ارتقا ۔ کاپی کی پرفیکشن ۔ زندگی (ٰ19) ۔۔وہاراامباکر

ایک ۔ جاندار اشیاء اپنے جینوم کی کاپی بنا سکتی ہیں۔
دو ۔ کاپی کا یہ عمل حیران کن طور پر ایکوریٹ ہے۔ بہترین مصنوعی پراسس بھی اتنی کم غلطیوں کے ساتھ یہ کام نہیں کر سکتا۔
تین ۔ کاپی کا یہ عمل مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں۔ کبھی کبھار غلطی چھوڑ دیتا ہے۔

زمین پر زندگی کا شجر ایک مشترک جد سے پھوٹا ہے۔ مینڈک ہو یا آم کا درخت، فنگس یا انسان، وہیل یا ڈائنوسار، گھاس یا طوطا ۔۔۔۔ یہ ان گنت انواع اور زندگی کے یہ سب رنگ ۔۔۔ یہ سب کچھ ممکن ہونے کی وجہ یہ تین فیکٹ ہیں۔

ایک خلیہ ماحولیاتی اثرات سے ضرر اکٹھا کرتا ہے۔ کبھی کاسمک شعاعیں، کبھی کوئی کیمیکل۔ پھر کچھ مدت بعد اپنی نئی اور تازہ کاپی بنا لیتا ہے۔ ایک جاندار کبھی زخم کھاتا ہے، کبھی بیمار ہوتا ہے لیکن پھر ہر نوع کی ہر نسل اپنے میں سے بہترین کو پیکج کرتی ہے اور اس سے نئی، تازہ اور بہتر نسل تخلیق پاتی ہے۔ اس کے بغیر یہ تسلسل قائم نہ رہتا۔
اگر کاپی کا یہ عمل اس قدر پرفیکٹ نہ ہوتا تو فارم برقرار نہ رہ پاتی۔
اور اگر ہونے والی وہ کبھی کبھار کی غلطی نہ ہوتی تو ارتقا ممکن نہ ہوتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کائنات ایکویلبرئم کی متلاشی ہے۔ اپنی توانائی بکھیرتی ہے، تنظیم کو توڑتی ہے، کیاوس بڑھاتی ہے۔ زندگی ان قوتوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ جاندار ری ایکشن سست کرتے ہیں۔ مادے کو تنظیم دیتے ہیں۔ کیمیکلز کو خلیوں کی شکل میں خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ روز صبح دانت صاف کرتے ہیں۔ فزکس کے قوانین سے فرار کسی کو نہیں لیکن یہ کسی ماہر وکیل کی طرح ان قوانین میں سے بین السطور پڑھ کر اپنے ہونے کا عذر تراشتی ہے۔ کائنات کے کیاوس بڑھانے کی قوتوں سے ماورا نہیں لیکن ان کے آگے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے۔ زندگی، موت اور ارتقا کا یہ چکر نہ ہوتا تو زندگی تھرموڈائنامکس کی قوتوں سے شکست کھا جاتی۔ اپنے کوڈ کی کاپی، کاپی میں غیرمعمولی پرفیکشن اور ساتھ کبھی کبھار کی غلطی۔۔۔ یہ سب تھرموڈائنامکس کے طوفان میں زندگی کی شمع جلائے رکھنے کے حربے ہیں۔

کاپی میں غلطی کا ریٹ عام طور پر ایک ارب میں ایک سے بھی کم ہے۔ یہ کس قدر غیرمعمولی ہے؟ تصور کریں کہ ایک لائبریری میں ایک ہزار کتابیں پڑی ہیں اور تصور کریں کہ آپ کو کہا جائے کہ ان سب کو کاپی کریں۔ تمام حروف، نقطے، اعراب ٹھیک ٹھیک کاپی کرنے ہیں۔ آپ کتنی غلطیاں کریں گے؟ یہ کام پرنٹنگ پریس کے ایجاد ہونے سے پہلے قرونِ وسطیٰ میں کتابیں لکھنے والے کیا کرتے تھے۔ اور ہمیں اس وقت کی کتابوں میں جگہ جگہ غلطیاں نظر آتی ہیں۔ (ایسا تجربہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ اس پوسٹ کو حرف بحرف کاپی کریں اور بعد میں چیک کریں کہ کتنی زیادہ غلطیاں کیں)۔ اب تصور کریں کہ ہم کسی واضح رسم الخط میں لکھی تحریر کو قلم سے کاپی نہیں کر رہے۔ کاپی کی یہ مشین گیلے اور چپچپے مادے سے بنی ہے۔ اس سے انفارمیشن پڑھنے اور لکھنے میں کتنی غلطیاں ہوں گی؟ اور یہ وہ کام ہے جو ڈی این اے کی کاپی میں چیلنج ہے اور یہ بہت ہی زیادہ ایکوریسی سے اربوں سال سے ہوتا آ رہا ہے۔

ہائی فائی ایکوریسی زندگی کی لئے انتہائی ضروری ہے۔ سادہ ترین جاندار شے بھی انتہائی پیچیدہ ہے اور پیچیدہ اشیاء کی غیرمعمولی پیچیدگی کے لئے اتنی ہی پیچیدہ ہدایات کے سیٹ کی ضرورت ہے جس میں چھوٹی سیْ غلطی بھی مہلک ہو سکتی ہے۔ اگر میوٹیشن زیادہ ہو جائیں تو مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ جب خلیے تقسیم ہوتے ہیں، خواہ خون کے ہوں یا جلد کے، تو اپنی کاپیوں میں اس ڈی این اے کو عین اسی طرح کاپی کرنا ہوتا ہے۔ اس میں غلطی کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

ڈی این اے کے سٹرکچر کی دریافت 1953 میں ہوئی۔ یہ چکر کھاتی سیڑھی جیسا سٹرکچر آج سائنس میں بنائی جانے والی مشہور ترین تصویروں میں سے ہے۔ اس سیڑھی کی دونوں اطراف ایک دوسرے کا معکوس ہیں اور درمیاں میں کمزور کیمیائی بانڈ سے جڑی ہوئی ہیں جو ہائیڈروجن بانڈ ہے۔ خلیاتی تقسیم کے وقت ان کو ایک انزائم ۔۔ ڈی این اے پولیمریز ۔۔ کاٹ کر الگ کرتی ہے۔ تقسیم ہونے کے بعد بننے والے دونوں خلیوں میں ان میں سے ایک ایک زنجیر داخل ہو جاتی ہے اور پھر ہر نیوکلیوٹائیڈ کے ساتھ اس کا معکوس (کمپلی منٹری) نیوکلیوٹائیڈ جڑ جاتا ہے اور واپس دونوں خلیوں میں دہری چکر دار سیڑھی کا سٹرکچر مکمل ہو جاتا ہے۔

اور یوں زندگی آگے بڑھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈی این اے کی کاپی نیوکلئیس کی تجوری میں محفوظ رہتی ہے تا کہ اس کو ماحول سے ضرر نہ پہنچے۔ لیکن اس کا فائدہ نہ ہو اگر اس کو پڑھ کر ہدایات نہ لی جا سکیں۔ اور یہ کام ایک اور انزائم کرتی ہے جو آر این اے پولیمریز ہے۔ یہ اس زنجیر پر کوڈنگ پروٹون کی پوزیشن پڑھتی ہے۔ جیسے کسی کتاب سے کہانی کے معنی حروف کے صفحے پر ٹھیک پوزیشن سے آتے ہیں، ویسے ہی پروٹون کی اس زنجیر پر پوزیشن زندگی کی کہانی ہے۔

سویڈن کے فزسٹ پر اولوف لوڈن پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے نشاندہی کی کہ پروٹون کی پوزیشن کلاسیکل نہیں بلکہ کوانٹم قوانین سے سمجھی جا سکتی ہے۔ جینیاتی کوڈ، جو زندگی ممکن بناتا ہے، ایک کوانٹم کوڈ ہے۔ شروڈنگر کا خیال غلط نہیں تھا۔ جین کوانٹم حروف میں لکھی ہیں۔ میری ناک کی شکل، آنکھ کا رنگ اور کردار کی خاصیتیں ۔۔ کوانٹم قوانین کے باعث ہیں جو اس ایک مالیکیول میں آپریٹ کرتے ہیں جسے میں نے اپنے والدین سے وراثت میں لیا تھا۔ اور جیسا شروڈنگر نے پیشگوئی کی تھی، زندگی اپنے سٹرکچر میں آخری تہہ تک ترتیب ہے۔ سٹرکچر اور جاندار کا رویہ، پروٹون کی پوزیشن۔ آرڈر سے نکلنے والا آرڈر ہے۔

وراثت کی پرفیکشن اسی کوانٹم کوڈ کی وجہ سے برقرار رہے۔ لیکن کوانٹم کاپی بنانے والی بھی کبھی کبھار غلطی ہو جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر جیناتی کاپی کا پرفیکٹ عمل کبھی کبھار کی غلطی نہ کرتا تو ارتقا نہ ہوتا۔ ایک جرثومے سے صرف ویسا ہی جرثومہ پیدا ہوتا۔ اور یہ پرفیکشن کی ٹریجڈی ہوتی۔ اربوں سال سے زندگی پر قسم قسم کے مصائب آئے۔ بڑے آتش فشاں پھٹے، بڑے شہابیے ٹکرائے، برفانی دور آئے۔ اگر کاپی کرنے میں غلطی کا طریقہ نہ ہوتا تو زندگی بچ ہی نہیں پاتی۔ اس چھوٹی سی غلطی نے زندگی کو ان سب سے بچ نکلنے کی اہلیت دی ہے۔ اور یہی آج زندگی کے ہر رنگ کا سبب ہے۔ ہر غلطی زندگی کے لئے ایک چھوٹا تجربہ ہے اور چھوٹے تجربے بڑے وقت میں بڑے نتائج کا سبب بنتے ہیں۔

شروڈنگر نے اپنی کتاب میں قیاس آرائی کی تھی کہ میوٹیشن کوانٹم چھلانگ ہے۔ کیا اس خیال کی کوئی تُک ہے؟ اس سوال کا جواب ہمیں ارتقا کی بحث کے ایک مرکزی تنازع پر لے جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *