• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تو مِرا دل بنا دیا ! ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب پر تبصرہ ۔۔۔۔۔عفت نوید

تو مِرا دل بنا دیا ! ڈاکٹر شیر شاہ سید کی کتاب پر تبصرہ ۔۔۔۔۔عفت نوید

جدید دور کے افسانے میں لکھنے والوں نے تجرید اور علامت نگاری کے رجحانات سے متاثر ہوکردانش ورانہ اسلوب اختیار کیا ۔ جس میں پڑھنے والوں کو حسن تو نظر آیا لیکن کیفیت اور کہانی غائب ہو گئی ۔ اور پھر آہستہ آہستہ روایت سے جڑے رہنے والے قارئین کی تعداد بھی گھٹنے لگی ۔ لیکن ادب میں ایک بار پھر روایتی رجحان کی طرف لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، جن میں ایک نام ڈاکٹرشیر شاہ سید کا بھی ہے۔

شیر شاہ سید کی تحریں ان کی شخصیت کی طرح سادہ لیکن دل پذیر ہیں جو سیدھی دل میں اترتی ہیں ۔ ان کے حساس دل و دماغ کو چھوٹی سے چھوٹی چیز جس طرح متاثر کرتی ہے وہ اسے من و عن اسی طرح کاغذ پر اتار لیتے ہیں ۔ ان کے سچ کی یہ ہی پاکیزگی ان کی تحریروں کو روحانیت اور اثر عطا کرتی ہے ۔اپنی تحریروں میں وہ قصہ ہی بیان نہیں کرتے خود بھی اس کا کردار بن جا تے ہیں جو مرکزی نہ ہو تے ہوئے بھی بہت خاص ہو تا ہے ۔ جس کے بغیر کہانی کی ابتدا نہیں ہو سکتی ۔ ان کی ساری تحریریں سادگی اور پرکاری کے باوجود انسانی سطح پر معنویت رکھتی ہیں ۔اور شاہ صاحب کا جھگڑا بھی انسان سے انسان کے لیے ہے ۔

انسان اپنی زبان ، اور لکھا ری اپنی تحریر کے پیچھے چھپا ہوتاہے ۔ شاہ صاحب کی شخصیت کو ان کی تحریر کے آئنے میں صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔ اپنی زات سے منسوب اچھے لوگوں اور دوستوں کو محبت سے یاد کرنا ، ان کا زکر کرنا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے ، شاہ صاحب کا ظرف ان کی شخصیت اور تحریر کے ایک ایک پہلو سے جھلتا ہے ۔
اپنی کتاب میں ایدھی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں واہ رے ایدھی صاحب کیا بات تھی آپ کی ۔ نہ غصہ نہ دعویٰ ، نہ شور نہ شرابہ ، سچ کی طرح سادہ ، دل میں کوئی بات نہ رکھی ۔ جس نے ہاتھ پکڑنا چا ہا اسے ہاتھ پکڑا دیا ، اور جو غصہ کرنے آیا غصہ کر کے چلا گیا ، بے شمار مثالیں ہیں ۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید

اب اسی بات کو اگر میں اس طرح پڑھوں کہ واہ رے شاہ صاحب کیا بات ہے آپ کی ۔ نہ غصہ نہ دعویٰ ، نہ شور نہ شرابہ ، سچ کی طرح سادہ ، دل میں کوئی بات نہ رکھی ۔ جس نے ہاتھ پکڑنا چا ہا اسے ہاتھ پکڑا دیا ، اور جو غصہ کرنے آیا غصہ کر کے چلا گیا ، بے شمار مثالیں ہیں ۔

شاہ صاحب انسان دوست ہی نہیں، دوست عاشق بھی ہیں ۔ ان کے دوست بھی ان کی طرح درویش صفت ہیں۔ شاہ صاحب اپنی اس نئی کتاب میں نے ایدھی صاحب ، کاوئس جی اور ایم اے قوی صاحب پر جو مضامین لکھے۔ وہ ایک ایسے درد مند ساتھی کے ہیں جس کا ایسی نابغہء روزگار شخصیات کے ساتھ دوستی کا ہی نہیں روح کا رشتہ تھا۔ ایسے عظیم لوگ ہی شاہ صاحب کی سچی دوستی کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔

ان کے عنوانات ہی سے ان کی شخصیت پورے طور پر واضح ہو جاتی ہے ۔ ایدھی صاحب پر جو مضمون ہے اس کا عنوان ’’ میری آنکھیں بہت دیر تک دیکھا کریں گی‘‘۔ ارد شیر کاؤس جی پر ان کے مضمون کا عنوان ’’ وہ جو دیکھتے تھے دور تک ‘‘ اور ایم۔اے۔ قوی پر مضمون کا عنوان ’’ تھا جدا سب سے میرے عشق کا انداز سنو ‘‘ ہے۔۔

ان کی ایک کہانی ’’ امی ‘‘ میں وہ اپنے دوست کی ازدواجی زندگی میں در آنے والی ایک تلخی کو محسوس کر کے اپنے دوست کی حالت پر آزرد دہ ہیں لیکن اس کہا نی کے پیچھے چھپا پیغام بھی پوری طرح واضح ہے ۔ ان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی اور میں سمجھتی ہوں ان تمام تحریروں کا مقصد بھی لوگوں کو زندگی کے مختلف رویوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ایک مثبت پیغام کے رسائی کی کوشش بھی ہے جس میں شاہ صاحب کافی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں ۔ اسی طرح اپنے ایک پرانے دوست کو جب جنون کی کیفیت میں بد حال دیکھتے ہیں تو ان کے دل کی تڑپ کو قاری ان کی تحریر میں واضح محسوس کر سکتا ہے ۔

شاہ صاحب کی نسان دوست شخصیت کی سحر انگیزی، انسان دوستوں کو ان سے قریب کر دیتی ہے ۔ ہماری بہت پیاری دوست گوہر تاج کے یہ عزیز ترین دوست ہیں ان کی گفتگو شیر شاہ کے ذکر کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں ان کی دوستی نصیب ہے ۔ ہمارے لیے یہ بھی اعزاز ہے کہ ہم ان کے دوستوں کے دوست ہیں ۔

شاہ صاحب سے ملیے ، انہیں دیکھیے ، ان سے گفتگو کیجیے ۔ نہ چال میں کسی ہیرو کو سا انداز ، نہ لباس میں امیرانہ شان ، نہ لہجے میں تمکنت ، نہ ان کی گفتگو میں عالمانہ رنگ اور نہ ان کی تحریروں میں فلسفانہ داؤ پیچ نظر آئیں گے ان کی تحریر کے مناظر میں نہ منٹو گیریت ہے نہ بے با ک مکالمے ، نہ دیو مالائی قصے ۔ لیکن ایک زمانہ ان کی تحریروں کا دیوانہ اور ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہے ۔ شاہ صاحب کے موضوعات قاری کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔ اور قاری بھی اس تیز بہاؤ میں کو ئی مزاحمت کیے بغیر خود کو بہتی لہروں کے سپرد کر دیتا ہے ۔ وجہ ان کی تحریر کا خلوص اور اور زندگی سے جڑے حقیقی کردار ہیں ۔ جن سے قاری اپنا رشتہ استوار کر کے خود بھی کہانی کا حصہ بن کے شاہ صاحب کے ساتھ ساتھ جڑا رہتا ہے۔

شیر شاہ خا لق نہیں پر تخلیق میں مدد برابر کرتے ہیں ۔۔کارِ مسیحائی خدائی سے جڑی ہے مریض صحت یاب ہو جا ئے تو اللہ کا شکر ادا کیا جاتاہے ، حالت بگڑ جائے تو ڈاکٹر کو دوش دیا جاتا ہے ۔
ہم گھر کے کونے میں زیرِ لب خدا سے اپنی غلطیوں کی معافی اور نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ لیکن انسانوں سے معافی یا ان کا شکریا ادا کرنے میں ہماری انا آڑے آتی ہے۔ شاہ صاحب جیسا حساس انسان کیسے اپنے مریض کو تکلیف میں دیکھ کر اور پھر اس کے پیاروں میں اس کی تکلیف کی تڑپ دیکھ کر کیسی ازیت محسوس محسوس کرتا ہے یہ ان کی تحریروں میں با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے

اپنی ایک کہانی ’’ فرض یا مرض ‘‘ میں ان کی تڑپ دیکھیے ۔
’’ میرا دل پہلے کبھی اتنی تیزی سے نہیں دھڑکا تھا ۔ ڈاکٹر کو احساس نہیں ہو نا چاہیے ۔ مریضوں کے مسئلے مریضوں تک ہی رہیں تو بہتر ہے ، لیکن اس دل کا کیا کر سکتا ہے انسان ، ہر تھوڑے دنوں کے بعد ایسا ہی کوئی مریض آجاتا ہے جو دل کی دھڑکنوں کو بے ضابطہ کر کے چلا جا تا ہے ، کیا کرے اس دل کا انسان ‘‘

انسانیت سوز مظالم کی اسٹوریز پڑھ کر زہن و دل کی عجیب حالت ہو جا تی ہے ۔ لیکن شاہ صاحب کی ہمت کو سلام ۔ کہ پہلے خود کو مظلوم کے درد میں برابر شریک رکھ کر وہی ازیت سہتے ہیں اور پھر پوری سچائی سے،جس طرح انہوں نے محسوس کیا، اس ازیت کو اپنے قاری تک اس طرح پہنچاتے ہیں ۔ کارِ مسیحائی تو بہت لوگ کرتے ہیں لیکن روح پر لگے زخم دکھانے کا کارِ ہنر بہت کم مسیحاؤں کو نصیب ہوا ہے ۔

ڈاکٹر شیر شاہ کو دن میں پانچ بار نہیں ، ایک بار نہیں، تو ہفتے میں ایک بار ضرور پڑھیں ۔ نہ اس کے لیے وضو ضروری ہے، نہ جا ء نماز بچھا کر کی رکوع سجود کی ضروت ہے ۔ نماز میں دھیان بھٹک سکتا ہے، لیکن یہ ظالم شخص اپنی تحریروں میں ایسا باندھ کے رکھتا ہے کہ ذہن کے بھٹکنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

ان کی تحریر میں آپ کو کئی مرتبہ رب نظر آئے گا شکر گزاری کے احساسات پیدا ہوں گے ۔ صبر کی طاقت ملے گی اور زندگی سے لڑنے کا حوصلہ عطا ہو گا ۔
ان کے الفاظ بالکل عوامی انداز کے جیسے کوئی سولہ سال کا لڑکا کان میں ہینڈس فری لگائے اپنے محلے کی لڑکی کو پٹانے میں مصروف ہو ۔ ان کے تحریر قاری کو ایسے ہی مائل کرتی ہے ۔
ایک واقعے کے مرکزی خیال کو وہ کیسے الفاظ کی لڑی میں پروتے چلے جاتے ہیں اور قاری ان لڑیوں کو ، تسبیح کے دانوں کی طرح تھامتا  آخری دانے پر پہنچتا ہے اور بے اختیار تسبیح چوم کر رکھ دیتا ہے ایسا حسین انداز تحریر قدرت اپنے ہی جیسے لوگوں کو عطا کرتی ہے جو اس کی طرح معصوم ، سچے کھرے اور روشن ہوں ۔

شاہ صاحب کی تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نصیحت نہیں کرتے ، گناہ و ثواب پر لیکچر دینے کے بجائے صحیح اور غلط کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کی کہانیاں گھپ اندھیرے میں بھی روشنی کی کرن دکھا تی ہیں ۔ اپنی ایک کہانی ’’ جھلملاتی آنکھیں ‘‘ میں ایک ایسی لڑکی کی کہانی پیش کرتے ہیں۔ جس کی پامالی کے زخموں کو ایک ڈاکٹر نے اپنے ہاتھوں سے صاف کیا تھا ۔ اور وہ لڑکی پھر خود ڈاکٹر بن کر زمانے کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔

اس مسیحا کا دل مالک نے ایسا ہی بنایا ہے۔ مجھے لگتا ہے اس کے پاس دل کے سوا کچھ نہیں ۔ اس کا سوچنا ، جاگنا ، لکھنا ، پڑھنا ، ہنسنا ، رونا اور کام سب دل سے ہے ۔ اس نے عقل کو دل کے تابع کر رکھا ہے ۔ ہمیشہ دل کی سنتا اور دل سے بولتا ہے ۔ مالک ایسے دل کو توانائی عطا کرے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *