ایم کیو ایم کا اندرونی بحران اور ریاست۔۔۔۔ ایمل خٹک

گزشتہ کچھ عرصے سے اور خصوصاً بائیس اگست سال دو ہزار سولہ کو بانی تحریک الطاف حسین کی متنازعہ تقریر کے بعد متحدہ قومی موومنٹ شدید بحران کا شکار ہے اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں اور کارکنوں میں کچھ عرصے سے موجود الطاف حسین کی آمرانہ طرز سیاست اور غیر متوازن بیانات کے حوالے سے بیزاری اور مایوسی کو باھر نکلنے اور اس کی بلا شرکت غیرے قیادت کو چیلنج کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس طرح ایم کیو ایم میں لیڈرشپ کے خلاف اندرون پارٹی موجود غم و غصے کے ابلتے ہوئے لاوے کو باہر نکلنے کا موقع دیا۔ مگر
مشکلات اور آزمائشوں کے ساتھ ساتھ یہ بحران ایم کیو ایم کو خود تنقیدی اور اصلاح احوال کے کئی سنہرے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے۔
الطاف حسین اور اس کے ساتھیوں کو اگر ایک طرف پاک سرزمین پارٹی کی مخالفت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان بھی ان کیلئے مستقل درد سر بنتا جا رہی ہے ۔ بظاہر تو الطاف گروپ کو ایم کیو ایم اوورسیز کے علاوہ اندرون ملک کسی خاص راہنما کی حمایت حاصل نہیں۔ اور ایم کیو ایم اورسیز میں بھی کافی سینئر لوگ جیسے سلیم شہزاد وغیرہ ایم کیو ایم پاکستان کی موقف کی تائید کر رہے ہیں۔ جبکہ بعض راہنما حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔
الطاف حسین کی پریشانی اور بوکھلاہٹ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ ایک ٹیلی فون کال پر کراچی کو جام کرنے والے کی کال اپنے ہی ساتھی اور کارکن سننے کیلئے تیار نہیں۔ اس کے احکامات اور فیصلوں کی مسلسل نفی ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں پارٹی پر گرفت مضبوط کرنے، ناراض راہنماوں اور کارکنوں کو مخالف کیمپ میں جانے سے روکنے کیلئے الطاف گروپ اپنے روایتی طریقے یعنی خوف و ہراس پھیلانا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کام کیلئے اندرون ملک سلیپنگ سیلز کے ساتھ بیرون ملک موجود ٹارگٹ کلرز کو بھی بروئے کار لانے کا امکان ہے۔  مگر اس دفعہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل تیاریوں کے ساتھ موجود ہیں۔ حالیہ اسلحے کی بھاری کھیپ کی برآمدگی اور ٹارگٹ کلرز کی دھڑا دھڑا گرفتاری اس کا بین  ثبوت ہے۔
اب الطاف گروپ ایم کیو ایم پاکستان پر پھر دوبارہ کنٹرول کیلئے اورسیز یونٹس کو موبلائیز کرنے کا سوچ رہی ہے۔  مگر اس میں مشکل یہ ہے کہ ان میں سے اکثر سنگین مقدمات میں مطلوب ہیں اور وطن واپسی پر کئی کارکنوں اور راہنماوں کی گرفتاری  کا خدشہ ہے۔  اور جن کے خلاف مقدمات نہیں وہ ان حالات میں بیرون ملک پر آسائش زندگی چھوڑنے پر تیار نہیں۔  پہلا آپشن تو ایم کیو ایم کو فاروق ستار گروپ کی چنگل سے آزاد کرانا ہے اور اگر وہ ممکن نہ ہو تو نئی جماعت بنانے کا آپشن بھی کھلا ہے۔
ایم کیو ایم کا اندرونی خلفشار کہیں زیادہ سنگین ہےاور ابھی تک الطاف گروپ کو جو زیادہ تر ملک سے باہر ہے، حالات کی سنگینی اور پس پردہ وجوہات کا مکمل ادراک نہیں۔ الطاف حسین کے احکامات سے انکار کی وجہ صرف کارکنوں میں ریاستی جبر یا اقدامات کی وجہ سے خوف و ہراس نہیں بلکہ بانی تحریک کا وہ آمرانہ رویہ بھی ہے جس نے معمولی سے معمولی اختلاف نظر کو بھی برداشت نہیں کیا اور اسے دبانے کے ساتھ ساتھ موقع بے موقع مختلف طریقوں سے ساتھی راہنماوں اور کارکنوں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا کوئی موقع بھی ھاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔
ایک تو ایم کیو ایم وہ پرانی جماعت نہیں رہی ۔ پارٹی کا سیاسی عنصر جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں یرغمال تھا۔ اور جماعتی پالیسی سازی ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آچکی تھی جن کو پاکستان کی اندرونی سیاست کی محرکات اور پیچیدگیوں کا پورا ادراک نہیں تھا۔ لندن سیکرٹیریٹ کو کراچی رابطہ کمیٹی پر فوقیت حاصل تھی ۔
اس میں شک نہیں کہ پاکستانی سیاست میں ایم کیو ایم کا اہم رول رہا ہے۔ پاکستان کی جاگیردارانہ اور موروثی طرز سیاست میں ایک شہری تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی پارٹی کا ظہور اور ملک کی ٹاپ تھری یا فور جماعتوں میں اس کا شمار کوئی معمولی بات نہیں تھی۔  اور یہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ میں ایک بہترین کیس سٹڈی کے طور پر موجود ہے۔  بلا شبہ ایم کیو ایم نے شروع میں اپنی منفرد طرز سیاست کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں کچھ نئے اور مثبت رحجانات شامل کئے اور اس میں بھی شک نہیں کہ بعد میں سیاست میں تشدد کا رحجان جس بری طرح ایم کیو ایم نے متعارف کرایا اس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں کی سرپرستی یا اس کو نظر انداز کرتے کرتے ایم کو ایم کے اندر کئی منظم جرائم پیشہ افراد کے ٹولے وجود میں آگئے جو پہلے پہل وہ یا تو جماعت کے کنٹرول میں تھے اور یا آہستہ آہستہ اپنی من مانی کرنے پر اتر آئے یا خود سر ہوتے گئے ۔
اسٹبلشمنٹ کی گود میں ایم کیو ایم کی متشدد سیاست کو تقویت ملی اور سندھ کے شہری علاقوں خاص کر کراچی میں بلا شرکت غیرے کنٹرول کیلئے منظم جرائم پیشہ گروپ بنائے۔ پارٹی کیلئے چندہ جمع کرنے ، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے اور حتی کہ پھڑکانے کے ساتھ ساتھ ریلیوں ، جلوسوں اور جلوسوں کو کامیاب کرانا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ انتخابات کے وقت پولنگ بوتھ پر قبضہ، بزور بیلٹ بکس بھرنا اور انتخابی دھاندلی کے تمام طریقے بروئے کار لانا بھی ان کے فرائض میں شامل تھا۔ یہ جرائم پیشہ گروہ بعد میں اندرون پارٹی اختلاف رائے دبانے یا بانی تحریک کیلئے چیلنج بننے والے راہنماوں کو ختم کرنے کیلئے بھی استعمال ہوئے۔ داخلی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے والوں میں ایم کیو ایم کے بانی اراکین ڈاکٹر عمران فاروق ، طارق جاوید ، ایس ایم طارق ، خالید بن ولید اور دیگر سینکڑوں راہنما اور کارکن شامل ھیں۔  اپنے متشدد رحجانات کی وجہ سے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ مہاجر حلقے آہستہ آہستہ ایم کیو ایم سے ناراض اور بیگانہ ہوتے گئے۔ مگر ڈر اور خوف کی وجہ سے لوگ اپنی رائے کا کھلم کھلا اظہار کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔
آپریشن کی وجہ سے ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں ماضی کی طرح کئی دفعہ کراچی شہر کو جام کرنے اور افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئ مگر ناکام۔ کیونکہ عسکری مشین کے پرزے یا تو حوالات میں ہیں یا روپوش اور یا ملک سے باہر فرار ہوگئے ہیں ۔ اب الطاف حسین سے لیکر عامر لیاقت حسین تک سب اپنی کھال بچانے کی فکر میں ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے کہ اندرون ملک موجود کارکن اور راہنما بیرون ملک والوں سے زیادہ تناؤ اور دباؤ میں ہیں جبکہ بیرون ملک موجود کارکنوں  اور راہنماوں پر بھی آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ایک سیاسی جماعت ہوتے ہوئے بھی ایم کیو ایم نے سیاست میں قبضہ گیری، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ وغیرہ کے رحجانات کو وسیع پیمانے پر رواج دیا۔ اور اس کی دیکھا دیکھی بعض  دیگر مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے بھی  آہستہ آہستہ اس روش کو اختیار کیا۔  اب صرف ایم کیو ایم ہی نہیں بلکہ دیگرجماعتوں کے کارکنوں کو بھی مجرمانہ تشدد کی لت پڑچکی ہے۔  مگر ابھی تک اس میں متحدہ کا حصہ زیادہ ہے۔ پاکستان رینجرز نے حال ہی میں جاری کردہ جاری کراچی آپریشن کی تین سالہ کاروائیوں کا وائٹ پیپر شائع کیا ہے جس کے مطابق کل 848 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیئے گئے۔ جس میں 645 کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا اور جنہوں نے 5244 افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کیا۔ ایم کیو ایم سے منسوب ٹارگٹ کلرز کل ٹارگٹ کلرز کے 77 فیصدی سے زائد جبکہ وہ 81 فیصدی سے زائد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث تھے ۔
بدقسمتی سے نہ صرف مجرمانہ سرگرمیوں کی سرپرستی سے اس کی سیاسی شہرت اور ساکھ کو بہت نقصان پہنچا ہے ۔ بلکہ اس کے آزمودہ سیاسی کارکن اور راہنما پس منظر میں چلے گئے اور غیر موثر ہوتے گئے جبکہ مجرمانہ پس منظر کے حامل افراد حاوی اور موثر ہوتے گئے۔ نتیجتا ” سیاسی کارکن یا تو آہستہ آہستہ خاموش ہو گئے اور یا ان کی جماعتی سرگرمیوں میں شرکت واجبی سی رہ گئ۔ زیادہ بھتہ جمح کرانے والا ، مخالفین کو ڈرانے دھمکانے حتی کہ پھڑکانے والا معتبر اور سیاسی انداز سیاست کی تبلیغ کرنے والا پس پشت چلاگیا۔ خوف اور دہشت کا ماحول نہ صرف اردگرد ماحول میں بلکہ اندرون پارٹی بھی چھایا رہا۔ کئی صاحب الرائے کارکن اور راہنما اپنی رائے کے اظہار یا پارٹی کی سیاسی موقف کی مخالفت کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس دوران پارٹی کے اندر ناجائز ذرائع سے کمانے والا ایک طاقتور مفاد پرست ٹولہ بھی ابھرا ہے جو پارٹی کی پالیسیوں اور کام پر اثرانداز ہونے لگاہے۔ بہت سی وجوہات کی بناء پر پارٹی قیادت اپنے جائز آمدن سے زیادہ جائیداد اور بنک بیلنس بنانے والے اس طبقے کی بدعنوانیوں اور ناجائز زرائع سے دولتمند بنے کے عمل کو نظرانداز کرتی رہی۔ اس سلسلے میں کئی راہنماوں پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں قائم ایم کیو ایم پاکستان اور لندن سیکریٹریٹ کے بیچ دوریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے مائنس الطاف فارمولہ اپنا لیا ہے جبکہ لندن رابطہ کمیٹی مائنس ون فارمولے کو مسترد کرتی ہے۔ الطاف حسین ایم کیو ایم پاکستان کی حالیہ اقدامات سے پریشان اور مضطرب ہے۔ اب لندن سیکریٹریٹ پارٹی پر دوبارہ گرفت مضبوط کرنے اور فاروق ستار گروپ کو بے اثر کرنے کیلئے سوچ وبچار کر رہی ہے ۔ ابھی تک تو ان کی تمام کوششیں غیر موثر ثابت ہو رہی ہیں ۔
لندن قیادت کا ایک مسلہ پاکستان سے پارٹی فنڈز کی ترسیل میں مسلسل کمی ہے ۔ گزشتہ دو سالوں میں پاکستان سے بھیجی جانے والی رقوم کا حجم کافی حد تک کم ہوگیا ہے۔ اب جائز اور ناجائز طریقوں سے فنڈز جمح کرنے والی مشین یعنی کارکن جاری آپریشن کی وجہ سے تتر بتر ہوگئے ھیں۔ اور نہ اب فنڈز جمع کرنے کے پہلے جیسے طریقے استعمال کرنا ممکن ہے۔ جیسا کہ امسال بقر عید پر دیکھنے میں آیا کہ قربانی کی کھالوں کی آمدن جو کڑوروں میں بنتی تھی اس سال نہ تو جمع ہوسکی اور نہ لندن بھیجی جاسکی۔
 اسٹبلشمنٹ الطاف حسین کو کسی صورت رعایت دینے کیلئے تیار نہیں اور ایم کیو ایم کی عسکری ونگ کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع نہ دینے اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم اب پرانے انداز سے چل نہیں سکتی اور اسے اپنی بقا اور موجود گی کیلئے اپنے انداز سیاست میں بنیادی تبدیلی لانی ہوگی۔ اور تشدد کی سیاست کو خیرباد اور دہشت گرد عناصر سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا ۔  اب بہت ساری چیزیں ایکسپوز ہوچکی ہیں۔ طریقہ واردات ، وجوہات اور کردار سب کچھ اب راز نہیں رہا۔
قیام پاکستان کے فورا بعد مہاجر اشرافیہ ملک کی سیاسی ، سماجی اور معاشی میدان میں چھائی رہی ۔ سول اور ملٹری بیورکریسی میں بھی ان کو بالادستی حاصل تھی۔ اور مہاجر مڈل کلاس ملک کی سیاسی، جمہوری اور روشن خیالی کی تحریکوں میں نہ صرف بھرپور حصہ لیتی رہی بلکہ ہراول دستوں میں شامل رہی۔ مگر ساٹھ اور ستر کی دہائی سے مہاجر اشرافیہ کمزور ہوتی گئی اور پنجابی اشرافیہ آھستہ آھستہ ابھرنے لگی اور سیاست اور معشیت پر چھانے لگی ۔ اس طرح کسی حد تک پشتون اشرافیہ بھی ابھرنے لگی اور آہستہ آہستہ ان کا وجود بھی محسوس ہونے لگا۔ تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے اور اپنی بقا کیلئے اس نے ابھرتے ہوئی پنجابی اشرافیہ کا ساتھ دیا۔
تعلیم کی فراوانی اور سندھ کی مقامی آبادی کو ملازمتوں میں کوٹہ محتص ہونے کی وجہ سے سندھ میں خاص کر شہری علاقوں میں ملازمتوں کیلئے مقابلہ بڑا۔ روزگار کی تلاش میں اندرون ملک معاشی مہاجرت کی وجہ سے بہت سے تعلیم یافتہ اور ناخواندہ افراد سندھ کے شہروں خاص کر کراچی میں آباد ہوئے ۔ اس طرح کراچی کے وسائل پر نہ صرف بوجھ بڑا بلکہ مختلف لسانی گروپوں میں مقابلے کی کیفیت پیدا ہوئی۔ مہاجروں میں موجود احساس محرومی اور بیگانگی ذات سے ایم کیو ایم نے فائدہ اٹھایا۔ اور ایم کیو ایم مہاجر قوم کی حقوق کی ترجمان بن گئی۔
اسٹبلشمنٹ میں موجود مہاجر عنصر میں ایم کیو ایم کیلئے کسی نہ کسی شکل میں ہمدردی کے جذبات موجود رہے ۔ اور اسی تعلق کی وجہ سے نہ تو فوجی آمر جنرل ضیاء الحق یا بعد میں جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم پر دست شفقت رکھنے میں کوئی عار محسوس کی اور نہ ایم کیو ایم کو ان کے جائز اور ناجائز کام بجا لانے کیلئے اپنے کندھے فراہم کرنے میں کوئی جھجک محسوس ہوئی۔  جہاں تک سیاسی حکومتوں کا تعلق ہے تو انہوں نے بھی سیاسی مصلحتوں اور اسٹبلشمنٹ کی دباؤ پر ایم کیو ایم کی من مانی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دوران ملازمت جنرل اسلم بیگ نے بھی  پی پی پی کی حکومت سازی کیلئے ایم کیو ایم کو ڈیلیور کیاتھا۔
اگر ایک طرف فوجی آمروں نے ایم کیو ایم کو اپنی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے استعمال کیا اور ان کی ہر ممکن سپورٹ کی تو دوسری طرف ماسوائے بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے سیاسی حکومتوں نے بھی ایم کیو ایم کے متشدد رحجانات پر عمومی طور پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔  کراچی کی مخصوص صورتحال اور اہمیت کی وجہ سے بعض عالمی اور علاقائی طاقتوں نے بھی ایم کیو ایم سے نباہ رکھی۔ اور بعض قوتیں ابھی تک اس کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔
الطاف حسین کے ملک اور مقتدر شخصیات یا اداروں کے خلاف بیانات یا ان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ مگر وہ ابھی جا کر اسٹبلشمنٹ کو تشویشناک اور خطرناک لگنے لگے ہیں۔  پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی مرکز کراچی میں بدامنی اب ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے۔ مغربی ممالک خاص کر امریکہ کی جانب سے اقتصادی اور فوجی امداد میں کمی اور سخت شرائط لگنے کے بعد اب متبادل ذرائع کی تلاش اہم ترجیح بن گئی ہے ۔ اب مضبوط ملکی معیشت کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ ملک کی اقتصادی ترقی اور استحکام کیلئے کراچی میں امن بہت ضروری ہے۔ اقتصادی بدحالی کے اثرات اب اسٹبلشمنٹ کی بجٹ اور دہلیز تک پہنچ گئیں ہیں۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کیلئے پرامن اور سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے ملک میں بدامنی اور دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اتنی بڑی سرمایہ کاری پرامن ماحول میں ممکن ہے ۔ سی پیک کیلئے پرامن اور سازگار ماحول بنانا چین کی اولین ترین شرائط میں شامل ہے۔
ایک سیاسی جماعت کے طور پر ایم کیو ایم سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اس کے سیاسی وجود کے کوئی بھی سیاسی اور جمہوری ذہن رکھنے والا پاکستانی خلاف نہیں ۔  متحدہ کی سیاسی خدمات سے انکار نہیں مگر یہ الگ بات ہے کہ اس کی سیاست کو پارٹی میں موجود متشدد رحجانات کی وجہ سے گرہن لگ گیا تھا۔ اس کی جو مخالفت ہو رہی ہے یا موجود ہے وہ صرف اس کے متشدد رحجانات کی وجہ سے ہو رہی ہے۔ حتی کہ اس طرزعمل کی وجہ سے اور تو اور سنجیدہ مہاجر حلقوں میں بھی ناپسندیدگی پائی جاتی ہے۔
ایم کیو ایم ایک سیاسی حقیقت ہے لیکن اب اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر خالصتا” سیاسی انداز فکر اور سیاسی طور طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت بیشک متحدہ کے جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹے مگر اس کے سیاسی عنصر کو دیوار سے لگانےکی بجائے اسے مثبت رول ادا کرنے کا موقع دیں۔  ان سے مذاکرات کرنے چائیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ جرائم پیشہ افراد سے پیچھا چھڑا کے پارٹی کی سیاسی ساکھ اور شہرت کو بحال کرنے کی کوشش کرے۔ امید ہے کہ ایم کیو ایم خود تنقیدی اور اصلاح احوال کی یہ فرصت اور نادر موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ایم کیو ایم کا اندرونی بحران اور ریاست۔۔۔۔ ایمل خٹک

  1. A good write up. I would add another aspect of Political scenario of Sindh and ever increasing divide of Rural – Urban political thoughts. It is now an established fact that masses of urban area are now thinking that they are the milking part of the Sindh whereas Sindh’s Wadera Class disguising in the political elite section on the basis of poor rural majority are eating / looting all resources of their Taxes. Further, anyone can see that from last 8 years, there is no governmental share given to urban representatives rather bitter truth is that from last 3 years, there is no provincial minister from Urdu speaking section or even from urban area. Without addressing these problems, if one can see any major change in Sindh politics, I have doubt for his / her sincerity. Only expecting from MQM to change is not the problem solving attitude.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *