فنا میں بقا کی تلاش۔۔۔۔محمد حسین

اس وقت زمینی، فضائی یا بحری طور پر انڈیا اور پاکستان کے مابین عملاً جنگ شروع ہو نہ ہو مگر دو طرح کے مائنڈ سیٹ کے مابین یہ جنگ عملاً شروع ہو چکی ہے بلکہ عروج پر ہے۔ دونوں ملکوں میں ایک طرف جنگ طبقہ آپس میں ذرائع ابلاغ، نجی محفلوں، خوابوں اور آپس کی بحثوں میں فتح و شکست کے حساب کتاب میں لگے ہیں، دوسری طرف دونوں ملکوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فتح و شکست کے خول سے نکل کر سوچنے کی صلاحیت ہنوز رکھتا ہے۔ وہ فتح و شکست اور جنگی لسانیات کا آسرا لیے بغیر سرے سے جنگ کی نفی اور امن کی تلقین کررہا ہے۔

جنگ میں کسی کی شکست کا معنی بھی تباہی ہے اور فتح کا مطلب بھی تباہی ہے۔ جنگ میں ہار ہمیشہ غریب، نادار، نہتے عوام کی ہوتی ہے اور فتح ہمیشہ انا، ضد، ہٹ دھرمی، مفاد پرست اشرافیہ، مقتدر جنگجوؤں اور اسلحہ بیچنے والوں کی۔ جنگ پیشہ خیمہ ہے تباہی کا، علامت ہے بربادی کی، آہ و فغان کی، آگ و خون کی، چیخ و و پکار کی، چھلنی جسموں کی، زخمی بدنوں کی، بے غسل و کفن لاشوں کی، مفلوج کرنے دینے والے لاعلاج امراض کی، بے پناہ بیماریوں کی ، مرداروں کے تعفن کی، یتیم بچوں کی، بے آسرا عورتوں کی، سسکیوں اور آہوں کی، ظلم و بربریت کی، اندھے قتل و غارت کی، خوف کی، شک کی، مارنے کی مرنے کی، کھنڈرات میں بدلنے کی۔ جنگ نام ہی فنا کا ہے، لیکن معلوم نہیں لوگ کیوں اس میں بقاء تلاش کرتے ہیں۔ ہاں یہ بقاء ضرور ہے ان انسانی اوصاف سے عاری انسان نما درندوں کے لیے جو ہمیشہ خون کے پیاسے ہوتے ہیں، ان کی معیشت، اقتدار اور قوت نہتے لوگوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے۔

یہ تیسری دنیا اور ترقی پذیر ممالک کی بدقسمتی رہی ہے کہ وہ اپنی ناکام طرز حکمرانی، بدعنوانی، سیاسی عدم استحکام، نسلی و مذہبی تعصبات و منافرت پر قابو نہ پا سکیں جس کے باعث وہ بدترین سطح پر داخلی شکست و ریخت، خانہ جنگیوں، قتل و غارت اور اندرونی خلفشار کا شکار ہیں، وہ اپنے داخلی مسائل کو مل جل کر حل کرنے کی طرف بڑھانے کے بجائے ایک دوسرے کے لیے مزید مشکلات اور مسائل پیدا کرنے میں باہمی رقابت و مخاصمت سے کام لے رہے ہیں۔ ان کا سرمایہ اور وسائل تعمیر و ترقی، استحکام و خوشحالی پر لگنے کے بجائے فسادات و جنگ پیدا کرنے اور ان سے نمٹنے میں لگاتے ہیں، اس صورت حال میں مفاد پرستوں کا ایسا طبقہ بھی وجود میں آ چکا ہے جن کا مفاد اندرون ملک یا بیرون ملک فساد سے وابستہ ہے۔ اس طبقے کے نزدیک جنگ ان کی معاشی استحکام اور ترقی کا سب سے مؤثر زنیہ و ذریعہ ہے۔ جبکہ اس گلوبل ویلیج اور اقتصادی دوڑ کے اس دور میں یہ امر قابل غور ہے کہ عالمی جنگوں سے فراغت پانے والے ممالک خاص طور پر امریکہ، روس، فرانس، چین وغیرہ اسلحے بنا کر ایک طرف اپنے دفاع کو تو مضبوط کیا ہے لیکن قابل تشویش پہلو یہ ہے ان ممالک نے اسلحے کو اب اپنی معاشی ترقی کا ذریعہ بنا دیا ہے اور دنیا میں اپنے لیے نئے نئے خریدار تلاش کرنے اور اپنے اسلحوں کی کھپت کےلیے مختلف ممالک کو اپنی مارکیٹ بنانے میں تگ و دو کر رہے ہیں۔ چنانچہ وہ امن کے قیام سے زیادہ اسلحہ کی مارکیٹ بنانے اور کہیں نہ کہیں میدان جنگ سجا کے رکھنے پر توجہ دیتے ہیں۔ چنانچہ و ہ خارجہ پالیسی، تزویراتی مقاصد، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کو اپنا استحقاق سمجھتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک د اپنے ہاں اخلی مخاصمت پر مبنی بر سرپیکار گرم ماحول میں ایسی بیرونی مداخلت اور اسلحے کے فروخت کے لیے نئی منڈی سازی کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں۔

تیسری دنیا کی سوچ کی سطح کا عالم یہ ہے کہ یہاں جنگ کی بات کرنا وفادادری، بہادری اور غیرت و حمیت کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے جبکہ امن ، باہمی محبت و احترام، سماجی ہم آہنگی ، مکالمہ کی بات کرنا غداری قرار دی جاتی ہے۔ جس چیز میں سب کی بقاء ہے وہ سازش سمجھی جاتی ہےاور جس میں سب کی فنا مضمر ہے اس میں بقاء، حمیت، غیرت، بہاددری تلاش کی جاتی ہے۔ لوگ قلم کی بجائے اسلحے میں قوت ڈھونڈتے ہیں۔ صحیح و غلط ہونے کا معیار طاقت و اقتدار طے کرتا ہے۔ دھوکہ دہی کو زیرکی، پروٹوکول کو عزت، خوش اخلاقی و کمزوری، سوچنے کو بے وقوفی، تخقیق و تخلیق کو وقت کا ضیاع، سب کے احترام کرنے کو چاپلوسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہاں پورے نظام اقدار کو دوبارہ سے منقح ( redefine ) کرنے کی ضرورت ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *