حاجی بطوطہ کمبل پوش اور ہم۔۔۔ایم بلال ایم

ایک تھے مشہورِ زمانہ سیاح ابنِ بطوطہ صاحب اور ایک تھے ہندوستانی سیاح جناب یوسف خان کمبل پوش۔ وہی کمبل پوش جنہوں نے 1837-38ء میں کئی ممالک کا سفر کرنے کے بعد اردو کا سب سے پہلا سفرنامہ”تاریخِ یوسفی المعروف عجائباتِ فرنگ“ لکھا تھا۔ بہرحال کئی ایک مایہ ناز سیاح ہو گزرنے کے بعد، اب ذکر ہے ہمارے ”حاجی بطوطہ کمبل پوش“ کا۔ جن سے میری پہلی ملاقات تو اتفاقاً ہوئی لیکن پھر دوستی ہو گئی اور دوستی کی وجہ شاید ان کی سیروسیاحت تھی۔ ویسے وہ مجھ سے دس بارہ ”صدیاں“ بڑے ہیں۔ جس زمانے میں ہماری سیر شہر کے پارک تک ہوتی اور ہم سیاحت جیسے الفاظ سے ہی ناآشنا تھے، بولے تو جب ہم بچے تھے، تب جناب حاجی بطوطہ کمبل پوش کبھی موٹرسائیکل تو کبھی گاڑی پر، پربتوں کے راہی ہوا کرتے۔ اور تو اور سائیکل پر بھی سفر سے باز نہ آتے مگر کوئی لمبا سفر نہ کر سکے اور آج کل بس گھر سے دکان اور دکان سے واپس گھر سائیکل پر آتے جاتے ہیں۔ پچیس تیس سال پہلے جب آج جیسا سیاحت کا رحجان اور معلومات کی آسان دستیابی نہیں تھی، تب بھی حضرت حاجی بطوطہ مختلف نقشہ جات اور معلوماتی کتب کھولے بیٹھے پائے جاتے۔ اور پھر مختلف علاقوں کی سیاحت کو نکل جاتے۔ شوق کا حال یہ تھا: کسی نے بتایا کہ گلگت سے اچھے خیمے مل جاتے ہیں تو جناب اُس زمانے میں خیمے لینے گلگت چلے گئے۔ صرف اپنے لئے خیمہ اور سلیپنگ بیگ نہ لیا بلکہ پانچ سات کی ٹیم کے لئے انتظامات کر چھوڑے۔ تاکہ جب دوسرے لوگ بھی ساتھ ہوں تو ان کا بندوبست بھی ہو سکے۔
حاجی بطوطہ کمبل پوش کے محلے میں مشہور تھا کہ یہ محلے کے لڑکوں کو بگاڑتا اور آوارہ گردی پر لگا دیتا ہے۔ گو کہ میں پہلے سے ہی چھوٹے موٹے سیاحتی سفر کرتا رہتا تھا لیکن حقیقی معنوں میں مجھے بھی حاجی بطوطہ نے ہی آوارہ گرد بنایا۔ مجھ پر لمبی چوڑی سیاحت کا پہلا دروازہ اسی نے کھولا تھا۔ ہوا یوں کہ حاجی بطوطہ سالارِ قافلہ تھا اور ہم چھے لوگ معصوم سی 70سی سی موٹرسائیکلوں پر ڈبل سواری کرتے ہوئے ناران کاغان گئے تھے۔ آج تو ایسا سفر معمولی بات ہے مگر تیرہ سال پہلے میرے لئے بہت بڑی بات تھی اور وہ میرا لمبا چوڑا پہاڑوں کا سفر تھا۔ جوکہ اب تک کا سب سے یادگار اور خوبصورت ترین سفر ہے۔ جس کے لئے حاجی بطوطہ کمبل پوش کا نہایت شکر گزار ہوں۔
بلاشبہ تب بھی بہت سارے لوگ بائیک پر سیاحتی سفر کرتے تھے لیکن پھر بھی آج جیسا ماحول نہیں تھا۔ اوپر سے تب کم از کم میرے حلقہ احباب میں بائیک پر ایسے سفر کو پاگل پن تصور کیا جاتا اور ناران کے سفر کے بعد میرے کزنوں نے مجھے پاگل ہی گردانا۔ خیر کزن تو اب بھی میرے ابوجان کو کہتے ہیں ”چاچو! اس کا نفسیاتی معائنہ کرائیں۔ بھلا کون عقلمند، یوں موٹرسائیکل پر یا پیدل دور دراز خطرناک علاقوں کو نکلتا ہے“۔ بہرحال تب ہم ناران سے آگے بٹہ کنڈی اور اس سے اوپر لالہ زار گئے اور مجھے سیاحت کے جوگ کی دوسری خوراک ملی۔ دراصل جوگ کا آغاز تو اپنے دریائے چناب سے ہوا تھا۔ خیر اس سفر میں لالہ زار کے بعد واپس ناران اور جھیل سیف الملوک گئے۔ آپس کی بات ہے کہ تب موٹرسائیکل ہمیں نہیں لے گئے بلکہ ایک حساب سے ہم موٹرسائیکل اٹھا کر جھیل پر پہنچے تھے اور اک خوبصورت چاندنی رات جھیل کنارے بسر کی۔ جہاں ہم تھے، جھیل تھی، پانیوں پر تیرتی چاندنی اور فضاؤں میں کئی کہانیاں اور کہانیوں کے دوش پر جھیل میں اترتی پریاں۔ جھیل کے بعد ہم شوگراں اور سری پائے گئے۔۔۔ ویسے وہ والا 70سی سی موٹرسائیکل آج بھی میرے پاس ہے۔ صرف اس لئے نہیں بیچا کہ اس سے میری بڑی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں۔ یادیں صرف سیاحت کی ہی نہیں بلکہ آہو۔۔۔
ناران کاغان کے اس سفر کے بعد حاجی بطوطہ کمبل پوش کی سالاری میں کئی ایک چھوٹے چھوٹے سفر ہوئے۔ پھر حاجی بطوطہ نے ہمیں ”پربت کے دامن میں“ لے جانے کے لئے قائل کرنا شروع کیا۔ لیکن تب ہمیں یہ لگتا تھا کہ گلگت بلتستان بہت دور ناجانے کس سیارے پر ہے۔ خیر اس سفر کے واسطے قائل کرنے کے لئے حاجی بطوطہ نے کئی ”پینترے مارے“۔ جیسے کہ اکثر گلگت بلتستان کی اپنی سفری کہانیاں سناتا اور ان پر تارڑ صاحب کی کسی کتاب سے کوئی نہ کوئی ڈائیلاگ بولتا۔ مثلاً۔۔”روڈ ٹو استور از فل آف چکورز۔ نوپرابلم۔۔۔ اور تریشنگ کیا ہے؟ تریشنگ ایک مجبوری ہے۔۔تریشنگ ایک اور فنتوری ہے“۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ہماری جانے بلا کہ استور اور تریشنگ وغیرہ کہاں پر ہیں اور یہ فنتوری کیا بلا ہے۔ البتہ ہمیں یہ سارے الفاظ کافی مسحور کن اور دلربا قسم کے لگتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حاجی بطوطہ ہر دوسرے چوتھے دن ہمارے سامنے اپنے سیاحتی  سفر کے فوٹوالبمز کھول کے بیٹھ جاتا۔ اُن میں ایسے ایسے غضب کے مناظر ہوتے کہ ہم بھی خوبصورت نظارے پہلی دفعہ دیکھنے والوں کی طرح بے اختیار کہتے ”کیا یہ پاکستان ہے؟“۔ بہرحال سونے کے جیسے الفاظ لئے حاجی بطوطہ کی سفری کہانیوں کے اوپر دلکش پربتوں کی تصویروں کا سہاگہ۔۔ اف اللہ۔۔مرتے کیا نہ کرتے۔۔ اور تب جو کیا اچھا ہی کیا۔ اور کیا یہ کہ ایک دن حاجی بطوطہ کے ہمراہ ہم بھی پربتوں کے راہی ہوئے۔۔۔
تب حاجی بطوطہ نے گلگت بلتستان کے۔۔۔ بولے تو پربتوں کے دروازے ہم پر کھولے  اور گاڑی پر ہمیں شاہراہ قراقرم پر تھوڑا لمبا سفر کرایا  اور دیکھایا۔ استور، راما، دیوسائی، تریشنگ اور نانگاپربت کا روپل چہرہ۔ اسی چہرے سے مجھے سیاحت کے جوگ کی اگلی خوراک ملی۔ تصویر میں نانگا پربت(8126میٹر) کا وہی روپل چہرہ ہے کہ جو ہم نے حاجی بطوطہ کی سالاری میں دیکھا۔ یہ چہرہ دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ کیونکہ ہمارے نیلے سیارے زمین پر یہ کسی پہاڑ کا بلند ترین چہرہ ہے۔ جہاں نانگاپربت پہاڑ اپنی بنیاد(بیس) سے 4600میٹر بلند شان سے کھڑا ہے۔ بولے تو جہاں تقریباً ساڑھے چار کلومیٹر کی عمودی چٹان آپ کے سامنے مگر سر پر ہوتی ہے۔ اور یہ نظارہ نانگاپربت کے روپل بیس کیمپ سے دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہی بیس کیمپ جسے بعض لوگ ہیئرلِش کوفر(Herrligkoffer) بیس کیمپ بھی بولتے ہیں۔ حالانکہ جب ہم گئے تھے تو مقامی لوگ اسے روپل یا میسنر بیس کیمپ کے نام سے پکارتے تھے۔ خیر روپل بیس کیمپ سے نانگاپربت کا جو نظارہ ہماری آنکھ نے کیا تھا، یہ تصویر اس منظر کا ایک فیصد بھی حق ادا نہیں کرتی۔ دراصل تب ہم ہلکے پھلکے کیمرے سے صرف یاداشت ہی محفوظ کیا کرتے تھے اور ویسے بھی یہ تصویر بیس کیمپ سے نہیں بلکہ تھوڑی دور سے تب بنائی جب شان سے کھڑے پہاڑ پر میری پہلی نظر پڑی۔۔۔
یوں تو پہاڑوں میں ہلکاپھلکا مٹر گشت پہلے بھی ہوتا رہتا۔ مثلاً اسی سفر میں راما میڈوز سے جھیل راما تک پیدل گئے لیکن تریشنگ سے نانگاپربت کے روپل بیس کیمپ تک تقریباً 11کلومیٹر میری زندگی کا پہلا باقاعدہ پیدل ٹریک تھا۔ صرف ٹریک ہی پہلا نہیں تھا بلکہ میں نے ننگی آنکھ سے آٹھ ہزاری چوٹی بھی پہلی دفعہ اور اتنے قریب سے دیکھی۔ سچ بتاؤں تو وہ ہیبت ناک مگر دلکش نظارہ تھا۔ جس نے مدہوش کر چھوڑا۔ اس نظارے کا کوئی جواب نہیں صاحب۔ اتنے سال گزرنے کے بعد آج بھی میں اس کے سحر میں گرفتار ہوں اور دوبارہ وہاں جانے کی ہمت بھی اسی لئے نہیں کرتا کہ کہیں وہ سحر ٹوٹ نہ جائے۔ میں جانتا ہوں کہ اب ہمیں پہلے کے جیسی مشکلات ہوں گی نہ وہ احساسات۔ کیونکہ اب یہ سب بہت دور لگتا ہے نہ مشکل۔ حالانکہ تب ہم گرتے پڑتے جب بیس کیمپ پر پہنچے تو ایسا لگتا کہ اپنے گھر سے بہت دور پتہ نہیں کس دنیا میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ تو کوئی دوسرا سیارہ معلوم ہووے۔۔۔ خیر حاجی بطوطہ کے پلان کے مطابق ہم نے بیس کیمپ پر کیمپ کرنا تھا، مگر ٹیم کے کچھ اراکین سردی اور موسم کی وجہ سے حوصلہ نہ کر پائے۔ یوں ہمیں واپسی کی راہ لینی پڑی اور شام تک لوئر روپل کے قریب پہنچ کر میسنر ڈسپنسری کے لان میں خیمے گاڑھے اور چاندنی میں چمکتی برفیلی چوٹیوں کے سائے میں رات گزاری۔ حاجی بطوطہ کا یہی کمال تھا: وہ سفر ایسے ترتیب دیتا کہ بھرپور چاند رات سفر کے سب سے اہم مقام پر آئے۔ گویا حاجی بطوطہ مناظر کی اصل خوبصورتی تک پہنچ کر انہیں جذب کرنے کا کمال رکھتا۔ تبھی تو گھنٹوں چپ چاپ کسی منظر کے سامنے بیٹھا رہتا۔ ایک دفعہ کسی نے حاجی بطوطہ سے پوچھا کہ آئے روز پہاڑوں میں کیا لینے جاتے ہو؟ جواب: ”میں اپنا آپریٹنگ سسٹم ریفریش کرنے جاتا ہوں“۔ بولے تو روح تازہ دم کرنے۔
حالات کی وجہ سے حاجی بطوطہ پہلے کی طرح سیاحت جاری تو نہ رکھ سکا، لیکن ہمیں آوارہ گردی کی راہ پر ڈال دیا۔ اس کے بارے میں سچ ہی مشہور تھا کہ یہ لوگوں کو آوارہ گرد بنا دیتا ہے۔ شکریہ محمد سلیم جہلمی بھائی! یقیناً آپ کی وجہ سے اور آپ کے سنگ ہم نے سیاحت کے اہم سنگِ میل عبور کیے۔ بتاتا چلوں کہ میں اسی سلیم جہلمی کو اعزاز دینے کے لئے ”حاجی بطوطہ کمبل پوش“ کہتا ہوں۔ اور وہ عجب ہی درویش صفت بندہ ہے۔ واقعی کمبل پوش(قناعت پسند) ہے۔ کمبل پوش کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے جناب کو چادر اوڑھ کر ٹریک کرتے دیکھا۔ بہرحال دعا ہے کہ سلیم بھائی کو مکمل صحت، لمبی عمر اور بے شمار خوشیاں ملیں۔ قدم قدم پر آسانیاں قدم چومیں۔۔۔آمین ثم آمین

Avatar
ایم بلال ایم
ایم بلال ایم ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو بلاگنگ کی بنیاد رکھی۔ آپ بیک وقت اک آئی ٹی ماہر، فوٹوگرافر، سیاح، کاروباری، کاشتکار، بلاگر اور ویب ماسٹر ہیں۔ آپ کا بنایا ہوا اردو سافٹ وئیر(پاک اردو انسٹالر) اک تحفہ ثابت ہوا۔ مکالمہ کی موجودہ سائیٹ بھی بلال نے بنائی ہے۔ www.mBILALm.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *