• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ریپ اور جنسی بد سلوکی کے متعلق رائج الوقت قانون کے مسائل/ڈاکٹر محمد مشتاق

ریپ اور جنسی بد سلوکی کے متعلق رائج الوقت قانون کے مسائل/ڈاکٹر محمد مشتاق

ریپ کا تصور انگریزی قانون سے آیا ہے اور اس تصور میں کئی مسائل ہیں۔ میں برسوں سے ریپ کے اس تصور پر تنقید کرتا آیا ہوں اور اس رائے کا اظہار کرتا رہا ہوں کہ ریپ کے تصوّر سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے لیکن مجال ہے کہ ہمارے نام نہاد لبرلز کبھی اس تصور پر سوال اٹھائیں جو مغرب سے ہمارے ہاں لایا گیا ہو۔ اب  سینیٹ آف پاکستان میں سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب نے ریپ کے قانون میں ترمیم کےلیے بل پیش کیا ہے، تو اس وجہ سے کچھ نکات پھر پیش کررہا ہوں:
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات!

جب 1860ء میں انگریزوں نے مجموعۂ تعزیراتِ ہند دیا تو اس کی دفعہ 375 میں ریپ کو صرف جنسی فعل کی اس صورت کے ساتھ مخصوص کیا گیا تھا جس میں کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ وطی (sexual intercourse) اس کی مرضی کے بغیر کرے۔ البتہ انگریزوں کے دیے ہوئے  قانون میں بھی اس تعریف کا اطلاق میاں بیوی کے تعلق پر نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ مانا گیا تھا کہ شادی کے عقد (contract) کے نتیجے میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا حق مل جاتا ہے اور اس وجہ سے شادی اور ریپ ایک دوسرے سے الگ ہیں۔

جب 1979ء میں حدود آرڈی نینسز نافذ کیے گئے، تو ان کے ذریعے ریپ کے متعلق دفعات کو پینل کوڈ سے ختم کرکے ان کی جگہ حدود آرڈی نینسز میں “زنا بالجبر” کی دفعات شامل کی گئیں۔ ان دفعات میں بھی زنا بالجبر کو اسی مخصوص صورت تک محدود رکھا گیا اور اس میں شوہر کو استثناء  دیا گیا۔

2006ء میں جب جنرل مشرف کے دور میں حدود آرڈی نینسز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، تو اس وقت زنا بالجبر کے متعلق دفعات ختم کی گئیں اور پینل کوڈ میں دفعہ 375 کا احیاء کیا گیا، لیکن اس دوسرے جنم میں اس دفعہ سے وہ استثنا ختم کردی گئی، جو شوہر کو حاصل تھی۔ یوں بتائے بغیر پاکستان میں marital rape کا جرم تخلیق کیا گیا۔ بتائے بغیر اس لیے کہ ایسا کرنے سے قبل اس سوال پر، کہ کیا شوہر اور بیوی کے درمیان ایسے تعلق کو ریپ کہا جاسکتا ہے، پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوئی، نہ ہی marital rape کے نام سے الگ جرم تخلیق کرنے کی صراحت کی گئی، لیکن ریپ کی تعریف سے شوہر کو حاصل استثنا ختم کرکے عملاً marital rape کا جرم تخلیق کیا گیا۔ شوہر کو بیوی کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہیے، یہ الگ بات ہے لیکن کیا اس عمل کو ریپ کہا جاسکتا ہے؟

2016ء میں دفعہ 377-اے کے ذریعے “جنسی بد سلوکی” (sexual abuse) کی تعریف بھی اس باب میں شامل کی گئی اور اس کی تعریف میں درج ذیل افعال شامل کیے گئے:
fondling, stroking, caressing, exhibitionism, voyeurism or any obscene or sexually explicit conduct or simulation of such conduct either independently or in conjunction with other acts

یہاں بھی جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، ان میں شوہر کےلیے کوئی استثنا ء نہیں ہے اور اس وجہ سے اس دفعہ کا اطلاق بھی شوہر پر ہوتا ہے۔ یہاں بھی عرض یہ ہے کہ شوہر کو بیوی کے ساتھ یہ کام اس کی مرضی کے بغیر نہیں کرنے چاہئیں، لیکن کیا میاں بیوی کے تعلق اور دو ایسے افراد کے درمیان تعلق جو قانونی طور پر اجنبی ہوں، میں کوئی فرق نہیں ہے؟

2021ء میں کی گئی ترامیم کے نتیجے میں ریپ کی تعریف بہت وسیع کردی گئی ہے اور اس میں اب بہت سارے افعال آتے ہیں جن کی نوعیت اور شدت میں کافی فرق بھی ہوسکتا ہے، لیکن ان سب پر انتہائی سزا، یعنی موت کی سزا، مقرر کی گئی ہے۔ یہ کسی صورت مناسب نہیں ہے کیونکہ جرم اور سزا میں تناسب کا ہونا ضروری ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ان اضافہ شدہ امور کو جرائم کی فہرست سے ہی نکال دیا جائے، یا ان پر سزا ختم کی جائے، سوال یہ ہے کہ کیا انھیں ریپ کی تعریف میں شامل کرنا اور ان سب افعال پر ایک ہی نوعیت اور شدت کی سزا مقرر کرنا مناسب ہے؟

کیا اس کے بجائے بہتر یہ نہیں تھا کہ ریپ کے بجائے “جنسی تشدد” (sexual violence)کا جرم تخلیق کرکے اس کے مختلف مدارج اور مختلف قسمیں بیان کی جاتیں اور ان میں ہر قسم پر اس کی نوعیت اور شدت کے لحاظ سےا لگ سزا مقرر کی جاتی؟

اس بات پر بھی نظر رہے کہ 2021ء میں اضافہ کی گئی ریپ کی اس نئی تعریف کا بھی سارا محور مردانہ یا زنانہ عضو مخصوص ہی ہے اور ریپ کی چار قسموں میں ہر ایک کا تعلق اس عضو مخصوص کے ساتھ ہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عضو مخصوص کے ساتھ اتنی جنونی دلچسپی (obsession) کی وجہ کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ریپ کے موضوع پر قانون سازی کرتے ہوئے خود قانون سازوں ہی کو شدید نفسیاتی الجھن لاحق ہوگئی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب ریپ کی تعریف کا سارا محور اب بھی یہ عضو مخصوص ہی ہے، تو پھر بد نامِ زمانہ “دو انگلیوں کے ٹسٹ” پر اعتراض کی کیا تک بنتی ہے؟ جب آپ جرم کی تعریف میں penetrates اور inserts کے الفاظ استعمال کریں گے، تو پھر penetration اور insertion ثابت کیے بغیر جرم کیسے ثابت ہوگا؟

ریپ (دفعہ 375) اور جنسی بدسلوکی (دفعہ 377) کی جو تعریفات مقرر کی گئی ہیں، ان میں ایک اور سنجیدہ مسئلہ یہ ہے کہ ریپ کے معاملے میں “رضامندی کی عمر” (age of consent) 16 سال اور جنسی بد سلوکی کے معاملے میں رضامندی کی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔ اس سے ایک تو ایک کھلا تضاد وجود میں آگیا ہے کہ جو افعال sexual intercourse سے کم تر درجے کے ہیں (جنھیں یہاں جنسی بدسلوکی کہا گیا ہے)، ان کےلیے تو کوئی مرد/عورت 18 سال کی عمر سے قبل رضامندی نہ دے سکے لیکن sexual intercourse کےلیے وہ 16 سال کی عمر میں راضی ہوسکتا/ہوسکتی ہے!

دوسری بات اس سے زیادہ اہم ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس بابر ستار نے پچھلے سال ایک مقدمے میں یہ قرار دیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر کی خاتون کے ساتھ نکاح قانوناً ناجائز اور باطل ہے۔ اس کےلیے انھوں نے ایک تو اس بات سے استدلال کیا کہ نکاح ایک عقد ہے اور عقد میں شامل ہونے والے فریق کےلیے ضروری ہے کہ اس کی عمر 18 سال سے زائد ہو، اور دوسرے انھوں نے ان دو دفعات کی بنا پر یہ قرار دیا کہ اس سے کم عمر والی خاتون اگر ان افعال پر راضی بھی ہو، تو اس کی رضامندی کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ ان افعال کا ارتکاب ریپ اور جنسی بدسلوکی کہلائیں گے! (دیکھیے مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم و دیگر، رٹ پٹیشن نمبر 4227 آف 2021ء)

Advertisements
julia rana solicitors london

جناب جسٹس بابر ستار صاحب نے نہ صرف یہ کہ اس بات کی طرف توجہ نہیں دی کہ Child Marriages Restraint Act, 1929 کی رو سے اگر نکاح کرنے والے مرد کی عمر 18 سال سے، اور عورت کی عمر 16 سال سے کم ہو، تو اس پر سزا مقرر کی گئی ہے لیکن اس قانون نے اس نکاح کو باطل نہیں کیا اور اس بات کی تصریح سپریم کورٹ کرچکی ہے اور یہ معلوم امر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابندی ہائی کورٹ پر لازم ہوتی ہے۔ دوسرے، انھوں نے نکاح کو ایک عام عقد سمجھا جس کےلیے 18 سال کی عمر ضروری ہوتی ہے، حالانکہ نکاح اسلامی اصولوں کی رو سے ایک خاص عقد ہے اور اس کے خاص احکام ہیں۔ اس لیے اس پر عام عقود کے احکام کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ تیسرے، انھوں نے اس آئینی اور قانونی اصول کو نظرانداز کیا جس کی پابندی ان پر لازم تھی کہ تمام قوانین کی تعبیر اسلامی اصولوں کی روشنی میں کی جائے۔ (دیکھیے آئین کی دفعہ 227 اور قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء، دفعہ 4۔) چوتھے، انھوں نے اس امر کو بھی نظر انداز کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں شادی کی عمر اور جنسی عمل کےلیے رضامندی کی عمر میں فرق کیا جاتا ہے اور چونکہ مغربی ممالک میں جنسی تعلق کےلیے شادی کو ضروری نہیں سمجھا جاتا، اس لیے وہاں بالعموم رضامندی کی عمر شادی کی عمر سے کم ہوتی ہے۔ہم چونکہ اسلامی ملک میں رہتے ہیں جہاں شادی کے بغیر جنسی تعلق کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس لیے ہم ایسا نہیں کرسکتے۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply