بے آواز گلی کوچوں سے ۔۔۔ ہڑبونگ/محمد منیب خان

میرے چار سو ہجوم ہے۔ بے ہنگم، بکریوں کے ریوڑ کی طرح کبھی کوئی ایک طرف منہ کرتا کبھی دوسری طرف۔ ہجوم کے لوگ ایک دوسری پر چیخ رہے ہیں، چنگھاڑ رہے ہیں۔ سب ایک دوسرے  کو اپنی بات سنا رہے ہیں اور درحقیقت کوئی بھی کسی کی بات نہیں سن رہا۔حضرت واصف علی واصف رح نے کہا تھا کہ “سننے والے کان بولنے والے کو زبان عطا کر دیتے ہیں”۔ لیکن یہاں تو زبانیں ہی زبانیں ہیں۔ زبانوں کا ہجوم ہے۔ ان زبان والوں کے کان بند ہو چکے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے سننا چھوڑ دیا ہے۔ جس عضو کا استعمال ترک کردیں وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا ارتقا شدہ انسان ہے جس کے کان معصومیت کے خدشے سے دو چار ہیں۔ لیکن اتنی بھی پرانی بات نہیں دس پندرہ سال پہلے لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے تھے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اختلاف ہوتے ہوئے بھی کم از کم برداشت کرتے تھے۔ اسی سننے سنانے کے ذوق نے میرے شہر لاہور کو کیا کیا محفلیں نصیب کروائی ہیں۔اب کوئی کسی کی نہیں سن رہا۔ اس شور میں جہاں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی وہاں میں کوشش کرنے لگا کہ چلو میں اکیلا ہی سہی لیکن سننے کی کوشش کروں کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں یہ کون سے حق پر ایسے ڈٹ چکے ہیں کہ جہاں سے ان کو ہر مخالف ہیچ ہی محسوس ہو رہا ہے۔

میں نے ایک گروہ کے شور وغوغا پر کان دھرا تو وہ سیاست کی “بساط” پر اپنی بساط سے بڑی باتیں کر رہے تھے۔ وہ ان دیکھی باتوں کا آنکھوں دیکھا حال سنا رہے تھے۔ وہ دیوانہ وار نعرے لگا رہے تھے۔ وہ جھوم رہے تھے گا رہے تھے ان کا خیال تھا کہ انہی کا لیڈر سب سے پوتر ہے اور وہی اس قوم کا مسیحا ہے۔ عین ممکن ہے ان کی بات ٹھیک ہو۔ لیکن یہ بھی ممکنات میں ہے کہ وہ غلط ہو جائیں۔ لیکن وہ خود کو غلط ماننے کا تصور ہی نہیں کر پا رہے تھے۔ اس گروہ کے لوگ ایک دوسرے  پر کیچڑ اچھال رہے تھے اور خاندانوں کی عزت و تکریم کی دھجیاں اڑا رہے تھے ان کے نزدیک صرف وہی قابل عزت و احترام ہیں جن کا تعلق ان کی مخصوص سیاسی فکر سے ہے باقیوں سے وہ سوچ، فہم اور خیال کے اختلاف کا ہر حق چھیننا چاہتے تھے۔ مجھے جلد ہی محسوس ہواُ کہ مجھے اس گروپ کی باتیں نہیں سننی چاہئیں ۔ اور شاید اسی لیے وہ بھی ایک دوسرے کی سننے کو تیار نہیں تھے۔
کچھ آگے نکلا تو ایک اور گروہ کو دیکھا۔ سیاست بیزار گروہ تھا تجسس ہوا کہ گو یہ لوگ سیاست بیزار ہیں لیکن پھر بھی کیوں ایک دوسری کی بات سننے کو تیار نہیں یہ کس قبیل کے لوگ ہیں۔ میں نے سوشل میڈیا کے ارتقاء سے معدوم ہوتے کانوں کو اس گروہ کی گفتگو سننے پر لگایا۔ وہ لوگ مذہب اسلام اور فقہ پر بحث کر رہے تھے۔ یہ بحث ایسی بحث تھی جس میں سب لوگ دوسرے کی بات تھوڑی بہت سننے کی کوشش کرتے تھے لیکن صرف رد کرنے کے لیے۔ ان کے نزدیک ان کے پیشوا کی بات ہی سب سے افضل ہے۔ کئی ایک گروہ تو باقاعدہ اپنے مسلک کے پیشوا کی بات کو قرآن پر بھی ترجیح دیتے محسوس ہوئے۔ اس گروہ کی عجیب بات یہ تھی کہ اس میں کوئی نئی بات کرنے والا فوراً کافر قرارا دے دیا جاتا تھا کیونکہ اس گروہ کا اس بات پر اتفاق ہو چکا تھا کہ اب کا انسان جس ذہنی استعداد کا حامل ہے وہ قرآن و حدیث سے نئی جہت تلاش کرنے کے قابل نہیں۔ اس لیے محض سنے بنا بحث اسی سے ہو سکتی کے جو پہلے سے موجود فقہ پر بحث کرے۔ مجھے اس گروہ کی باتیں سن کر بے چینی ہوئی کہ جب قرآن خود غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تو میں کیونکر  اس سے نئے در وا نہ کروں۔
اسی بے چینی کے عالم میں میں آگے چل پڑا۔ایک عجیب و غریب گروہ سے سامنا ہوا یہ خود ساختہ دانشوروں کا گروہ تھا۔ اس گروہ کا خیال تھا کہ وہ جون ایلیا کو پڑھے بنا ان کے خیالات و افکار پر سیر حاصل بحث کر سکتا ہے۔ یہ گروہ سیاست کی ابجد کو جانے بنا ملکی سیاست کے اوپر اپنی ماہرانہ رائے دے سکتا ہے۔ یہ گروہ حافظ، فردوسی اور اقبال کو پڑھے بنا ان کی عظمت بیان کر سکتا ہے۔ یہ گروہ کھیل سے لے کر فلم تک اورتاریخ سے لے کر ثقافت تک کے موضوعات پر اپنی ماہرانہ رائے قائم کر کے عوام کی راہنمائی کا فریضہ انجام دے سکتا ہے۔ یہ صادقین کے تجریدی فن پاروں پہ تنقیدی نکتہ نظر پیش کر سکتا ہے۔ یہ یکے بعد دیگرے تنقیدی نشت برائے نظم، تنقیدی نشت برائے غزل، تنقیدی نشست برائے ناول و افسانہ وغیرہ کے محافل میں بیش قیمت آراء سے نواز سکتا ہے۔ اس گروہ کے لوگ بھی قطعاً کسی دوسرے کی بات سن کر بھی نہیں سن رہے اور اپنے تجزیے اور علم کو حتمی مان رہے ہیں۔ دراصل اس دانشور گروہ کا بظاہر کانوں سے محروم ہونا پوری قوم کا المیہ ہے۔
آگے ایک گروہ تھا دنیا و مافیہا سے انجان بس اپنے موبائل سکرینوں میں غرق۔ یہ گروہ کم بولتا اور کم سنتا ہے۔ یہ گروہِ انسانی موبائل سکرینوں پر  نظریں گاڑے ہوئے ہنستا، کانوں میں ہیڈ فون لگا کر اپنے حال میں مگن پایا گیا ہے۔ ہیڈ فون کی موجودگی سے یہ تو ثابت ہوا کہ اس گروہ کے کان ابھی تک معدوم نہیں ہوئے لیکن یہ گروہ کانوں کے محدود استعمال کا قائل ہے، صرف مطلب کی بات سنتا ہے۔ باقی ان سنی کر دیتا ہے۔
اس سب کے بعد میں اور گروہوں کی باتیں سننا چاہتا تھا لیکن میری اپنی قوت سماعت میرا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ میں نے خود کو ٹٹولا، اپنا محاسبہ کیا میں خود کس مقام پر کھڑا ہوں؟ میں کس گروہ کا حصہ ہوں؟ مجھے احساس ہوا میں بذات خود کچھ نہ کچھ ان سب گروہوں کا حصہ ہوں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ میری قوت سماعت ابھی کسی حد تک باقی ہے۔ لیکن لوگ مجھے اپنی قطعیت سنا کر مکمل بہرا کرنا چاہتے ہیں۔ میری آواز کو دبانا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی سوچ اور فکر ہر دوسرے انسان کی طرح مجھ پر بھی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ جون ایلیا نے لکھا تھا “تم ایسی کون سی بات کہنا چاہتے ہو جسے سن کر میں گونگا ہو جاؤں” دوستو میرا بھی سوال یہی ہے۔ آپ سب ایسی کون سی بات کہنا چاہ رہے ہیں کہ جس سے پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی آپ کے ہمنوا ہو جائے؟ کون ہے آپ میں سے پیغمبر کہ جس پر ایمان لائے بنا مجھے جنت نہیں ملے گی۔ مجھے اپنے کان بھی عزیز ہیں اور زباں بھی۔ لیکن مجھے کسی کی زباں درازی عزیز نہیں۔ دوسروں کو گونگا مت کرو ورنہ وہ بہرے ہو جائیں گے اور سماعت سے محروم لوگ آہستہ آہستہ زبان خود ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ مرض کا حصہ بھی ہے اور اس عجیب ارتقا کی منزل بھی۔ جب تک کان سلامت ہیں زبان سلامت رہے گی۔ سماعت کو معدوم ہونے سے بچائیں، ایک دوسرے کو سنیں اور برداشت کا حوصلہ پیدا کریں۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *