خوابوں کے سوداگر ۔۔۔۔ ثنا بتول

دنیا کی سب سے حسین منڈی خوابوں کی منڈی ہے، اچھے مستقبل، روشن ، مضبوط معاشی حالات اور سہانی، خوشگوار پرسکون زندگی کے خواب ـ یہ منڈی زندگی کی ابتدا ہی سے سج جاتی ہے اور آخری دم تک پر رونق رہتی ہےـ اس میں سوداگر بھی ہیں اور صارف بھی۔ اور سب سے مزے کی بات یہ کہ خسارے کا سوال ہی نہیں کیوں کہ طلب کبھی رسد سے کم نہیں ہوتی ، بڑھتی ہی رہتی ہے ـ یہاں خواب تشکیل دینے والے بھی ہیں۔ ان کی طلب کے طریقے ایجاد کرنے والے بھی، دکان سجانے والے بھی، ، گاہکوں کو گھیر کے لانے والے بھی اور انہیں خواب خریدنے پہ آمادہ کرنے والے بھی کہ یہی تو اصل خواب ہے، باقی سب سراب ہےـ تو خسارہ ہو بھی تو کیوں کر ہو ـ بڑے آجر سے لے کر ادنی سے پھیری والے تک سب نفع کما رہےہیں کہ جب تک روئے زمین پہ ایک آدم زاد بھی زندہ ہے تو وہ خواب بنے گا ـ خود پورا کرنے کا ہر طریقہ اختیار کرے گا لیکن اگر کسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے تو وہ خواب آنے والی نسلوں کو سونپے گا۔

دور قدیم میں باپ کا ہنر بیٹے کو منتقل کرنا ایک روایت تھی۔ آج کے دور میں باپ بیٹے کو اپنے سے بہتر جگہ اور مقام پہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اولاد کو اچھی تعلیم دلواتا ہے۔ اس کے لیے اچھے سے اچھے اور مہنگے تعلیمی ادارے کا انتخاب کرتا ہے اور وہیں خوابوں کے سوداگر موجود ہوتے ہیں، جن کا ”صرف ”جیتے جاگتے انسان ان سے وابستہ امیدیں آرزویں اور توقعات ہوتی ہیں ۔ وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی دی ہوئی تعلیم و تربیت بچوں کو مثبت اور متوازن سوچ رکھنے والا انسان بنا سکتی ہے لیکن ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار اچھا انسان ہونا نہیں ہے بلکہ یہاں کامیابی کا پیمانہ پیسہ کمانے کی استعداد ہے۔ جو جتنا زیادہ کمائے اتنا ہی کامیاب۔ تو ظاہر ہے یہی وہ بنیادی لالچ ہے جو ہر اس شخص کو دیا جاتا ہے جو روشن مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔

ہر سال نتیجے کا اعلان ہونے کے بعد طالبعلموں کی قابلیت اور ہنر کی منڈی سجتی ہے۔ وہ طلبا جو امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں۔ ہر ادارے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ طالبعلم اس کا حصہ بنے۔ اس کے لیے کیش پرائیز ، مکمل فری تعلیم اور گاڑی تک کا تحفہ دیا جاتا ہے ۔ اس کے لیے باقاعدہ بڑھ چڑھ کے مقابلہ بھی ہوتا ہے، کسی بھی لالچ کے ذریعے اس طالبعلم کو حاصل کر لیا جائے ۔کیونکہ وہ ایک ایسی کشش ہوتا ہے جو بہت سے دیگر والدین اور طلبا میں تحریک پیدا کرتا ہے کہ وہ بھی اسی ادارے کا انتخاب کریں ۔اگر گہرائی اور سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایسے اداروں میں پڑھنے والے بچوں مین چند ایک طلبا جو نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں، ان کے علاوہ سب واجبی قابلیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ان طلبا کے ہنر کو نکھارنے کے لیے کوئی خاص کوشش بھی نہیں کی جاتی بلکہ غیر معمولی ذہانت کے حامل طلبا کو ہی خاص توجہ دینے کے لیے الگ سے اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ غیرمعمولی ذہین ہیں بلکہ اس لیے کہ وہی مستقبل میں دکان چمکانے کا باعث بنتے ہیں ۔اب وہ بچہ جو اوائل جوانی سے ہی لالچ اور مالی فائدے سے آگاہ اور عادی ہو گا اس سے کیونکر توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معاشرے کے لیے مفید شہری بن سکتا ہے۔اس کی کامیابی کا انحصار اچھے گریڈز اور نمبروں پہ ہوتا ہے ۔نمبروں اور گریڈیز کی دوڑ میں سارا وقت رٹے لگانے میں صرف ہوتا ہے ۔عمومآ ایسے طلبا ہر قسم کی سماجی سرگرمیوں اور تفریح سے کٹ کے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا پڑھائی کا ٹائم ٹیبل اتنا غیر لچکدار ہوتا ہے کہ اس میں ایسی کسی سرگرمی کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ ایک طویل عرصہ ایسی روٹین کا عادی ہونے والا شخص کیسے وہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے جس میں رشتوں ناطوں ، سماجی حوالوں کا پاس اور واضع داری ہو۔ جہاں نمبروں کی دوڑ انسان کی ہر سماجی اور معاشرتی سر گرمی چھین لے وہاں کیونکر ممکن ہے کہ ہمارے ڈاکٹر ، انجینیر اور کسی بھی اور پرسٹیجیس شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ انسانیت اور بھلائی کے لیے سوچیں اور کام کریں گے۔

اس تمام عمل میں نقصان ہے تو کس کا؟ وہ عقل کا اندھا خوابوں کا متوالا صارف جو کچھ سوچے سمجھے بغیرخوابوں کو خریدنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ نہ صرف مال خرچ کرتا ہے بلکہ اپنے جگر گوشوں کو ان دکانداروں کے حوالے کر کے سمجھتا ہے کہ زندگی سہل ہو جائےگی۔ چاہے وہ خود تعلیم سے نا بلد ہی کیوں نہ ہو، بچوں کےبستوں کا بوجھ دیکھ دیکھ کے خوش ہوتا ہے کہ مستقبل سنور گیا۔ خود کھانا کھا سکے یا نہیں، فیس پوری دیتا ہے کہ بچہ خوابوں سے محروم نہ ہو جائے۔ لیکن اس کے ھاتھ کیا آتا ہے اور معاشرے کو کیا ملتا ہے؟ سوچ اور خیالات سے عاری کھوکھلے پڑھے لکھے جاہل جو ڈگریوں کا بوجھ تو اٹھائے ہوتے ہیں لیکن علم و ہنر اور انسانیت سے عاری ہوتے ہیں۔

تعلیم کے اس کاروبار میں خالص کاروباری سوچ رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔جبکہ تعلیم کا تعلق انسان کی شخصیت اور کردار کی تعمیر ، ہنر کی آبیاری اور معاشرے کی بھلائی سے ہے ۔ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ طلبا کی آنکھوں میں خواب سجائے جائیں لیکن وہ خواب جو انہین سوچنے کی تحریک دیں جو انہیں خود سوچنا ،اپنے نقطہ نظر سے دنیا کو دیکھنا سکھائیں ۔ جو اس بات پہ اکسائیں کہ وہ خود اپنی نا قدانہ سوچ سے خود اپنے لیے راستے کا انتخاب کریں۔ یہ اداروں کی اصل ذمہ داری ہے۔ درست ہے جہاں حکومت تعلیم کے مناسب انتظامات نہیں کر سکتی، وہاں اس عمل میں اپنا حصہ ڈالیے لیکن مثبت نقطہ نظر کے ساتھ ۔ اس سے سوداگری پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *