بیوروکریٹس اور شرفاء کے نام ۔۔۔ سید وصی شاہ

معزر بیوروکریٹس اور نام نہاد شرفاء۔
ناچیز کا مشورہ ہے مانیں یا چئیرمین نیب بنیں آپ کی مرضی، جب آپ 18ویں گریڈ یا اس سے اوپر ہوں تو انسان کے بچے بن کے تسبیح پکڑ لیں اور چند سال پہلے جس مستور کو آپ نے تین بار قبول کیا اسے ہی برداشت کریں۔  پھر بھی اگر الو کا پٹھہ شیطان آپ کو آئے روز اکساتا ورغلاتا ہو یا آپ انکل مجبور بننے پے بہت ہی مجبور ہو جائیں تو اس کا آخری حل یہ نکالیں کہ چند دن چھٹیاں لے کے سیر کے بہانے (باکو) آزربئجان۔ بنکاک، تھائی لینڈ یا (بوراکائی آئلینڈ) فلپائین کا ویزا لگوائیں اور فون کو فلائٹ موڈ پے لگا کے پی آئی اے کی فلائٹ لینے کو ترجیح دیں تا کہ سفر میں برکت ہو اور ہر ناٹیکل مائل اڑان سے وطن عزیز کو فائدہ ہو۔
اگر شریک حیات ڈگری ہولڈر ہو تو سفر کی خواری کا قصور وار مکمل طور پے گورنمنٹ یا کاروبار کو ٹھرائیں، اگر مسیر، پتریر سے ارینج میرج کا چکر ہو تو پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔


ذاتی دوستوں کو زیادہ سر چڑہانے کی ضرورت نہیں کہ پوچھیں خیر تو ہے کیوں جا رہے ہو ویسے بھی ان خبیثوں کو چسکے لینے کی عادت ہوتی ہے۔
سوٹ پہن کر جائیں تا کہ سٹارٹنگ پوائنٹ سے ہی آفیشل ٹور لگے۔  وہاں پہنچ کے جتنا مرضی کھل جائیں بس یہ خیال رکھیں کوئی دیسی غور سے دیکھ تو نہیں رہا یا جہاں کیمرہ دیکھیں اس پے لخ لعنت والا سائن دائیں یا بائیں ہاتھ سے عین چہرے کے سامنے بنا دیں۔
سنگل اور امیر ہونے کی فل ایکٹنگ کریں تا کہ نسوانی حسن اور نگاہوں کے مرکز بن سکیں۔ پیٹ اور بغلی بکرے والی چربی کا مصنف ذمہ دار نہیں۔
اس سفر سے نہ تو آپ کو کسی کرائے کے گھر میں بیڈ، تولیہ صابن رکھنے کی ضرورت ہو گی اور نہ ہی چئیرمین نیب کی طرح سر سے پاؤں تک والے ترلے کرنے پڑیں گے۔
اتنا خرچہ ساتھ لے جائیں کہ آپ کی اصلییت اور بیک گراونڈ مفعول پے عیاں نہ ہو۔
کھل کے سفر کی تھکاوٹ دور کریں اور وہاں رعب جھاڑنے  کی ضرورت نہیں کہ میں فیصلے، چیک یا ٹینڈر سائن کرتا ہوں۔
سم کارڈ اور انٹرنیٹ کو آڈٹ، ابا، سسرال یا سی سی ٹی وی سمجھ کے اپنے آپ سے جتنا ممکن ہو دور رکھیں۔
واپسی پے تمام رشتہ داروں اور ایک آدھے سینئر کے لیے چھوٹے چھوٹے سووینیر ضرور لائیں اس سے شک کی گنجائش ہی پیدا نہیں ہو گی۔
وہاں رہتے ہوئے اپنا نمبر دینے کی بجائے کسی انتہائی ڈھیٹ دوست کا دے کر آئیں تا کہ انٹرنیشنل کال واٹس ایپ یا وڈیو سے آپ کو چئیرمین نیب نہ بننے دے۔
وسلام۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *