آفاق احمد بمقابلہ الطاف حسین اور مفاہمت کی سیاست

کراچی کی سیاست ایک بار پھر خود کو ماضی کے سانچے میں ڈھالنے جارہی ہے. ماضی کی دو بڑی حریف جماعتیں ایم کیوایم پاکستان اور ایم کیوایم حقیقی میں اچانک قربتیں بڑھنے لگی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں جماعتیں ساتھ مل کر کراچی کے حقوق کی جنگ لڑیں گی. بظاہر تو یہ اتحاد ایم کیو ایم پاکستان اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان ایک عام نوعیت کا سیاسی اتحاد لگتا ہے لیکن اگر اسے کراچی کے جغرافیائی حالات اور موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو اس اتحاد کو بنیادی طور پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا مہاجر قومی موومنٹ میں ضم ہونے کی شروعات سمجھا جاسکتا ہے. کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اپنے بانی سے علیحدگی کے بعد عوام کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں بری طرح سے ناکام رہی ہے. جس کی تازہ مثال حال ہی میں حیدرآباد یوسی چھیالیس میں چئیرمین کی خالی نشست پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایم کیوایم پاکستان کے امیدوار کے مقابل ایم کیو ایم لندن کے حمایت یافتہ امیدوار کی کامیابی کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے. اگر یہی صورتحال 2018 کے عام انتخابات میں بھی دکھائی دیتی ہے تو پارٹی میں موجود تمام سنیئر رہنماؤں کے نہ صرف سیاسی کیریئر داؤ پر لگ جائیں گے بلکہ پارٹی کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا. لہذا ایسی صورتحال میں ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں کو نہ صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے کی ضرورت درپیش تھی بلکہ پارٹی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا رکھنا بھی اتنا ہی ضروری تھا بس یہی وجہ ہے جس نے 25 سالہ اختلافات کو بھلا کر، ایک دوسرے کے انتہائی قریب لاکھڑا کیا.
ادھر مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کا اختلاف متحدہ قومی موومنٹ کے بانی سے تھا لہذا پارٹی کا اپنے بانی سے علیحدگی کے بعد اب ایسا کوئی جواز نظر نہیں آتا کہ برسوں سے جاری اختلافات کو مزید طول دیا جائے. یہی وجہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے پرانی رنجشوں کو بھلا کر ساتھ مل کر کام کرنے کی آفر کو موقع غنیمت جان کر فی الفور قبول کرلیا گیا. اِسی طرح کی سیاسی مفاہمت کے کچھ اشارے پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے بھی ملتے ہیں. جبکہ پاک سرزمین پارٹی کی عوامی حلقوں میں سیاسی پوزیشن بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے. حقیقت یہ ہے کہ سب کے سب ایک شخص کی سیاست کے آگے ڈھیر ہیں اور اُس منتر کو سمجھنے سے عاری ہیں جس کے سحر میں ڈوبے عوام کسی طور نکلنے کو تیار نہیں. آخر کار اُس کی جانب ہاتھ بڑھانے پر مجبور ہوئے جو اِن منتروں کا توڑ بھی جانتا ہے اور سحر میں ڈوبے ہوؤں کو نکالنے کا ہنر بھی. اس بات میں کوئی شک نہیں الطاف حسین کے بعد اِس سیاسی بحران میں اگر کوئی قیادت مہاجروں کو ایک لڑی میں پرو کر رکھ سکتی ہے تو وہ آفاق احمد ہے لیکن یہاں ایک سوال جو سب سے اہم ہے وہ یہ کہ کیا ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے قائدین و دیگر رہنما آفاق احمد کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں گے اور کیا اسٹیبلشمنٹ کو یہ سب قبول ہوگا؟
وقتی طور پر تو شاید ایسا ہوجائے کیونکہ اِس وقت آفاق احمد سب کی ضرورت ہے. ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں کو 2018 کے عام انتخابات میں اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے کی فکر لاحق ہے جبکہ اِس سارے کھیل کے پیچھے کھڑی اسٹیبلشمنٹ پریشانی کا شکار او ر ساری صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کی گئی ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ بانی ایم کیو ایم کے اثر کو مہاجر عوام کے دلوں سے کم کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوپائی ہے جبکہ پاک سرزمین پارٹی سے لیکر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وجود میں لانے تک کی ہر کوشش بےسود ثابت ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ آج اسٹیبلشمنٹ خود بانی ایم کیوایم کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دفن کرنے کےلیے مہاجر کارڈ کا استعمال کرنے پر مجبور ہے اور بطور مہاجر لیڈر مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد کو کراچی کی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کررہی ہے جس کے لیے کراچی کی تمام جماعتوں کو مفاہمت کا موقع دیتے ہوئے مہاجروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اُن کے ذہن بدلنے کی ایک کامیاب کوشش کی جارہی ہے.
بظاہر تو یہ سب اسٹیبلشمنٹ سمیت ایم کیوایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور یہاں تک کہ اردو بولنے والوں کےلیے مثبت پیشرفت دکھائی دیتی ہے لیکن اِس سارے کھیل کے مستقبل میں کیا نتائج برآمد ہوں گے اِس کا اندازہ شاید کسی کو نہیں. اگر بالفرض کراچی کے عوام آفاق احمد کو اپنا نیا سیاسی قائد تسلیم کرلیتے ہیں اور کراچی حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں سے جہاں جہاں اردو بولنے والے آباد ہیں آفاق احمد کی قیادت میں کھڑے ہوجاتے ہیں تو کیا اِس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ برسوں سے صرف “جئے مہاجر”کا نعرہ لگانے والا آفاق احمد کروڑوں عوام کی حمایت ملنے کے بعد اپنے سیاسی مخالفین سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر آمدہ ہوسکے گا ،یا سندھ کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے حقوق نہ ملنے پر لچک کا مظاہرہ کرتا دکھائی دے گا ؟ اگر اِس کا جواب نہ میں ہے تو ذرا پل بھر کےلیے سوچیے اس کے کس قدر خطرناک نتائج برآمد ہوں گے. اتنے جوڑ توڑ کرنے اور مستقبل میں کراچی کو پھر سے خطرات میں ڈالنے سے بہتر ہے اسٹیبلشمنٹ سندھ میں اردو بولنے والوں کے جائز حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ،اردو بولنے والوں کو صوبے میں شراکتِ اقتدار کا حصہ بنائے اور پورے سندھ میں بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں میں آئین کی شق 140 اے کے تحت بااختیار شہری حکومتوں کا قیام عمل میں لائے۔اس سے یقیناً بہت سے مسائل حل ہوں گے۔

علی راج
علی راج
سوشل میڈیا بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *