سیاسی ٹیٹریاں اور “ٹی ٹیوں” کا حساب (ایک تجزیہ )

مکالمہ پر محترم حسن نثار صاحب کا کالم “سیاسی ٹیٹریاں اور ٹی ٹیوں کا حساب کے عنوان سے پڑھا ۔ حسن نثار صاحب کو میں پڑھنے سے زیادہ سننا پسند کرتا ہوں۔ سچ بولتے ہیں تو زیادہ تر کڑوا ہی بولتے ہیں ۔ آج کافی دن بعد انکا کوئی کالم پڑھا  اور یقین مانیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  مایوسی ہوئی ۔ ایک نظریاتی جہاندیدہ سینئر تجزیہ نگار جسے سن کر لوگ انسپریش لیتے ہیں ۔ ایسی بات کس طرح کر سکتا ہے ۔ حیرت ہوئی۔

اگر دیکھا جائے تو میں اس مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کرونگا ۔ پہلے حصے میں وہ کہتے ہیں کہ  پی ٹی آئی پر کھل کر تنقید نہ کرنے کی وجہ موجودہ دیگر جماعتوں کی قیادت کی کرپشن اور بار بار انہیں آزما کر بھی ہونے والی مایوسی ہے۔ دوسرے حصے میں جناب ایک کالم کا حوالہ دیتے اور اسے بار بار پڑھنے  کی تلقین کرتے نظر آتے ہیں ۔ اور تیسرے حصے میں شریف فیملی اور زرداری کی کرپشن کے حوالے ہیں اور پھر یہ گلہ کہ یہ سیاسی لوگ پاکستان کے اکیاون سال کھا گئے اور سوائے کرپشن کے کچھ بھی ڈلیور نہ کر سکے ۔

حسن نثار صاحب نے اپنے اس کالم میں جناب ارشاد بھٹی صاحب کے ایک کالم کا بھی حوالہ دیا جسکا عنوان “اور اب پاپڑ فروش” ہے ۔ یہ کالم کیا ہے صرف شریف فیملی اور زرداری فیملی کی کرپشن کے حوالے ہیں اور کچھ نہیں ۔ اسکے علاوہ نثار صاحب نے بھی کرپشن کو بنیاد بنایا ہے تو یہ کوئی  نئی  یا ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ بلکہ ان دونوں نے جو داستان کرپشن بتائی  ہے وہ تو پہلے ہی میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں اسکے علاوہ کیا کچھ ڈھک چھپ کر ہوتا رہا یا آگے بھی ہوگا یہ ایک الگ داستان ہوگی۔ سب کو پتا ہے کہ  یہاں سیاست ایک پرافٹ ایبل بزنس ہے جو بلواسطہ یا بلا واسطہ پیسہ بنانے کا باعث ہے ۔ تو اس پر تو کوئی  دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں پر یہاں میں ایک اور نکتہ اٹھاوں گا ۔

یہ سیاست دان کرپٹ ہیں اور پاکستان کے اکیاون سال بھی کھا گئے لیکن جناب ابھی آپ فیئر الیکشن کرا لیں  آپکو نواز شریف اکثریت سے جیتا ہو ا ملے گا ۔ لاکھ کرپشن کے الزامات کے باوجود  آپکو بھٹو کے نام پر لوگ ووٹ دیتے ہوئے ملیں گے کبھی سوچیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ ۔ تو جناب ایسا ان طاقتوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو آج بھی آپکی پسندیدہ جماعت کی پشت پر موجود اور شریف خاندان کو ایک بار پھر سیاسی شہید کے درجے پر فائز کرنے میں مصروف ہیں ۔ یہ وہی طاقتیں ہیں جو  ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرکے اسے حیات جاوداں عطا فرما گئے ۔ بھٹو کا زندہ ہونا محض ہنسی مذاق نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے اور اسکے ذمہ دار کون ہیں یہ نثار صاحب بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ  ہماری جمہوری قیادت کے پاس ووٹ لینے کاسب سے مضبوط جواز سیاسی شہادت ہوتی ہے۔ پھر لسانیت ، برادری سسٹم، سردار اور وڈیرے اور آخر میں کچھ حصہ مذہبی فرقوں کا بھی ہوتا ہے ۔ دور قدیم و جدید میں سیاسی شہداء دینے کی ذمہ داری تو ایک طاقت نے اٹھا رکھی ہے پھر ووٹ کی دیگر بنیادوں سے نکالنے والی چیز یعنی تعلیم و شعور سے بھی عوام کو دانستہ دور رکھا گیا ہے ۔ پہلے بھی اور آج بھی ہمارے اداروں کی جانب داری واضح ہے ۔

اب آپ کسی پر تنقید کریں یہ کرنے سے رکیں یا اپنا موقف بار بار تبدیل کریں آج عوام میں اتنا شعور آچکا ہے کہ وہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے مابین فرق کر سکیں۔ اور ساتھ ہی سبھی کالم نگاروں کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے  کہ اب اخبار کا نہیں سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ ہر آدمی اپنی رائے دینے میں آزاد اور بعض اوقات آپ سے زیادہ پذیرائی و تائید کی حامل رائے کا مالک بن جاتا ہے ۔ آج اور گزرے ہوئے کل میں دیے گئے بیانات ریکارڈ پر موجود رہتے ہیں سو تنقید یا تائید سے پہلے غور و فکر ضروری ہے۔

(نثار صاحب میرے بڑے اور بہت ہی قابل احترام ہیں ۔ انکے تجربے و بصیرت کے آگے میری حیثیت ایک طالب علم کی سی ہے ۔ تو اگر آپ کو بھی اس تحریر پر کوئی  تبصرہ لکھنا ہوتو تہذیب کا دامن تھام کر لکھیں یہ خالصتاً مکالمہ ہے کسی کو نیچا دکھانے یا بیجا تنقید کرنے کا  ارادہ نہیں۔ )

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *