بلوچ طلبا کی جبری گمشدگیوں‌ کا معاملہ۔۔۔۔سراج بلوچ

ہر قوم کا مستقبل اُس کا  طابعلم  طبقہ ہوتا ہے۔ یہ انتہائی حساس اور باشعور طبقہ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے قوم کے مستقبل جیل خانوں میں بند ہیں۔ مہذہب قومیں اور مہذہب معاشرے اپنے پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کو اپنی قومی بقا اور تشخص کا ضامن سمجھتی ہیں لیکن یہاں صورت حال مختلف ہے۔ بلوچ طلبا آج کے دور میں شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں، ان کو بلا کسی ٹھوس ثبوت اور وجہ کے لاپتہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اغوا سے طلبا ذہنی بیماری اور الجھن کے شکار ہیں۔ پڑے لکھے طلبا کو اغوا اور لاپتہ کرنے سے ملکی آئین اور قانون پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ جیئند بلوچ کے جبری اغوا اور تاحال گمشدگی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

جیئند بلوچ اور دوسرے لاپتہ افراد کی گمشدگی حکومت کے لیے سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ جسے موجودہ حکومت صوبائی و قومی اسمبلی کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آج بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اسے فوری طور پر حل کیا جائے۔ کیونکہ اگر اس طرح کے مسائل کا حل نہیں نکلا تو اس کے کئی منفی نتائج نکل سکتے ہیں جو مستقبل میں ملک کے معاشی، سماجی ترقی کے راستے میں حائل ہو سکتے ہیں۔

جیئند بلوچ ذکریا یونیورسٹی ملتان کا طالب علم ہے جسے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے 31 نومبر 2018 کو گھر میں گھس کر اس کے چھوٹے بھائی حسنین سمیت اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جو تاحال لاپتہ ہیں۔ جیئند بلوچ اور اس کے بھائی کی گمشدگی حکومت کے لیے سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ لیکن کوئی بھی سیاسی جماعت اس سوال کا جواب دینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

جیئند بلوچ کا تعلق بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ہے جس نے ہمیشہ آئینی دائروں میں رہ کر جمہوریت اور بلوچ اسٹوڈنٹس کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ اس طرح کے سٹوڈنٹس جو آئین کی عزت و احترام کرتے ہیں اور جمہوریت کو مضبوط کرنے میں کوشاں ہیں، ان کی گمشدگی عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ملکی سطح پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔

جیئند بلوچ کی آواز سارے سٹوڈنٹس کے لیے ایک مثال ہے جس نے ہمیشہ طلبہ حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ایک آواز ہو کر جدوجہد کی ہے۔ اگر اُس کے دل میں ہمارے لیے جذبات و احساسات تھے تو آج ہم کیوں خاموش ہیں اُس کی گمشدگی پر؟۔

موجودہ حکومت میں بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں پہ پابندیاں اور بلوچ طالب علموں کی گمشدگی قابلِ مذمت عمل ہے جو ایک سازش کے تحت سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے تاکہ بلوچ طالب علموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کو تعلیم اور علم سے کنارہ کش کیا جا سکے اور با آسانی بلوچ ساحل و وسائل پر قبضہ جمایا جا سکے۔

ابھی حال ہی میں پاکستان کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں 20 دنوں کے اندر 15 سے 20 طلبا جبری گمشدگی کا شکار بن گئے ہیں۔ اس طرح کے غیراخلاقی عمل سماج کے ہر فرد کے اندر شک و شبہ پیدا کرتے ہیں اور ملک کے خلاف دشمنی کا بیج بو دیتے ہیں۔ جس سے ملک میں بدنظمی اور انتشار پھیل جاتا ہے۔

پاکستان کے جمہوری نظام کی ناکامیوں کی ایک بڑی وجہ طلبا یونینوں پر لگائی جانے والی پابندیاں بھی رہی ہے۔ انہی پابندیوں کی وجہ سے آج تک پاکستان حقیقی لیڈروں سے محروم رہا ہے۔ اگر تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو پاکستان کی ہر فوجی حکومت میں طلبہ سیاسی جماعتیں بحران کا شکار ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ بلوچ طالب علموں کو سیاست سے دور کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے تاکہ بلوچستان میں لوٹ کھسوٹ آسان ہو جائے۔ بدقسمتی سے ان حکمرانوں کو قوم کے ان لیڈروں کا اعتماد حاصل ہے جو بلوچستان میں بلوچوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ ملکی آئین کی پابندی کرے۔ اپنے شہریوں کی زندگیوں اور تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس عید میں اپنے بلوچ ہونے کا فرض نبھائیں۔ جیئند بلوچ اور تمام لاپتہ افراد کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ تاکہ وہ جلد سے جلد بازیاب ہو جائیں اور اپنے پیاروں سے مل سکیں۔ تاکہ ملکی آئین اور قانون پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *