ناآسُودہ آسودگی”دل خراش”۔۔۔۔۔محمد خان چوہدری

بچے ، خواتین اور کمزور دل احباب اسے مت پڑھیں!
ابا میں ہوں تیری بیٹی مقدس،
دیکھ گور کن چاچا تیری قبر بھول گیا پر میں نہیں ،
کوئی  بات نہیں  رات ہے اندھیرا ہے،
اچھا ابا میں جا رہی ہوں،
اسی مبشر کے ساتھ،
یاد ہے نا جب تو نے ہم دونوں کو غیر حالت میں دیکھا تھا
اور مبشر ننگا بھاگ کے رات کی رانی کے جھاڑ کے پیچھے چھپا تھا،
کتنا مارا تھا تو نے اسے،
وہ منتیں کرتا رہا،
کہتا رہا کہ وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے پر
تو نہیں  مانا تھا نا،
وہ گاؤں چھوڑ کے چلا گیا تھا،
وہی رات کی رانی کا جھاڑ جہاں دو سانپ رہتے تھے،
ایک سانپ تو نے مار دیا تھا،
اور دوسرے نے تجھے ڈس لیا تھا
اس کے ڈسنے سے ہی تو ،تُو مرا تھا،
مجھے بھی بندوں نے ڈسا پر میں مری نہیں ۔اور زندہ بھی نہیں  رہی،
یہ کہانی میں نے کسی کو نہیں  سنائی  اور نہ سناؤں گی
بس تو سن لے تا کہ میرا من ہلکا ہو جاۓ
اور میں یہ سب بھلا دوں،
اماں کو تیری موت کے بعد میں نے بہت منع کیا
کہ تو خود اندھی ہے بیمار ہے پیسہ ہے نہیں
تو تیرے چوتھے کے چکر میں نہ پڑے،
پر وہ نہیں  مانی تھی،
لاٹھی ٹیکتی جا کے مولوی کو کہہ آئی ،
پھر پتہ ہے کیا ہوا
مولوی اپنے پاس سے کھانا بھی لے آیا،
جب ختم ہو گیا ناں،
تو بچا ہوا کھانا پیک کر کے مجھ سے بولا
کہ میں اس کے گھر پہنچا دوں،
عجیب بات کہ اس کا گھر خالی تھا،
اندر داخل ہوۓ تو اس نےباہر کے دروازے کی کنڈی لگا دی ،
اور مبشر والا کام کیا،
ابا کوئی  کسی کو ایسے ہی تو کھانا نہیں  دیتا نا،
مولوی کا گھر جب خالی ہوتا وہ مجھے لے جاتا
اور ماں مجھے خوشی سے بھیج دیتی ممنون جو تھی ،
پھر ایک شام ماں سخت بیمار ہو گئی ،
گھبرا کے میں دوائیوں والی دکان ہے نا،
جس پے بشیرا ہوتا ہے وہاں گئی
تو بشیر میرے ساتھ کچھ دوائی  لےکے آگیا،
اس نے اماں کو گولیاں کھلائیں
اور ایک ٹیکہ لگایا، ماں سو گئی ،
بشیر مجھے رسوئی  میں لے گیا،
کہنے لگا ماں کافی دیر تک نہیں  جاگے گی،
اس نے دوائی  کی قیمت وصول کر لی،
پھر روز رات کو وہ ماں کو ٹیکا لگانے آتا
کہ ماں اس کے بغیر سو نہیں  پاتی تھی
اور سخت بے چین ہوتی تھی،
ایک دن میں حاجی صاحب کی ہٹی سے چینی اور پتی ادھار لائی ،
دو دن بعد حاجی صاحب دوپہر کو
جب لوگ گرمی کی وجہ سے اپنے گھروں میں تھے،
خود چینی، پتی ،چاول، گھی آٹا اور کیا کچھ دینے آۓ،
ماں اسی جھاڑ کے سایہ میں پلنگڑی پر لیٹی تھی،
حاجی صاحب نے خاموشی سے سارا سودا رسوئی  میں میرے حوالے کیا،
پچھلے ادھار سمیت قیمت وصول کر کے گئے
ابا سن رہے ہو نا،
دو ہفتے پہلے ماں مر گئی  ،
اس کی قبر تھوڑی دور ہے
اس سے میں نے کچھ نہیں  کہنا،
وہ زندہ ہی کب تھی،
ہوتی تو تم سے مبشر والی بات منوا لیتی،
ہاں میں بھول گئی
ماں جس دن مری اسی دن مبشر پہلی دفعہ گاؤں آیا،
اسے تیرے مرنے کی خبر بھی نہیں  تھی،
ہے نا پکا پاگل ،
کہتا ہے اب نکاح کر لیتے ہیں ،
میں نے اسے ہنس کے کہا
کہ مولوی میرا نکاح نہیں  پڑھاۓ گا،
پریشان ہو گیا،
خیر میں نے اسے یہ کہہ کے ٹال دیا
کہ تم مولوی کو منع کر کے مرے تھے،
اچھا ابا میں آج رات مبشر کے ساتھ شہر جا رہی ہوں ،
اور وہاں اس کے ساتھ ہی رہوں گی،
ارے ہاں میں نے تیرا ڈھارا ,
حاجی صاحب کو چالیس ہاں پورے چالیس ہزار میں دے دیا ہے،
پیسے میرے پاس ہیں،
حاجی خوش ہے کہ اسے میرے سمیت ڈھارا مل گیا ہے
مبشر سے میں نکاح نہیں  کروں گی
کیونکہ تم نے اجازت نہیں  دی تھی نا
اچھا ابا اب میں جاؤں،
رات بہت ہو گئی ہے،
زندہ رہی تو کبھی آؤں گی
چاچا گور کن کو پیسے دے کے جارہی ہوں
کہ وہ تیری قبر پکی کروا دے
اور اس پے کتبہ بھی لگاۓ
جس پے یہ لکھا ہو گا،
یہ قبر، مقدس بی بی کے باپ کی ہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *