروئیر کا کہہ کر کوئی حوالہ اور نام تک ظاہر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے اس اعتراض پر بحث کرنا فضول ہے۔ اگر اعتراض کا جائزہ لیا بھی جائے تو پچھلی قسط میں پہلے دس اعتراضات پڑھنے کے بعد اس اعتراض کا جواب ہمیں خودبخود مل جائے گا .
پہلی قسط کا لنک
اعتراض 12: مانچسٹر کی شپ کنال کمپنی نے Earth Review میں لکھا: “یہ ہماری پریکٹس ہی نہیں کہ کسی بھی پبلک ورکس کو زمین کے کرویچر کی بنیاد پر دیکھا جائے اور بنایا جائے”
جواب: یاد رہے کہ زمین کا حجم زیادہ ہونے کے باعث اس کا خم چھوٹے رقبے مثلاً ایک میٹر پر اتنا معمولی ہے (تقریباً 0.078مائیکرو میٹر)کہ اس کا اندازہ لگانا بھی محال ہے لیکن اس بات میں کوئی سچائی نہیں کہ بڑے رقبے پر کوئی پروجیکٹ شروع کرتے ہوئے  curvature of earth کی پیمائش نہیں لی جاتی، پچھلی قسط میں ہم نے geodetic سروے کے متعلق پڑھا ہے جس میں زمین کے خم کی پیمائش لازمی حصہ ہے۔
اعتراض 13: Arago اور  M.M.Biot  نے ایک تجربہ کیا ، جہاں دو ایک جیسی پہاڑیوں کے درمیان کا فاصلہ 160 کلومیٹر تھا، اس تجربے میں خاص عدسے  استعمال کرکے جب روشنی کو سیدھا پھینکا گیا تو روشنی 160 کلومیٹر دور دوسری پہاڑی پر پڑی جس کا مطلب ہے کہ زمین سیدھی ہے۔
جواب: اس ضمن میں صاحب کتاب نے انتہائی غیرذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ، پہلے تو یہ سمجھنا چاہیے کہ تجربہ کرنے والے دونوں سائنسدان زمین کے گول ہونے پر یقین رکھتے تھے اور اس تجربے کے تحت وہ خم کے بارے میں معلوم کرنا چاہتے تھے، جس مقام پر یہ  تجربہ انجام دیا گیا اسے بارٹولو کہا جاتا ہے ،اس پہاڑ کی اونچائی 2383 فٹ ہے ۔ جبکہ روشنی ایبازہ کے مقام پر پڑی جس کی اونچائی 1300فٹ ہے، لہٰذاپہاڑوں کی اونچائی کے باعث  160 کلومیٹر کی دُوری سے بھی بارٹولوکا تقریباً 200 فٹ کا حصہ دیکھا جاسکتا ہے جس کے تحت فلیٹ ارتھرز کا یہ ثبوت بھی ردی کی ٹوکری کی نظر کردیا گیا!
اعتراض 14: لیفٹیننٹ کرنل Portlock کا تجربہ جس میں انہوں نےسورج کی روشنی منعکس کی تو 174 کلومیٹر دُور پہاڑ پر دیکھی گئی۔
جواب: جس جگہ سے سورج کی روشنی منعکس کی گئی اس پہاڑ کی اونچائی 2500 فٹ تھی جبکہ جس پہاڑ پر روشنی پہنچ رہی تھی اس کی اونچائی 1500فٹ تھی لہٰذا اونچائی سے ہونے والی منعکس روشنی باآسانی دوسرے پہاڑ تک پہنچ سکتی تھی۔
اعتراض15: اگر زمین واقعی گول ہوتی تو جہاز کو 885 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتے وقت ہر تھوڑی دیر بعد اپنی ناک زمین کی جانب کرنی پڑتی ورنہ جہاز خلاء میں پہنچ جاتا۔
جواب: فلیٹ ارتھر چونکہ کشش ثقل پر یقین نہیں رکھتے اس خاطر بھی ایسے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں! جہاز کی رفتار 885 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے اور زمین کی کشش ثقل سے نکل کر خلاء میں پہنچنے کے لئے 11.5 کلومیٹر فی سیکنڈ  کی رفتار چاہیے ہوتی ہے ! لہٰذا یہ انتہائی بچگانہ اعتراض ہے جو فلیٹ ارتھرز کی سائنس سے ناواقفیت صاف ظاہر کرتا ہے !
اعتراض 16: Airy  کے ناکام تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین فلیٹ ہے۔
جواب: یاد رہے کہ Airy کمال کا ریاضی دان اور فلکیات دان تھا اور Airy کی فلکیات کے لئے بہت خدمات ہیں۔ آج سے کچھ سو سال پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہماری خلاء میں ether نامی مادہ موجود ہے جس پر روشنی سفر کرکے ہم تک پہنچتی ہے(بالکل ایسے ہی جیسے آواز ہوا پر سفر کرکے ہمارے کانوں تک پہنچتی ہے)۔Airy نے etherکی موجودگی کو جاننے کے لئے ٹیلی سکوپ میں پانی بھر کر ستاروں کا مشاہدہ کیا ۔ اس تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ether نامی کوئی مادہ وجود نہیں رکھتا بلکہ روشنی بغیر کسی medium کے سفر کرتی ہے ۔ یہ اب تک نہیں معلوم ہوپایا کہ کیوں فلیٹ ارتھرز بغیر کسی connection کے اس تجربے کے نتائج کو ساکن زمین کے لئے بطور دلیل پیش کرتے ہیں حالانکہ اس تجربے کے نتائج تو صرف ایتھر کی موجودگی کی نفی کرتے ہیں اور پوری دنیا کا اس پر اتفاق ہے۔
اعتراض 17: آسمان پر اگر حقیقتاً سورج جیسے اربوں ستارے موجود ہیں تو رات کو آسمان کالا نہیں ہونا چاہیے اور ان ستاروں کے درمیان اتنی خالی جگہ کیوں ہے؟
جواب: فلکیات سے شغف رکھنے والاکوئی بھی شخص یہ بات باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ بہت سے ستارے ہمیں عام آنکھوں سے نظر نہیں آتے لیکن عام ٹیلی سکوپ سے آپ باآسانی انہیں دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ کائنات کے پھیلاؤ کے باعث کہکشاؤں میں فاصلہ بڑھ رہا ہے سو یہ انتہائی بچگانہ بات ہے کہ کائنات میں اربوں ستارے موجود نہیں بلکہ چند گنے چنے ستارے موجود ہیں۔
اعتراض 18: Sagnac تجربات  کے ذریعے روشنی کی رفتار ناپنی چاہی مگر زمین چپٹی ہونے کی وجہ سے یہ تجربات ناکام ہوئے۔
جواب: یہ تمام تجربات ether کی موجودگی کو معلوم کرنے کے لئے کئے گئے لہٰذا ان کو ساکن زمین سے جوڑنا محض کم عقلی کے سوا کچھ نہیں۔
اعتراض 19: مشہور فلکیات دان Tycho Brahe نے کہا تھا کہ اگر زمین گول ہے اور گردش کرتی ہے تو سورج کے گرد چکر کاٹتے ہوئے ستاروں کے مابین پوزیشن کا فرق آنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔
جواب: Tycho Brahe آج سے چار سو سال پہلے کے فلکیات دان ہیں، اس وقت کی معلومات اور آج کی معلومات میں زمین آسمان کا فرق ہے، ستاروں کی پوزیشن تبدیل کرنے کو Stellar parallax کہا جاتا ہے  اور اس کا مشاہدہ زمین سے کیا جاسکتا ہے ،لیکن یاد رہے کہ ریاضی کے اصولوں کے تحت جو ستارہ جس قدر دُور ہوگا اس کی پوزیشن میں تبدیلی اتنی ہی کم ہوگی۔
اعتراض 20: اگر زمین واقعی سپن کر رہی ہے تو آسمان کی جانب عموداً اُچھالے جانے والی چیز کو تھوڑے فاصلے پر گرنا چاہیے!
جواب: چونکہ فلیٹ ارتھرز زمین کے گھومنے کے ساتھ ساتھ کشش ثقل پر بھی یقین نہیں رکھتے یہی وجہ ہے کہ ایسے عجیب و غریب سوالات سُننے کو ملتے ہیں۔ زمین پر موجود ہر ذرہ زمین کے ساتھ ساتھ سپن کررہا ہے! لہٰذا اچھلنے کودنے سے ہم کہیں اور چلے جائیں ایسا نہیں ہوسکتا اور ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنے بچے کو ہوا میں اچھالیں اور زمین کے گھومنے کے باعث وہ  دوسرے محلے میں جا کر گرے۔ اس کےلئے  ہمیں frame of reference اور کشش ثقل کے متعلق سمجھنا پڑے گا۔ اس کی مثال ہم بس میں سفر کے دوران لے سکتے ہیں کہ جب بس چل رہی ہوتی ہے تو ہمارا جسم بس کے ساتھ interaction میں رہتا ہے اور اسی رفتار سے سامنے کی جانب move کررہا ہوتا ہے لیکن جیسے ہی بس کو بریک لگتی ہے تو چونکہ ہمارا جسم  motion میں ہوتا ہے لہٰذا ہمیں شدید جھٹکا لگتا ہے۔ اسی خاطر اگرکبھی زمین کو اچانک بریک لگ گئی تو ہم سب اڑ کر خلاء میں پہنچ جائیں گے۔آپ frame of reference  کا عملی مظاہرہ 180 کی رفتار سے چلتی گاڑی میں سگریٹ پی کر بھی کرسکتے ہیں ، سگریٹ کا دھواں ویسے ہی اوپر اٹھے گا جیسے کھڑی گاڑی میں اٹھ  رہا۔ اگر سگریٹ کی مثال پسند نہیں تو تیز رفتار سے چلتی بس یا ٹرین میں گیند اوپر اچھالیں ، گیند آپ کے ہاتھ میں واپس آئے گی !
اعتراض 21: اگر زمین سپن کررہی ہوتی تو گرم غبارے اور ہیلی کاپٹرز صرف فضا میں کھڑے کھڑے اپنے مقامات پر پہنچ جاتے۔
جواب: اعتراض نمبر 20 میں اس کا جواب دیکھیئے۔
اعتراض 22: Red Bull Stratosphere Drive کے دوران کھلاڑی غبارے سے بندھے کیپسول میں مسلسل تین گھنٹے نیو میکسیکو کے اوپر  فضاء میں بلند ہوتا رہا ، اسے چھلانگ لگانے پر 4 ہزار کلومیٹر دور لینڈ ہونا چاہیے تھے مگر وہ چند درجن کلومیٹر دُور لینڈ ہوا۔
جواب: اس کا جواب اعتراض نمبر 20 میں دیا جاچکا ہے کہ ہم سب زمین کے ساتھ اس کے frame of reference میں بندھے ہیں۔
اعتراض 23: کشش ثقل صرف ایک دھوکہ ہے ۔اگر زمین سپن کررہی ہوتی تو فضا، بارش، اولے الغرض تمام اشیاء ایک خاص مقام پر نہ رہ سکتیں۔
جواب: جب کشش ثقل کو دھوکا ہی کہنا ہے تو پھر آپ جو چاہیں دعویٰ کرلیں۔ یاد رہے یہ دعوے وہ لوگ کررہے ہیں جن کی سائنس محض کمرے میں بیٹھ  کر اپنی آنکھوں دیکھی اشیاء کو مشاہدہ کرنے تک محدود ہے۔ بہرحال زمین کے ساتھ ساتھ اس کی atmosphere، ہوائیں، بادل ، ہر چیز سب اسی رفتار سے زمین کے frame of reference کے ساتھ motion میں ہیں لہٰذا یہ بےجا اعتراض ہے۔
اعتراض 24: اگر زمین واقعی سپن کررہی ہوتی تو توپ کے گولے مختلف سمتوں میں مختلف فاصلوں پرگر جاتے ۔ لیکن آپ جہاں توپ کا گولہ داغیں گے  وہ ہر سمت میں یکساں فاصلہ ہی طے کرکے گرے گا۔
جواب: اعتراض نمبر 20 ملاحظہ کیجئے۔
اعتراض 25: اگر زمین سپن کررہی ہوتی تو فضاء میں اڑنے والے جہاز کبھی اپنی منزل پر نہ پہنچ پاتے۔
جواب:  اعتراض نمبر 20 ملاحظہ کیجئے۔
(جاری ہے!)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نظریہ فلیٹ ارتھ حقیقت یا افسانہ ؟ ۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط2

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *