• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لنکا کی وجودیت۔۔۔۔تحریر: جاوید نقوی/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

لنکا کی وجودیت۔۔۔۔تحریر: جاوید نقوی/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

اتفاق سے ان دنوں میں کولمبو میں ہوتا تھا، جس دن شری گنیش کی مورتی پوری دنیا میں دودھ کی نہریں پی جاتی ہیں۔ ایک عمل جسے منطقی ہندو عوام کی ایک ذہنی بیماری قرار دیتے ہیں جبکہ عقیدت مندوں کےلیے یہ ایک ایمان افروز معجزہ ہے۔

میں بھی سانپ کی طرح بل کھاتے ایک قطار میں لگ گیا۔ جو کہ اکثریتی بدھسٹ کولمبو میں بظاہر گھنگریالے بالوں والے سائیں بابا کے پرستاروں نے منعقد کی تھی۔ مندر میں شری گنیش کی کوئی مورتی نہیں تھی، لہٰذا دودھ کے گیلن ہڑپ کر جانے کا کام سانڈ ”نندی“ اور بھگوان شیوا کے مورتی خود انجام دے رہے تھے۔

میں نے پتھر کے بتوں کے دودھ پینے کے معجزے کو دیکھنے کی کافی کوشش کی مگر مجھے اس کی سائنس بالکل سمجھ نہ آئی۔ مندر کی پچھلی دیوار پر ایک ہندو پنڈت سائیں بابا کی تصویر پر مخفی طور پر پھیلے دھوئیں کا راز بتا رہا تھا۔ یہ غالباً ستمبر 1995 کی بات ہے۔ اس زمانے میں انٹرنیٹ اور واٹس ایپ نہیں تھے۔ مگر دودھ کے معجزے کی بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ یہ تقریباً وہی وقت تھا جب سری ماوو بندرا نائیک ” Siri Mavo Bandaranaik” طوالت عمر کی وجہ سے چہل پہل سے معزور ہوئے جا رہی تھی۔ ان کے بیٹے نے انہیں انڈیا کے پتا پارٹی ”Pitta parthi” سائیں بابا کے درشن کی تجویز دی تھی۔ وہی زعفرانی لباس میں ملبوس گرو جس کے درشن کے لیے سنیل گواسکر کے ساتھ ناقابل بیان دان حاصل کرنے ظہیر عباس بھی گیا تھا۔

بابا جی نے بندرا نائیک کے کان میں کچھ منتر پھونکے اور وہ اس یقین کے ساتھ واپس لوٹی کہ وہ بہت جلد چل پھر سکے گی۔ جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ ایک جسمانی بیماری سے بہادرانہ لڑتی ہوئی فوت ہوگئی۔ اس کے حامیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک بدھسٹ رہنما ریاضت و آنند حاصل کرنے کی خاطر لیٹ گئی ہے۔

آئیے آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ پرانی یادداشت سری لنکا میں ایک غیر معروف مسلمان شدت پسند گروہ کے ایسٹر کے خوفناک قتل عام کے بعد سے مسلسل کیوں میرا پیچھا کر رہی ہے۔ سری لنکا ایک کثیرالثقافتی مرکز ہے اور اس کی جمہوریت انڈیا اور اس کے باقی تمام ہمسایوں سے ایک لحاظ سے مضبوط رہی ہے۔ مگر اس دھرتی پر مذہبی اور لسانی آدم زادوں کا خون خوب بہایا گیا ہے۔ اگر سری لنکا کے سخی ہمسایوں کی مدد و مداخلت میسر نہیں ہوتی تو یہ ہر گز ایسا منظر پیش نہیں کرتا، جو کہ اب پیش کر رہا ہے۔

ہمسایہ جو کہ اس سارے عمل میں سہولت کاری کے فرائض انجام دیے، نے ان لوگوں کے درد کو مزید ابھارا جن کی مسیحائی کا وہ دعویٰ کر رہے تھے۔ باوجود نان الائنڈ موومنٹ [ Non alligned Movement[ کے ایک سرگرم رہنما رکن ہونے کے، سری لنکا بینڈنگ کانفرس میں چین کا قریبی دوست بنا۔ محترمہ بندرا نائیک بڑے مرغوب اور جوشیلے انداز میں ژو انلائی [Zhu Enlai] اور مارشل ٹیٹو [Marshall Tito] سے اپنی دوستی کا ذکر کرتی تھی۔ جب کہ نہرو کی بانہوں میں اس کی ایک بیٹی کی مسکرارتی تصویر اس کے کمرے کی دیوار پر خوبصورتی سے آویزاں تھی۔

جب بائیں بازو کی سنگھالی شاٶنسٹ تحریک نے 1970 میں بندرا نائیک کی حکومت کو گرانے کی دھمکی دی تو بندرا نے اپنی سہیلی ”اندو“ کو فون ملایا کہ وہ استعفیٰ دینےکی تیاری کر رہی ہے۔ اندراگاندھی نے کچھ نہیں کہا۔ بلکہ فوج بھیج کر بغاوت ختم کردی اور اس طرح سری لنکا کی جمہوریت کو تحفظ دی۔

صرف یہی واحد نقطہ نہیں جہاں دونوں ممالک متفق رہے۔ ہمت دینےاور جذبات ابھارنے والے سری لنکا کے قومی ترنہ کے نامو نامو ماتا [Namo Namo Mata] کی جڑیں بھی رابندرا کی سنگیت میں پیوست ہیں۔ جزیرہ کے فلم بنانے والے اسٹار تیسا ابیسکیرا [Tissa Abyskera] نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا، ممکن ہے کہ ”سنہارا لائنز“ رابندر ناتھ ٹیگور کے کسی بنگالی نظم سے لی گئی ہوں۔
ٹیگور کی روحانی آزادی، روشن خیالی اور انسانی اجتماعیت کا خیال قومی سرحدوں سے گزر کر سری لنکا میں ایک بڑے خطرے کا سامنا کرنے والا تھا۔ اپنی نظموں کے بھارتی و بنگلہ دیشی ترانے بننے پر پر اعتماد ٹیگور اب سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد سے سری لنکا میں سب سے بڑے خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہندو انتہا پسند آر ایس ایس [Rashtrya Swayamsevak Sangh[ سری لنکا کے بدھسٹ بنیاد پرست بودوبال سینا [Buddhist power Force] سے جا ملا۔ اس سوال کا جزوی جواب تاریخ میں آریائی تعلق برہمنی آر ایس ایس اور بدھسٹ بی بی ایس کے بھکشوٶں کے درمیان رہا ہے دونوں مسلمان دشمن اور عیسائی دشمن ہیں۔ مگر دونوں کے اتحاد کو بیان کرنے کے لیے یہ ایک معمولی سا نقطہ ہوگا۔

فی الوقت سری لنکا پر منڈلاتی مصیبت، مشرق وسطیٰ سے اٹھنے والی آفتوں کا تسلسل ہے۔ اس نے مذہبی و لسانی تضادات کو ابھارا، جس نے سیکیولر پی ایل او [palatine liberation organization[ کو محدود کر کے حماس کو جگہ دی۔ اس نے بہت سارے کثیرالثقافتی عرب علاقوں عراق، شام، لیبیا اور اس سے پہلے لبنان و الجیریا کو تباہ کر کے انہیں مذہبی و لسانی خونریزیوں میں جھونک دیا۔ ہندوستان اس ناسور سے تو ہرگز محفوظ نہیں مگر سیکیولر جمہوریتوں کو یہ خطرہ صرف مسلمان شدت پسندوں سے نہیں۔

سری لنکا پر خونی حملہ شاید خوشی بانٹنے والی دھرتی کو اس کے اکثریتی سیکیولر تاریخ سے کاٹنے اور اس کی تضحیک کرنے کے ایک بہت بڑے منصوبے کا حصہ ہو۔ فرض کیجیے مسلمان بمباروں کو جنوبی ایشیا پر منڈلاتے ایک بہت بڑے خطرے میں آلے کے طور پر استعمال کیاگیا۔ اور یہ خطرہ مسلم شدّت پسندی کی صورت میں بھی ابھرسکتا ہے۔ مگر یہ فاشسٹ ہندو قوم پرستی کے لالچ کے بطور مسلم عیسائی فساد کی صورت میں بھی آسکتی ہے۔

ایک آپسی عمومی مقصد کے لیے آپ غالباً ناممکن اتحادیوں پر ایک نظر ڈالیں۔ مسیحی شدّت پسند امریکہ میں یہودیوں پر ان کے عبادت گاہوں میں حملہ کرتے ہیں۔ اور وہی مسلمانوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ صیہونی اسرائیل اور مسلمان سعودی حکمرانوں نے مسلم عیسائی تعلقات کو توڑنے اور تباہ کرنے میں عراق، شام، فلسطین اور لبنان میں کافی مدد کی۔ ہندو انتہا پسند سری لنکا و میانمار میں مسلمانوں کے خلاف بدھسٹ انتہا پسندوں کی مدد و حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جبکہ سعودی الیٹ [Elite] کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے رکھے ہیں۔وہ سعودی الیٹ جن کے کم ظرف متعصب خیالات نے سری لنکا میں چرچ حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کی۔

سری لنکا پر چھائی بے چینی عالمی اضطراب ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے الیکشنی مہم جو اسٹیو بیکن کے ایران مخالف موقف پر ایک اسرائیلی وزیر نے بینن کی تعریف کی، مگر اسی اسٹیوبینن کو دائیں بازو کے یہودی امریکہ و یورپ میں سامی النسل مخالف سفید فام نسل پرست کے طورپر یاد کرتے ہیں۔

بہر حال بینن یہ دکھانے میں کامیاب ہوا ہے کہ کس طرح بیک وقت سفید فام نسل پرست اور دائیں بازو کے یہودیوں کا اتحادی بنا جسکتا ہے۔ اور کیسے دائیں بازو کے یہودی اور انتہا پسند مسلمان جڑ سکتے ہیں۔ صرف قدامت پرستی ہی ہندو پنڈتوں اور قدامت پرست بھکشوؤں میں اتحاد کرواسکتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ و یورپ و دیگر جمہوریت کو تباہ کرنے کے واحد راستے کے ذریعے ہی سرمایہ داری کے فناپذیر بحرانوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ فی الوقت انہی مضر اثرات کا سامنا سری لنکا، ہندوستان اور باقی کے اڑوس پڑوس کو ہے۔

(لکھاری دہلی میں ڈان نیوز کے نامہ نگار ہیں)

بشکریہ ڈان ڈاٹ کام

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *