ملتانی لڑکی اور ٹین ایجر عشق۔۔۔۔سعید ابراہیم

ہمارے لئے یادِ ماضی کی صورت کبھی عذاب جیسی نہیں رہی ہاں البتہ ہلکی ہلکی کسک سے انکار نہیں۔ بہت سے قصے ہیں جنہیں یاد کریں تو نشہ سا چھانے لگتا ہے اور کچھ ایسے بھی کہ خود پہ ہی ہنسی آنے لگتی ہے۔

یہ تب کی بات ہے جب ہم نویں کلاس میں پڑھتے تھے اور بہت ہی بدھو ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ احساسِ کمتری کی کئی جان لیوا صورتیں تھیں جو ہمارے وجود سے چمٹی تھیں۔ ایسے میں مصیبت یہ کہ ہر اچھی صورت پہ دل آجاتا تھا۔ وہ بھی ایک ایسی ہی صورت تھی جو ہمارے پڑوس کے گھر میں ملتان سے آئی تھی اور ہمارے حواس پر چھاگئی تھی۔ وہ شاید  آٹھویں میں پڑھتی تھی اور اپنی چاچی کے ساتھ جنہیں ہم باجی کہتے بھی تھے اور جی جان سے سمجھتے بھی تھے، گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئی تھی۔ اسے دیکھا تو لگا ایسی اپسرا ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اور شاید  اتنی خوبصورت لڑکیاں صرف ملتان میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ ہم نے ملتان کبھی نہیں دیکھا تھا مگر وہ ہمارے لئے ملتان کا استعارہ بن گئی، رومان سے لبریز ایک خوبصورت شہر۔

جس گھر میں وہ اپسرا اتری تھی وہاں اب ہم بہانے بہانے سے دن میں کئی کئی بار جانے لگے کہ اس کا دیدار کئے بنا چین نہیں ملتا تھا۔ گھروں کی چھتیں گویا سانجھی تھیں۔ بس بیچ میں ڈیڑھ فٹ موٹی اور اتنی ہی اونچی دیوار تھی جو مشترکہ نشست کا کام دیتی تھی۔ گرمیوں میں سبھی لوگ چھتوں پر سوتے تھے۔ اگرچہ ہم دیر تک سونے کے عادی تھے مگر یہ عشق کا معجزہ تھا کہ ہماری آنکھ ہمیشہ اس کے جاگنے سے پہلے ہی کھل جاتی اور ہم اس کے جاگنے کے منتظر رہتے۔ اسکے جاگنے اور اسے جاگتے دیکھنے کا منظر کسی پرخلوص عبادت سے بڑھ کے تھا۔ وہ جاگنے پر اتنی تازہ دکھائی دیتی جیسے کہ سوئی ہی نہ ہو۔ اس کے جاگنے کے کئی مناظر آج بھی یاد داشت میں کسی پینٹنگ کی طرح فریم ہوئے رکھے ہیں۔

جیسے ہی رات پڑتی ہم سب بچے پڑوس والے چاچا کی چارپائی پر اکٹھے ہوجاتے اور ان سے کوئی کہانی سنانے کی فرمائش کرتے۔ ایک روز کہانی سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ ہمارے پاؤں پر کسی کے پاؤں کی انگلیاں سرسرا رہی ہیں۔ ہم نے یکلخت پاؤں یوں پیچھے کھینچا جیسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو اور وہاں سے بھاگ آئے۔ ہم تو بس پجاری تھے سو دیوی کے لمس کا تصور کسی گناہ سے کم نہیں تھا۔ تب ہمارے نزدیک لڑکیوں کی دو ہی اقسام تھیں۔ ایک دیوی اور دوسری چٹائی۔ محبت صرف دیوی سے کی جاسکتی تھی اور چٹائی نما لڑکیاں وہ تھیں جن کے ساتھ سب کچھ روا تھا مگر انہیں احترام نہیں دیا جاسکتا تھا۔ ذہن اور عمل میں اس دوئی کے خاتمے میں بڑا وقت لگا اور بعد میں خود کو ملامت بھی کیا۔

خیر وقت گزر رہا تھا اور ہمیں ڈر تھا کہ کہیں بہت جلدی سے گزر نہ جائے۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ اس نے واپس جانا ہی تھا سو چلی گئی۔ ہماری بڑی بہن سے ان کی اچھی خاصی دوستی بن چکی تھی۔ ہم ہر وقت اسی سوچ میں رہتے کہ اس سے رابطے کی کوئی سبیل کیونکر بنے۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا کہ بہن کی جانب سے خود ہی ایک جذباتی سا خط لکھ کر اسے پوسٹ کردیا۔ امید کے مطابق اس کا جوابی خط بھی موصول ہوگیا۔ اس کے بعد دوتین روٹین کے خط اور لکھ بھیجے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ کہیں یہ راز بہن پر نہ کھل جائے کہ ان کے نام سے ہم خط و کتابت کررہے ہیں، سو ہم خط پوسٹ کرنے کے بعد مسلسل ڈاکئے کے آنے کی خبر رکھنے لگے تاکہ جوابی خط گھر تک نہ پہنچے۔ ہماری شدید خواہش تھی کہ کسی طرح ہمارے دل کا حال اس لڑکی تک پہنچ جائے۔ اس مقصد کیلئے ہم نے بہن کی جانب سے ایک اور خط لکھا جو آخری ثابت ہوا۔ اس خط میں ہم نے بہن کی جانب سے اپنی حالتِ زار کا دردناک نقشہ کھینچا۔ امید تھی کہ اس بتِ کافر کا دل پسیج جائے گا۔ مگر جواب اس کے الٹ آیا اور ہماری ساری امید اوندھے منہ گر پڑی۔ اس نے صاف لکھ دیا کہ اپنے بھائی کو سمجھاؤ کہ میں تو اسے صرف بھائی کی طرح سمجھتی ہوں۔ اب جن جن دوستوں کے ساتھ کبھی اس سے ملتی جلتی واردات بیت چکی ہے وہ ہماری اذیت کا اچھی طرح سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس نیک بخت کا جواب اتنا دو ٹوک تھا کہ اب کسی امید کی امید رکھنا بھی بے کار تھا مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا۔

اسی دوران ہم نے ان کے ایک دور پار کے کزن سے راہ و رسم بڑھائے کہ کم از کم محبوب کی خبر تو ملتی رہے۔ ایک روز ہمیں اس کزن کے خط سے حیران کردینے والی خبر ملی۔ لکھا تھا کہ تم جسے جی کا روگ بناکے بیٹھے ہو، اس کا تعلق پہلے ہی سے محلے کے کسی لڑکے سے تھا۔ اور حال ہی میں والدہ نے بڑی رازداری سے اس لڑکی کا  ابارشن کروایا  ہے۔ یہ خبر تو جیسے میرے دکھ کا مداواہ ثابت ہوئی کہ شکر ہے جسے میں دیوی سمجھ کر پوج رہا تھا وہ چٹائی نکلی۔

پھر کوئی چھ سات برس بعد خبر ملی کہ اس کی شادی طے پاچکی ہے۔ ہم نے سوچا کہ چلو اسی بہانے ملتان کی سیر کرلی جائے اور آخری بار اس کے درشن بھی۔ ہم اپنی پڑوس والی باجی کے گھر جا پہنچے۔ اب انتظار یہ تھا کہ کسی صورت اسکی صورت دیکھ لیں جس کی خاطر اتنا طویل سفر کیا۔ اور پھر ایک روز ہم نے دیکھا کہ ایک بھدے بدن کی مالک لڑکی کسی کام سے اس گھر میں آئی اور کچھ دیر کے بعد واپس چلی گئی۔ بعد میں باجی کے بیٹے سے معلوم پڑا کہ وہ وہی لڑکی تھی۔ ہم نے یہ سب جاننے کے بعد مزید شکر کیا اور اپنے ٹین ایجر عشق پر دل ہی دل میں خوب قہقہے بھی لگائے۔

کہانی بظاہر  اختتام پذیر ہوئی مگر ہم چاہتے ہیں اس میں ایک اور ضمنی واقعہ شامل کردیا جائے جو اس کی دلچسپی تھوڑی اور بڑھادے۔ ہوا یوں کہ ہم ایک دن نچلی منزل کے کمرے میں شادی میں آئے کچھ واقف کاروں کو مکیش کا گیت بڑی ترنگ میں سنارہے تھے۔ گیت ختم کرکے ہم پانی پینے کیلئے صحن میں آئے تو اوپر دھیان چلا گیا جہاں ایک لڑکی گھٹنوں پہ ٹھوڑی ٹکائے بڑے انہماک سے ہمارا گیت سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *