احتساب یا غیرجمہوری ہتھکنڈے۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

وہی ہوا جس کے خدشات کئی دنوں سے تھے،سابق صدر آصف علی زرداری کے بعد نیب نے ضمانت مسترد ہونے کے پر حمزہ شہباز کو بھی گرفتار کرلیا،جناب زرداری کو سوموار 10جون کو اسلام آباد  میں واقع زرداری ہاوس سے حراست میں لیا گیا،جبکہ حمزہ شہباز شریف کواگلے دن 11جون کو لاہور ہائی کورٹ کمرہ عدالت سے نیب نے حراست میں لیا،ہر دو پر منی لانڈرنگ کا الزام ہے،جس میں زرداری اسلام آباد ہائی کورٹ جبکہ حمزہ شہباز لاہور ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت پر تھے،جس میں مزید توسیع نہ ہونے پر دونوں کو نیب نے حراست میں لیا،جبکہ زرداری کی بہن فریال تالپور کو فی الحال نیب نے حراست میں نہیں لیا،تمام تر سیاسی وابستگیوں اور اختلافات سے قطع نظر احتساب ہر پاکستانی کی خواہش ہے،لیکن عموماً ہمارے ہاں احتساب کے نام پر ماسوا ئے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے اور کوئی مثبت اور قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔

جنرل ایوب خان کے ایبڈو کے نام پر ملک کی قابل ذکر سیاسی قیادت کو جس طرح کنارے لگاکر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے گئے،وہ سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے،صرف نظام اور چہرے بدلے ہیں،مہرے بدلنے والے وہی ہیں جنہوں نے کل ایبڈو کا ہتھیار استعمال کرکے عوام کی ہر دلعزیز قیادت کو کھڈے لائن لگایا تھا،اور آج یہی کام نیب کے کندھے پر بندوق رکھ کر کیا جارہا ہے ،ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی مملکت میں ہر بار منتخب اور ہر دلعزیز عوامی قیادت کو انہی غیر جمہوری ہتھکنڈوں کا استعمال کرکے منظرہٹایا جاتا رہا ہے۔

بدقسمتی سے نوے کی دہائی میں یہی کام ملک کی دوبڑی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے کے ساتھ رواء رکھا گیا،جب ایک طرف آصف علی زرداری کو ایک عشرے سے زا ئد قید  و بند کی اذیت برداشت کرنا پڑی اور دوسری جانب شریف فیملی کے بزرگ مرحوم جناب میاں محمد شریف کو بھی دھکے دیتے ہوئے ان کے دفتر سے گرفتارکر کے سلاخوں کے پیچھے بند کیا گیا،اور محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کو طویل جلا وطنی کا عذاب بھی سہنا پڑا،تاآنکہ مشرف دور میں لندن میں دونو ں جماعتوں نے تاریخی میثاق جمہوریت سائن کیا اور ایک دوسرے کے خلاف بے جا انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ کسی حد تک رک گیا۔

آمر پرویز مشرف نے بھی اپنے پیش روؤں کی سنت پر عمل کرتے ہوئے سیاست دانوں کے گر د شکنجہ کسنے کے لئے نیب کا ادارہ تشکیل دیا،جس کا اولین مقصد ہی سیاست دانوں کو انتقام کا نشانہ بنا نا اور ذلیل کرنا تھا،اور آج یہ وقت ہے جبکہ ملکی معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے،اندرونی وبیرونی سطح پر پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہیں،پاکستانی قوم تاریخ کی بدترین مہنگائی کا عذاب سہہ رہے ہیں،ایسے میں ملک کو سیاسی طور پر استحکام اور سیاست دانوں کو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے  کی بجائے پارلیمان کو ملک اور ملکی معیشت کے حوالے سے غور کرنے کی ضرورت تھی،لیکن اس کا کیا علاج کہ ملکی تاریخ کی ناکام ترین اور نالائق حکومت جس کا سارا زوراپنے مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے،ایک ایسی حکومت جو سیاسی محاذ پر ہر دروازہ بند کئے جارہی ہے،وقت بدلتے دیر نہیں لگتی،سیاست دانوں کو منظر عام سے ہٹانے والی قوتیں کسی کی سگی نہیں،اُن کوصرف اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں سیاست دانو ں کو آپس میں لڑوا کرہمیشہ اپنا اُلو سیدھا کیا گیاہے،لیکن 72سال گز ر جانے کے باوجود ابھی بھی کچھ عاقبت نااندیش قسم کے نومولود سیاست دان جن میں حکمران جماعت کے اراکین اور خود عمران خان بھی شامل ہیں،ابھی بھی سیاسی طور پر نابالغ ہے،کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑھکیں مارنے اور ایک ذمہ دار ایٹمی صلاحیت کے ملک کی حکومت کی گدی پربیٹھ کر معاملات کوپرکھنا،اُ ن کو سمجھنا اور حالات کی مناسبت سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے یکسر طور پر عاری عمران خان ناجانے کسی خیال اور دنیا میں جی رہے ہیں، کاش وہ اور نیب ماضی سے کچھ سبق ہی حاصل کر لیتے تو نوبت یہاں تک نہ پہنتی،اب جبکہ بجٹ کے دن ہیں،ہماری اقتصادی حالت دگرگوں ہے،لوگ مہنگائی سے تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں،ایسے میں عام آدمی کا مسئلہ نہ تو نواز شریف ہے اور نہ ہی زرداری،اُسے اس بات سے بھی کوئی غرض نہیں کہ کسی کی ضمانت مسترد ہوئی اور کون جیل گیا۔

لیکن ہاں جیسا کہ ماضی میں جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا کہ جنرل ایوب خان کا ایبڈو ہو یا مشرف کا نیب،جناب زرداری سے نہ پہلے کچھ نکلا نہ اب نکلے گا،آٹھ سال جلا وطنی کے دور میں اکیلا حمزہ شہباز مشرف کی فسطائیت اور نیب کی پیشیاں بھگتاتا رہا،لیکن حاصل وصول کچھ نہیں،نیب والے کسی بھی سیاستدان کے خلاف کریشن اور منی لانڈرنگ کے ریفرنسز تو بڑی جلدی بنا لیتے ہیں،لیکن جب معاملہ اعلی عدلیہ تک پہنچتا ہے تو ٹائیں ٹائیں فش،نہ شہبازشریف کے خلاف آشیانہ ہاوسنگ سے کچھ ملا،اور نہ اب زردار ی کے خلاف منی لانڈرنگ میں کچھ حاصل وصول ہو نا ہے،وقت آگیا ہے کہ سیاست دانو ں کے خلاف یہ غیر جمہوری طرز عمل کی روایت اب ختم کی جائے،اس بات کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ کون چور ہے اور کون صاد؟ساری دنیا کو نظر آرہا ہے کہ احتساب کے نام پر جو ڈرامہ کھیلا جارہا ہے،اس کے ہدایت کار اور پیش کار کون ہیں،اتنا سب کچھ کر کے بھی لاڈلے کی حکومت اگر ڈلیور نہیں کرسکی تویہ عوام کے ہر دلعزیز سیاست دانوں کی غلطی نہیں،ان کی اپنی غلطی ہے،پانامہ پیپرزمیں 400پاکستانیوں کے نام تھے لیکن سزا اُسے ملی جس کا نام تک پانامہ پیپرز میں نہیں تھا،پی ٹی آئی ہو یا مسلم لیگ ن،پیپلز پارٹی ہو یا کوئی اور،اس بات کا فیصلہ اب ہو جانا چاہئے کہ یہ ملک کون سی طرز حکمرانی اور کس کے بیانیہ سے چلایا جائے گا،احتساب کرو ضرور کر ولیکن احتساب کے نام پر یکطرفہ طرزعمل اور سیاسی انتقام کی روایت اب ختم ہو جانی چاہئے،حمزہ شہباز اور زرداری کے لئے توپھر بھی لوگ باہر آگئے،کل کہیں یہ نہ ہوکہ آج کے تخت نشینوں کو کل کوئی کندھا دینے والا ہی نہ ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *