نیند میں جاگتے خواب اکثر مل جاتے ہیں۔۔۔۔حسین مرزا

بات یوں ہے کہ  بلال تنویر کی کتاب کے حوالے سے کوئی خواب آیا تھا، اب وہ کس بات کی طرف اشارہ تھا معلوم نہیں اور خشونت سنگھ کو تو یوں پایا تھا جس طرح وہ میرے کمرے میں میری کتابیں ٹٹول رہا ہو اور میں خوشی سے کبھی کوئی کتاب کے بارے ( اُنہی کی لکھی ہوئی) اُنہی کو بتا رہا ہوں۔ اور کبھی اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ  اگر اپنے پسندیدہ لکھاری کے سامنے کسی اور کا نام لے لیا تو کہیں وہ خفا نہ ہو جائے۔ اور دل ہی دل میں کہیں لڈو بھی پھوٹ رہے تھے کہ کہیں سے میری لکھائی نے بھی تو اُنہیں  کوئی نہ کوئی سوچ دی ہو گی جو میری کتابوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہو گئے، مگر میں مکمل طور پر اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا، کہ کہیں کوئی اُوٹ پٹانگ حرکت نہ کر بیٹھوں۔

بہت ساری باتوں کا ہم خود ہی اپنے آپ کو پابند کر لیتے ہیں، اور اکثر اوقات اُن پابندیوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ صبح ذہن میں خیال آیا کہ  ہمیں اپنے بارے میں کبھی کبھی بہت زیادہ خوش گمانی ہونے لگتی ہے کہ  ہر طرٖف ہمارا ہی چرچا ہے، مگر بہت دفعہ ہم غلط بھی ثابت   ہوتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ ضروری فیصلے طے کرتےوقت یا پھر کچھ مقاصد کا تعین کرتے وقت سوچا نہ جائے  کہ ہمارے بارے میں کسی نے کیا سوچنا ہے۔ زندگی کے کچھ ضروری فیصلے ہمارے کردار کی پہچان بن جاتے ہیں۔

اِک کام اگر شروع کر دیا جائے تو ہمت ہارنے سے پہلے اپنے کام کی نیت ٹٹول لینی چاہیے، بہت سارے جوابات آہستہ آہستہ ملنا شروع ہو جاتے ہیں، کچھ غلطیاں ہم میں بھی ہوتی ہیں مگر اُن کا نشان ہم اکثر سامنے پا کر بھی ٹھیک نہیں کر پاتے۔ غلطیاں عادت بننے  سے پہلے قابو کر لی جائیں تو آسان راہیں اور پائیدار سواری۔
عادت پکی ہو گئی ہوتی ہے ناں! عادت کے خلاف کام کرنا بہادر بندوں کی نشانی ہے، یہ ہمت ہر بندہ کہاں سے لائے؟

اچھی عادات چھوڑنے پر ہم بہت جلد آمادہ ہو جاتے ہیں، اور اُس کے بدلے میں کوئی نہ کوئی نیت بھی قائم کر لیتے ہیں اور اُس نیت کو ہم بہت جلد پختہ کر لیتے ہیں۔ اور اُس کے متبادل ہم اپنے کردار میں اِک بُری عادت کا اضافہ بھی کرلیتے ہیں۔ پھر وہ طبیعت پر بوجھ بننے لگتی ہے۔

اسباق یاد رکھنے  تھوڑے مشکل ہوتے ناں! اور ہر سبق پر مناسب وقت پر عمل پیرا ہونا بعض دفعہ اُس سے بھی زیادہ مشکل لگنے لگتا ہے، آج کل میں نے اِس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے، کہ  کام کو اگر منظم طریقے سے کیا جائے تو بہت حد تک دونوں کمزوریوں پر عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اگر ان دونوں مشکلات کا سامنا جوانمردی سے نہ کیا جائے تو نا کامیوں کا ڈر دل میں پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے، پھر بتانا ناگوار گزرنے لگتا ہے خواب میں خشونت سنگھ کے آنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، یا بلال تنویر کی ہی کتاب ذہن پر کیوں اثر ڈال رہی تھی۔
سوال اگر کوئی پوچھے کہ اچھی عادت کیا ہے اور بُری عادت کیا ہے تو میں جواب کے لیے حاضر ہوں، دوسرا کوئی یہ بھی کہے عادت کس عمر میں اور کس طرح پکی ہوتی ہے اور سوچیں بدلتی کیسے ہیں تو یہ اِک بہت گہرا فکر و عمل ہے۔ اس موضوع پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *