میں ایک مسئلۂ لاینحل ہوں ۔۔۔ معاذ بن محمود

SHOPPING

کشمور میں دل چیر دینے والا واقعہ رونما ہوا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کشمور میں ایک قیامت برپا ہوئی۔ میں بچوں کا باپ ہوں۔ ایسیخبریں دیکھ کر ان پر سوچنا چھوڑ دیا کرتا ہوں، بات کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میں ان پر بات کروں گا تو ان واقعاتکا مزید عادی ہوتا چلا جاؤں گا۔ لیکن دوسری جانب میں بے حس ہو کر ان کے وجود سے نظر پھیرنے پر مجبور ہوں۔ ذاتی حیثیت میںیہ میری شخصیت میرے کردار کے لیے ایک المیہ ہے۔ کیا کروں کہ ہر مسئلے کا حل دستیاب کرنے کا نہ میں دعوی کرتا ہوں نہ اسقابل کبھی ہو پاؤں گا۔ معلوم نہیں اس وقت اس پر بات کرنے کی جسارت کیسے کر پا رہا ہوں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ چند دل کی باتیںہیں جو بلاوجہ وقت کے صفحے پر بس لکھ دینا چاہتا ہوں۔

میرا خیال ہے کہ میرے بس میں کچھ ہے نہیں۔ میرے ریاستی نمائیندگان اگر انسان کے بچے ہوتے تو پچھلے ۷۰ سالوں میں یہمعاملات مکمل حل نہ سہی کم از کم قابو میں آجانے چاہئے تھے۔ افسوس کہ الٹا یہ بربریت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ مجرم پکڑا گیا مگرایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ جرم کے نتیجے میں ایک اور جرم۔ اپنے ارد گردجرماور اس کی جملہ انواع کی تکرار پر غورکیجیے گا کبھی۔

ایسا کیوں ہے؟ اس کیوں کے پیچھے سینکڑوں محرکات ہیں۔ آپ ان واقعات کی وجہ فحاشی میں ڈھونڈیں یا جنسی گھٹن میں، کہیں نہکہیں پہنچ کر خود کو مطمئن ضرور کر لیں گے کہ چلو وجہ مل گئی۔ میں اپنے طور پر اس وجہ کو ڈھونڈنا بھی ایک مسئلہ سمجھتا ہوں،ایک ایسا مسئلہ جس کا کم از کم میرے پاس کوئی حل موجود نہیں۔

من حیث القوم ہم جرم کے ردعمل میں کوئی عملی ردعمل دینے کی صلاحیت سے قاصر ہوچکے ہیں۔ جرم ہمارے یہاں ایک نارمبن چکا ہے۔ جرم چاہے محلے میں چوری کی شکل میں ہو یا ریاست کی جانب سے فرد کو حبس بے جا میں رکھنے کی صورت میں، بسہمیں اپنا عادی کیے جا رہا ہے۔ جرم ایک انتہائی عمومی سا نارمل سا نارم بن چکا ہے۔ ایک جانب یہ ایک ایسا نارم ہے جو اسوقت تک نارم رہتا ہے جب تک ہم خود اس کا شکار نہ بن جائیں۔ دوسری جانب یہ ایک ایسا نارم ہے جو کبھی بھیسرزردہوجاتاہے۔ جس کے سرزرد ہونے پر اس کی سزا سے بچنے کے ممکنہ راستے موجود رہتے ہیں۔ ان راستوں کے وجود کو ہم شعوری ولاشعوری طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ وجوہات وہ سر ہیں جو ہم مسائل کی نشاندہی کے لیے الزام دھرنے کی شکل میں ڈھونڈتے ہیں۔

سر ہمیں مل جاتے ہیں۔ اب بھی مل جائیں گے۔ لیکن اس سے کیا ہوگا؟ مستقبل میں ایسے واقعات رک جائیں گے؟

نہیں۔ ہرگز نہیں۔

ہاں جرم کا ذکر سن سن کر جو سنسنی معاشرے کا حصہ بنتی ہے اس کا شکار ہونے کے بعد مجرم کو پار کرنے کے لیے جرم کی ایکنئی حد بھی مل جاتی ہے اور باقی معاشرے کے لیے اس حد کو بادل نخواستہ قبول کرنے میں مزید آسانی۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہجرم کا ذکر کرنا بند کر دیا جائے کہ یہ بھی غلط ہوگا۔ میں اس کے کسی حل کا ادراک بھی نہیں رکھتا۔

لے دے کر میرے پاس بس ایک ہی راہ بچتی ہے اور وہ ہے پاکستان سے زندہ بھاگ۔

لیکن

یہ سہولت ہر ایک کو میسر نہیں۔ یہ ذہن میں آتا ہے تو سوچنا پڑ جاتا ہے کہ شاید مجھے یہ privilege حاصل ہے جو چونکہ باقی سب کونہیں لہذا بار بار اس کا تذکرہ بھی نامناسب ہے۔

پھر کیا کیا جائے؟ کیا لب سی لیے جائیں؟ کیا خاموشی اپنا لی جائے؟

پتہ نہیں۔

بعض مریض لاعلاج ہوتے ہیں۔ بعض مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ میرے معاشرے میں ایسے سینکڑوں مسائل موجود ہیں جن کاحل شاید آپ کے پاس ہو، میرے پاس نہیں۔ میرا معاشرہ ایک لاعلاج مریض ہے۔

لیکن

معاشرہ تو مجھ سے ہے، کہ میں اس کی بنیادی ترین اکائی۔

پس صاحب، مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں ایک لاعلاج مریض ہوں۔

SHOPPING

میں ایک مسئلہ لا ینحل ہوں۔

SHOPPING

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *