ریاست اور منظور پشتین۔۔۔۔حسنین اشرف

اکہتر کے بعد سے، بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے عوام کو ایک شکایت ہمیشہ رہی کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان اقتدار کی زینت نہیں بن رہا۔ اس بات میں بہرحال سچائی موجود تھی کیونکہ پے در پے، عوامی حکومتوں کو گھر بھیج دیا جاتا۔ خواجہ محمد ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کے اتارے جانے کے بعد سے ہی بنگالی قوم خائف تھی اور ایوب کے ایوان اقتدار پر قدم جما لینے کے بعد، بنگالیوں کو جو کچھ تھوڑی بہت امید تھی۔ وہ بھی جاتی رہی اور پھر تاریخ کے پنوں نے نہ صرف سقوط ڈھاکہ محفوظ کرلیا بلکہ اور بہت سے شرمناک حقائق بھی قرطاس کے سپرد کردئیے۔ جن میں سے اکثر مطالعہ پاکستان کی زینت نہ بن سکے۔
تمام مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ اکہتر میں، مرکز کی طرف سے معاملات کے حل کی جانب کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ آخری وقت میں مجیب کی دعوت پر یحییٰ خان کی مشرقی پاکستان روانگی اور وہاں اسمبلی کے پہلے اجلاس کی خبر نشر کی گئی۔ ڈھاکہ نے تیاری مکمل کی اور عین وقت پر صدر صاحب کا  دورہ منسوخ ہوگیا۔ یاد رہے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے مطالبات کو سنجیدہ لینے کا یہ آخری جمہوری موقع تھا، جو گنوا دیا گیا۔
اس کے برعکس جو رویہ اپنایا گیا اس کا نقصان ہمارے سامنے ہے۔ اگرتلہ سازش میں لوگوں کو پکڑا گیا، ماورائے عدالت لوگ اٹھا لیے گئے اور کئی جگہ پر چادر چاردیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا اور غدار وطن کے تمغے دئیے گئے۔ جس سے عوام اور مرکز میں دوری واضح ہوتی چلی گئی۔
میں اگر یہ کہوں کہ تاریخ دہرائی جا رہی ہے تو شاید بیوقوفی سمجھی جائے۔ لیکن ریاست ایک بار پھر اپنے بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنا رہی ہے۔ پشتون تحفظ کی آواز بن کر اٹھنے والے چند لوگ مطالبات لے کر اٹھے تھے۔ ان مطالبات کو ابھی تک سنجیدہ لینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بلکہ یحییٰ خان کی طرح یہ کہا جا رہا ہے کہ میں ڈھاکہ جاوں، مجیب کو بلاؤں گا اور اس کے کان کھینچوں گا۔
منظور پشتین اگر غیر ملکی امداد اور ایجنڈے پر کام کر رہا ہے تو وہ ابھی تک بے نقاب کیوں نہیں ہوسکا؟ اس کے مطالبات اگر جھوٹ ہیں تو ریاست گنگ، تماشہ کیوں دیکھ رہی ہے؟ ہر دو صورت میں، ذمہ داری ریاست پر آن پڑتی ہے۔ اور اپنی ذمہ داری نبھانے کی بجائے غدار کا لقب دینے والی ریاست کیا ایک ناکام ریاست نہیں ہے؟ یہ اگر غدار ہیں تو عدالت تک نہ لیجا سکنے والی ریاست ناکام ہے اور اگر مطالبات جائز ہیں تو مطالبات کی بجائے کردار کشی کرنے والی ریاست بھی ناکام ریاست ہے۔ اور اس سب میں خاموش جمہوری حکومت، معاملات کے بگاڑ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اور اگر کوئی سازش کر رہا ہے یا اس سازش کا شکار ہو رہا ہے تو اس سازش کو بے نقاب نہ کرنے والی ریاست بھی ناکام ریاست ہے۔
منظور نے چند مطالبات کیے تھے۔ کیا کوئی ٹروتھ اینڈ ریکنسلی ایشن کمیشن بنایا گیا؟ کیا راؤ  انوار کو پکڑا گیا؟ کیا مسنگ پرسن کے اعداد و شمار سامنے لائے گئے؟کیا مسنگ پرسن پر عدالتوں میں مقدمات کئے گئے؟
اگر ایسا ہوا ہے تو بیٹھیے، منظور کو غدار کہتے ہیں۔ ورنہ خیال کیجیے، پنجاب بنگالیوں کے ساتھ ظلم کرچکا ہے، اگر وہ تاریخ دہرا رہے ہیں۔ خدارا آپ مت دہرائیے!

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *