حیدر علی آتش کی آخری آرامگاہ۔۔۔۔شاہد کمال

زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا۔۔۔

آج ۹جون،۹۱۰۲ لکھنؤ کا درجہ حرارت اپنے ریکٹر اسکیل پر 47 ڈگری کی سطح سے مزید تجاوز کرگیا،پورا شہر گویا حشر کے میدان میں تبدیل ہوچکا ہے،ہرشخص کی زبان پربس یہی ایک ورد کہ اففف یہ گرمی لو کا حبس،دم گھٹا جارہا ہے،اس شدید گرمی کے احساس سے مجھے میر انیس علی اللہ مقامہ کے ایک مرثیہ کی بیت کا ایک مصرعہ یاد آگیا۔
“خسخانہ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر”۔۔۔
آج (اتوار) دفتر میں چھٹی ہونے کی وجہ سے ذہنی مصروفیت بھی کچھ خاص نہیں تھی سوائے آرام کے۔میری سیماب صفت طبیعت اپنی تساہلی سے اکثر مزاحم رہتی ہے،جس کی وجہ سے مجھے بوریت کا احساس ستانے لگتا ہے۔ لیکن اچانک دل میں خیال آیا کیوں نہ لکھنؤ میں آسودہ خاک ان شعرا کی آخری قیام گاہ کو ہی چل کر دیکھا جائے جنھیں ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں، اسی پس و پیش کے عالم میں ہم نے لکھنؤ کے ایک ایسے شخص کو تلاش کیا، جو اس مسئلہ میں میری معاونت و رہنمائی کے اہل تھے، جن کا تعلق نوابین اودھ سے ہے، اور آج بھی وہ بہت سی حویلیوں اور محل سراؤں کے آخری نگراں اور سرکاری وثیقہ دار ہیں، یہی سوچ کر میں نے سید عمار حسین رضوی کو فون کیا۔جن کی آبائی رہائش گاہ شیعہ کالج(اکبری گیٹ نخاس) اور ناظم صاحب کے امام باڑے کے درمیان واقع ہے،میں نے کہا آج ہم میر تقی میر کی قبر کو دیکھے  کا ارادہ رکھتے ہیں،انھوں نے وقت مقرر کیا، میں اپنی گاڑی سے مجوزہ وقت کے مطابق جائے ملاقات پر حاضر ہوگیا، عمار بھائی اپنے گھر کے باہر میرے منتظر تھے، میں نے بڑھ کر سلام کیا، جواب سلام کے بعد ، انھوں اپنے کشکول عالم پناہ سے ایک پوالیتھین نکالی جس میں بڑے سلیقے سے تہہ کرکے رکھی ہوئی کتاب میرے حوالے کی، میں نے شکریہ ادا کیا، یہ ان کی محبت ہے کہ جب بھی میری ملاقات عمار بھائی سے ہوتی ہے تب وہ کچھ اہم کتابیں مجھے ضرور دیتے ہیں، چونکہ ان کے پاس نایاب کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے، اور دوسری بات لکھنؤ سے متعلق انھیں بہت سی معلومات بھی ہے چونکہ پرانے لکھنؤ کے تقریبا ً ہر محلے میں ان کی موروثی جائیداد  موجود ہے  ۔خیر ہم دونوں میر تقی میر کی قبر دیکھنے کے لیے چل پڑے، راستے میں انھوں نے اپنی ان خاندانی کوٹھیوں اور محل سراوں کو بھی دکھایا جو اسوقت بہت خراب صورت حال میں ہیں، اور بہت سے لوگوں نے ان ٹوٹی ہوئی حویلیوں میں غیر قانونی طور سے اپنی جھونپڑیاں بنا لی ہیں،اور کچھ لوگ معمولی کرایہ پر رہ رہے ہیں، خیر ہم لوگ میر تقی میر کی قبر دیکھنے کے لیے آغا میر کی ڈیوڑھی اور جبلی کالج ہوتے ہوئے  سٹی اسٹیشن کی طرف چل پڑے ، چھتے والے پل کے ا س پار بائیں ہاتھ پر مونگ پھلی منڈی ہے،اور اس کی دائیں جانب جدید تعمیر شدہ ایک مسجد ہے،پہلے یہ مسجد ایک چھوٹے سے رقبہ پر واقع تھی لیکن آج ایک عالیشان مسجد بن کر تیار ہوگئی  ہے،میں نے اپنے بچپن میں کشادہ آنگن والے مکانات دیکھے ہیں،اور گھر کے سامنے کی چوپال پرمٹی کے چبوترے پر پورے ہندوستان کو بیٹھے ہوئے دیکھ چکا ہوں،لیکن افسوس اب نہ ایسے گھر رہے اور نہ وہ بزرگوں کی چوپالیں،نہ گھر کے کشادہ آنگن میں وہ کھیلتے ہوئے فرشتے۔اب تو مسجد کے وہ صحن بھی محراب کی تحویل میں چلے گئے،جس کے صحن میں اپنے بزرگوں کو صبح کی نماز میں زیر آسمان ہاتھوں کو پھیلا کر دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا تھا،یہ ساری برکتیں ایک ساتھ اب ہمارے درمیان سے اٹھ گئیں۔خیر ہم لوگ مسجد کے صدر دروازے سے مسجد میں داخل ہوگئے ،اسی مسجد کے اندر سے اوپر ٹیلے کی طرف ایک راستہ جاتا تھا،جسے اب ایک دروازہ سے مقفل کردیا گیا ہے،ہم لوگوں نے مسجد کے اندر لگے ہوئے دروازے کو کھول کر  باہر ٹیلے کی طرف دیکھا تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے ، کہ وہ ٹیلہ جو کبھی” تکیہ فلاح” کے نام سے جانا جاتا تھا، اب وہ ایک انتہائی گنجان آبادی میں تبدیل ہوچکا ہے،اس، ٹیلے پر مکانات کی تنگ گلیوں کو دیکھ کر مجھے دم گھٹنے کا احساس ہونے لگا،لیکن ہم لوگوں کو وہاں پر بہت سے مکانات تو دکھے لیکن کسی قبرکا کوئی نام و نشان نظر نہیں آیا،ہم لوگوں نے وہاں کے مکینوں سے میر تقی میر کی قبر کی  بابت دریافت کیا تو کچھ بزرگوں نے کہاں یہاں پر پہلے کچھ قبریں تھیں، لیکن اب اس کے نشانات ختم ہوگئے ، چونکہ لوگوں نے اپنے عالیشان گھر بنوا لیے ہیں، عمار بھائی نے مجھے بتایا کہ میں نے وہ قبر خود دیکھی تھی، جہاں پر میر تقی میر  اور ان کے قبر کی پائنتی ان کی بیٹی کی بھی قبر تھی۔جنھیں توڑ کر لوگوں نے اپنے مکانات تعمیر کرلیے،یہ سن کر مجھے حیرت نہیں ہوئی چونکہ لکھنؤ کے کچھ اہم شعرا کی قبریں بہت سے لوگوں کے ڈرائنگ روم کا حصہ بن چکی ہیں، جس کا تفصیلی ذکر ہم اپنے آئندہ آنے والے مضامین میں کریں گے، یہ دیکھ  کر مجھے بڑی مایوسی ہوئی ہم اپنی منزل کی طرف لوٹنے لگے تو عمار بھائی نے کہا چلو ہم تمہیں خواجہ حیدر علی آتش کی قبر دکھاتے ہیں ہم وہاں سے چوک آگئے ، چوک سے ہردوئی روڈ  پر کچھ دیر چلنے کے بعد تحسین گنج سے پہلے دائیں جانب مالیخاں سرائے  کی ڈھال سے نیچے اتر گئے یہ وہ روڈ ہے جو چوپٹیوں ہوتے ہوئے  رستم نگر درگاہ حضرت عباس کی طرف جاتی ہے، اس روڈ پر ڈھال سے اترنے کے بعد میاں الماس کی مسجد سے چند دکانوں کے فاصلے پر ایک پیپل کا پیڑ دکھائی دیا جس کی زیادہ تر سایہ دار شاخیں مین روڈ پر ہی جھکی ہوئی ہیں،جو اس شدید گرمی میں یہاں سے گزرنے والوں کو  اپنی خنکی کا احساس ضرور دلاتی  ہیں۔اسی احاطہ میں باہر سے ہی ایک املی کا درخت بھی نظر آتا ہے، ہم لوگوں نے خواجہ حیدر علی آتش کی قبر کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا لیکن لوگوں  کو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ خواجہ حیدر علی آتش کس بلا  کانام ہے،ہوسکتا ہے خواجہ حیدر علی آتش کے پڑوسیوں کو ان کی موجودگی کا علم نہ ہو، چونکہ عمار بھائی بچپن سے ان کی قبر کے بارے میں جانتے تھے، لیکن وہ کئی برس بعد آج میرے ساتھ یہاں آئے، مکانات کی جدید کاری اور توسیع سے وہاں کا نقشہ بالکل بدل چکا تھا، اسی پیپل کے پیڑ سے لگی ہوئی دوکان سے متصل ایک لوہے کا دروازہ جو ہرے رنگ سے رنگا ہوا تھا دور سے نظر آیا،جس میں باہر سے سٹکنی لگی ہوئی تھی، جب اس کے بارے میں وہاں پر موجود لوگوں سے دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ یہاں پر ایک بابا کا مزار ہے، ہم لوگ بغیر کسی توقف کے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے ،اندر کافی صاف صفائی تھی، ماربل کا فرش بنا ہوا تھا اسی کے احاطہ میں املی، پیپل اور نیم کا درخت بھی موجود ہے، لیکن لوح مزار پر نگاہ پڑی تو میں چونک اٹھا، چونکہ اس پر خواجہ حیدر علی آتش، کے نام کی تختی نہیں تھی، ان کی جگہ  ” ٹیڑھے پیر والے بابا” لکھا ہوا تھا،یہ بھی میری زندگی کا ایک اہم واقعہ تھا کہ میں نے بہت سے پیر و فقیر دیکھے لیکن”ٹیڑھے پیر بابا”کا مزار پہلی مرتبہ دیکھا ۔ہم نے عمار بھائی سے مزید استفسار کیا تو انہوں  نے اس کی تاریخ بتائی کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں پر خواجہ حیدر علی آتش کا مکان ہوا کرتا تھا اور 1847 میں جب ان کا انتقال ہوا تو انھیں، یہیں دفن کردیا گیا تھا۔ ۔لیکن بدلتے ہوئے زمانے کے لیے اس سے زیادہ اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ، وقت کی سفاک انگلیاں زمین کے چہرے سے انسان کے اس شناخت کو بھی کھرچ کر پھینک دیتی ہیں۔جن کا دائمی نقش لوگوں کے دلوں و دماغ میں محفوظ ہوتا ہے۔یہی کچھ خواجہ حیدر علی آتش کی آخری قیام گاہ کے ساتھ بھی ہوا۔اب ہم اس عظیم شاعر کو کتابوں میں ضرور تلاش کرسکتے ہیں لیکن زمین پر نہیں خواجہ آتش نے  صحیح کہا تھا۔

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *