شعلہ سا لپک جا ئے ہے آواز تو دیکھو۔۔عامر عثمان عادل

SHOPPING
SHOPPING

زباں دل کی رفیق ہو تو ادا ہونے والا ایک ایک حرف سچ کی گواہی لئے سیدھا مخاطب کے دل میں اتر جاتا ہے۔۔
فوجی وردی میں ملبوس چہرے پہ بلا کا اعتماد لئے انتہائی  باوقار انداز میں آپ نے جب بھی لب کشائی  کی جی چاہا آپ بولتے جائیں اور سننے والے ہمہ تن گوش۔۔لیکن آج تو آپ نے کمال کر دیا سچ پوچھیں تو لگا آپ محو کلام کب تھے یہ تو میرے پاکستان کو زبان مل گئی ، اپنے ہمسائے کی غلط فہمیاں دور کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ریکارڈ بھی اچھی طرح ٹھوک بجا کر درست کر دیا کہ اب وہ سکتے میں ہے ۔۔۔۔نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن

اسے کہتے ہیں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ،ہم وطن گواہ ہیں کہ ملکی وقار سالمیت اور دفاع کی ترجمانی بھلا کب کسی نے اتنی جرات مندی سے کی۔آپ کے لہجے میں ملک و قوم کیلئے پایا جانے والا درد اس وقت عیاں ہو گیا جب آپ نے پرائم ٹائم میں ملک و قوم کو درپیش مسائل کا سیاپا کرنے والے ان افلاطونوں کو دعوت دی کہ مختص کریں صرف ایک دن ایک گھنٹہ ان مسائل کے عملی حل کی خاطر بھی  مسنگ پرسنز کا چورن بیچنے والوں کو آپ نے دندان شکن جواب دے کر باور کرا دیا کہ ملکی سالمیت سے بڑھ کر کوئی  شخص عزیز ہے نہ ادارہ آپ کے اٹھائے گئے سوالوں کے بعد بھی اگر کوئی  ان وطن دشمنوں کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے تو اس کے ننگ وطن ہونے پر کوئی  دوسری رائے نہیں۔

حاصل کلام اپنی ہی صفوں میں چھپے میر جعفروں میر صادقوں ابن الوقتوں کو مخاطب کر کے یہ پیغام دینا تھا کہ بس اب بہت ہو چکا مزید کھلواڑ ملکی سلامتی سے اب نہیں ۔۔
اب یہ نہیں چلے گا کہ جس شاخ پر آشیانہ ہو اسی پر آری چلاتے جاو، جس برتن میں کھاؤ  اسی میں چھید کرو۔۔
آپ کی باتوں نے کوئی  ابہام چھوڑا نہ تشنگی، میرے سمیت ہر پاکستانی کا اعتماد اپنی فوج اور سلامتی کے ضامن اداروں پر آج کئی گنا بڑھ گیا ،ہمیں کامل یقین ہے کہ جب تک سرحد پر ایک بھی جوان سینہ تانے کھڑا ہے کوئی  مائی  کا لال اس پاک دھرتی کی جانب میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔
یہ جو ملک سے ہمدردی ہے
اس کے پیچھے وردی ہے

SHOPPING

چند ایک بھٹکے ہوؤں کے سوا پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے اب اس دیس میں کسی ضمیر فروش کی جگہ ہے نہ سخن فروش کی۔۔
اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا لپک جا ئے ہے آواز تو دیکھو!

SHOPPING

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *